اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ مصر اور پاکستان کے درمیان گہرے تاریخی، سیاسی و اقتصادی تعلقات ہیں، کورونا وائرس کی وبا کے باعث عالمی وعلاقائی سطح پر مشکل صورتحال کا سامنا رہا، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں کورونا وائرس کی وبا کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کی گئی، حکمت عملی کے اچھے نتائج برآمد ہوئے …
سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم سے مصر کے سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون، ادارہ جاتی روابط،اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ مصر اور پاکستان کے درمیان گہرے تاریخی، سیاسی و اقتصادی تعلقات ہیں، کورونا وائرس کی وبا کے باعث عالمی وعلاقائی سطح پر مشکل صورتحال کا سامنا رہا، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں کورونا وائرس کی وبا کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کی گئی، حکمت عملی کے اچھے نتائج برآمد ہوئے اور عالمی اداروں نے بھی اس کی تعریف کی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے مصر کے سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے پیر کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ملاقات میں دوطرفہ تعاون، ادارہ جاتی روابط،اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات میں قائد ایوان سینیٹ ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان گہرے تاریخی، سیاسی و اقتصادی تعلقات ہیں۔ کورونا وائرس کی وباکے باعث عالمی وعلاقائی سطح پر مشکل صورتحال کا سامنا رہا۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں کورونا وائرس کی وباکے چیلنج سے نمٹنے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکمت عملی کے اچھے نتائج برآمد ہوئے اور عالمی اداروں نے بھی اس کی تعریف کی۔ صحت کے ساتھ ساتھ معیشت کا بھی پہیہ چلتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل صورتحا ل میں معاشی میدان میں کئی کامیابیاں حاصل کیں۔ تعمیرات اور اس سے متعلقہ صنعت بھرپور طریقے سے فعال ہو چکی ہے۔ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے۔ قائد ایوان سینیٹ ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری کیلئے پاکستان پرکشش ملک بن چکا ہے۔ اسلام فوبیا کی حالیہ لہر نے عالمی سطح پر پُرامن بقائے باہمی کیلئے خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔ اظہار رائے کے نام پر دوسرے مذاہب وعقائد کی تضحیک قابل مذمت جرم ہے۔ ایسے اقدامات سے مذہبی منافرت اور تفریق پیدا ہوتی ہے۔قائدا یوان سینیٹ نے پارلیمانی و ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی وفود کے تبادلوں میں تیزی لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر روابط کے استحکام ادارہ جاتی تعاون بڑھانے سے تعلقات کو مزید بلندیوں پر لے جانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔







