اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):سینیٹ نےقواعد و ضوابط میں ترامیم کی منظوری دے دی۔پیر کوایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹ میں مسلم لیگ (ن )کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے تحریک پیش کی کہ قواعدضابطہ کار وانصرام کارروائی سینیٹ 2012ء کے قواعد میں مجوزہ ترمیم کو قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ کہ قواعد کی کئی شقوں خصوصاً قواعد 14، 15، …
سینیٹ نےقواعد و ضوابط میں ترامیم کی منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):سینیٹ نےقواعد و ضوابط میں ترامیم کی منظوری دے دی۔پیر کوایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹ میں مسلم لیگ (ن )کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے تحریک پیش کی کہ قواعدضابطہ کار وانصرام کارروائی سینیٹ 2012ء کے قواعد میں مجوزہ ترمیم کو قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ کہ قواعد کی کئی شقوں خصوصاً قواعد 14، 15، 16، 94، 96، 171، اور 172 (F) میں اب بھی سابقہ فاٹا (قبائلی علاقہ جات) کا حوالہ موجود ہے، حالانکہ فاٹا کو آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا کا بار بار ذکر آنے سے عملدرآمد میں رکاوٹ آتی ہے، اس لئے ان حوالوں کو حذف کیا جا رہا ہے۔اجلاس کے دوران سینیٹر محسن عزیز نے بل میں بعض مزید ترامیم تجویز کرنے کی خواہش ظاہر کی تاہم چیئرمین سینیٹ نے وضاحت کی کہ اس کے لئے رولز کے مطابق سات روزہ پیشگی نوٹس دینا ضروری ہے۔
سینیٹر علی ظفر نے بل کی چند دیگر شقوں پر اعتراضات اٹھائے۔ ان کے مطابق ترمیم شدہ بل میں محض فاٹا کا ذکر حذف نہیں کیا جا رہا بلکہ دیگر قابلِ غور تبدیلیاں بھی شامل ہیں جیسے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی کی صورت میں اجلاس کی صدارت کے لئے سیکرٹری سینیٹ کو پینل آف چیئرمین کے اعلان کا اختیار دیا گیا ہے۔سینیٹر علی ظفر نے رائے دی کہ یہ اختیار صرف چیئرمین سینیٹ کے مشورے سے استعمال ہونا چاہئے تاکہ پارلیمانی اختیار متوازن رہے۔
سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے تجویز دی کہ سیکرٹری سینیٹ کو یہ اختیار چیئرمین کے مشورے سے دیا جانا چاہئے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔عرفان صدیقی نے وضاحت کی کہ ترمیم کا مقصد صرف پینل آف چیئرمین کا اعلان ہے نہ کہ انتخاب اور یہ اختیار محض انتظامی نوعیت کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کوئی ترمیم لانا چاہتی ہے تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ایوان اتفاق رائے سے تحریک کی منظوری دے دی جس کے بعد "قواعد و ضوابط میں ترامیم کومتفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔








