سینیٹ نے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2020ئ‘ ایئرفورس اور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020ءکی منظوری دے دی

اسلام آباد ۔ 8 جنوری (اے پی پی) ایوان بالا نے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2020ئ‘ پاکستان ایئرفورس (ترمیمی) بل 2020ءاور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020ءکی منظوری دے دی ہے۔ جس کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف، چئیرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، پاک فضائیہ کے سربراہ اورپاک بحریہ کے سربراہوں کی تقرریوں یا ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے …

اسلام آباد ۔ 8 جنوری (اے پی پی) ایوان بالا نے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2020ئ‘ پاکستان ایئرفورس (ترمیمی) بل 2020ءاور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020ءکی منظوری دے دی ہے۔ جس کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف، چئیرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، پاک فضائیہ کے سربراہ اورپاک بحریہ کے سربراہوں کی تقرریوں یا ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا ۔ بل کے تحت بری ‘ بحری اور پاک فضائیہ کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کی مدت ملازمت میں وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تین سال کے لئے دوبارہ تقرری کر سکیں گے۔ بدھ کو ایوان بالا میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے تحریک پیش کی کہ پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2020ءزیر غور لایا جائے۔ ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد چیئرمین نے بل کی ایوان سے یکے بعد دیگرے تمام شقوں کی منظوری حاصل کی۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے تحریک پیش کی کہ پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2020ءمنظور کیا جائے۔ ایوان بالا نے بل کی منظوری دے دی تاہم اس دوران جماعت اسلامی، جے یو آئی (ف)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ارکان نے بل کی مخالفت کی۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے تحریک پیش کی کہ پاکستان ایئرفورس (ترمیمی) بل 2020ءزیر غور لایا جائے۔ ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد سپیکر نے بل کی تمام شقوں کی یکے بعد دیگرے منظوری حاصل کی جس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک نے تحریک پیش کی کہ پاکستان ایئرفورس (ترمیمی) بل 2020ءمنظور کیا جائے۔ سینیٹ نے اس بل کی بھی منظوری دے دی۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے تحریک پیش کی کہ پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020ءزیر غور لایا جائے۔ ایوان سے پہلی خواندگی کی منظوری کے بعد چیئرمین نے بل کی یکے بعد دیگرے تمام شقوں کی منظوری حاصل کی۔ پرویز خٹک نے تحریک پیش کی کہ پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020ءمنظور کیا جائے۔ ایوان بالا نے اس بل کی بھی منظوری دے دی۔ بل کے تحت آرمی ایکٹ کی سیکشن 8 اے کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تین سالوں کے لئے جنرل رینک کے آفیسر کو چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تقرری کر سکیں گے۔ بل کے مطابق شق 8 بی کے تحت تعینات آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے تحت قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لئے وزیراعظم پاکستان کی ایڈوائس پر صدر مملکت مزید تین سالوں کے لئے چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر یا ان کے عہدے کی معیاد میں توسیع کر سکیں گے۔ بل کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری یا ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔ بل کی شق 8 سی کے مطابق آرمی چیف کے عہدے کی ریٹائرمنٹ اور ملازمت کی حدود کا تعین کیا گیا ہے۔ اس شق کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر اور کسی جنرل کی ملازمت کی مدت کی شرائط اور محدودات کا تعین چیف آف آرمی سٹاف یا آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کے ضمن میں نہیں ہوگا بشرطیکہ اس کی عمر 64 سال سے زیادہ نہ ہو۔ ترمیمی بل کی شق 8 بی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تقرری کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم پاکستان کی ایڈوائس پر پاکستان آرمی کے جرنیلوں ‘ پاکستان نیوی کے ایڈمرلز یا پاکستان ایئرفورس کے ایئر چیف مارشل میں سے کسی ایک کا تین سال کی مدت کے لئے تقرر کر سکیں گے۔ پاکستان ایئرفورس (ترمیمی) ایکٹ 2020 کے تحت صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے سے چیف آف دی ایئر سٹاف کا دوبارہ تقرر تین سال کی اضافی مدت کیلئے کرسکیں گے یا چیف آف ائیرسٹاف کی معیادمیں تین سال کیلئے توسیع کرسکے گا، ایسی قیودوشرائط پر جن کا تعین صدرمملکت، وزیراعظم کے مشورے سے، قومی سلامتی کے مفاد میں یا وقتاً فوقتاً ہنگامی صورتحال میں کرے۔اس ضمن میں تقرر کرنے والی اتھارٹی کی جانب سے صوابدید کے استعمال پر کسی بھی عدالت کے روبروکسی بھی وجہ سے کوئی بھی اعتراض نہیں کیا جائے گا۔پاکستان نیوی ایکٹ (ترمیمی ) بل 2020 ءکے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے سے پاک بحریہ کے سربراہ کا دوبارہ تقرر تین سال کیلئے کرسکیں گے۔دوبارہ تعیناتی یا تقرری کیلئے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 64 سال مقرر کی گئی ہے۔قبل ازیں ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کی پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2020ئ، پاکستان ایئر فورس (ترمیمی) بل 2020ءاور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020ءکی رپورٹیں پیش کر دی گئیں۔ بدھ کو ایوان بالا میں قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر ولید اقبال نے قائمہ کمیٹی برائے دفاع کی تینوں بلوں کے حوالے سے یکے بعد دیگرے قائمہ کمیٹی کی رپورٹیں ایوان میں پیش کیں۔