سینیٹ کی استحقاق کمیٹی کی پی آئی اے اور اے ایس ایف کو عملے کی بدسلوکی پر تادیبی کارروائی کی ہدایت

سینیٹ کی استحقاق کمیٹی کی پی آئی اے اور اے ایس ایف کو عملے کی بدسلوکی پر تادیبی کارروائی کی ہدایت

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):سینیٹ قواعد و ضوابط و استحقاق کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں سینیٹر سید وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز سعدیہ عباسی، ثمینہ ممتاز زہری، پلواشہ محمد زئی خان، فیصل سلیم رحمان، جان محمد اور دوست علی جیسر نے شرکت کی جبکہ استحقاق تحریک کے محرک سینیٹر بلال احمد خان مندوخیل نے بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت کی۔

سینیٹ قواعد و ضوابط و استحقاق کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر پلواشہ محمد زئی خان کی جانب سے 24 دسمبر 2025ء کو ایوان میں وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف 19 دسمبر 2025ء کو منعقدہ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس کے دوران مبینہ بدسلوکی کے حوالے سے پیش کی گئی استحقاق تحریک، جو کمیٹی کی 7 اپریل 2026ء کی سفارش کے مطابق زیر غور تھی مؤخر کردی گئی۔کمیٹی نے سینیٹر بلال احمد خان مندوخیل کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز نمبر PK-326، کوئٹہ سے اسلام آباد، میں 7 فروری 2026ء کو پی آئی اے کی کیبن کریو اسٹاف رکن صائمہ رانا کی جانب سے مبینہ بدسلوکی کے حوالے سے پیش کی گئی استحقاق تحریک پر غور کیا۔

یہ معاملہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں بھی زیر غور آیا تھاجس میں سفارش کی گئی تھی کہ متعلقہ اہلکار سینیٹر بلال خان مندوخیل سے رابطہ کرکے معذرت کرتے تو معاملہ حل ہوسکتا ہے تاہم سینیٹر بلال احمد خان مندوخیل نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پی آئی اے کی جانب سے کسی ذمے دار نے بھی ان سے رابطہ نہیں کیا لہٰذا انہوں نے ملازمت سے برطرفی سمیت تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا۔کمیٹی نے پی آئی اے کے عملے کے طرز عمل پر تشویش کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹرسید وقار مہدی نے آگاہ کیا کہ ملتان ایئرپورٹ سے سگریٹ سمگلنگ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک معاملہ بھی سامنے آیا اور کیا یہ درست ہے کہ ایسا واقعہ ہوا ہے۔

اگر ہوا ہے تو یہ بہت ہی افسوسناک ہے۔ کمیٹی کی رائے تھی کہ پی آئی اے عملے اور ذ مے داروں کی جانب سے اس قسم کا رویہ اور عمل پی آئی اے کی ساکھ کو مجروح کرتے ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ پی آئی اے متعلقہ قانون کے مطابق مذکورہ کیبن کریو کے خلاف محکمانہ تادیبی کارروائی کرے اور اس طرح استحقاق کی تحریک کو نمٹا دیا۔بعد ازاں کمیٹی نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے 24 جولائی 2026ء کو ایمریٹس کی پرواز EK-601 کے چیک اِن کے دوران تعینات اے ایس ایف اہلکاروں کی مبینہ بدسلوکی کے حوالے سے پیش کی گئی استحقاق تحریک پر غور کیا۔

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بتایا کہ لندن سفر کے دوران ایک اے ایس ایف اہلکار نے ان کے ہینڈ کیری بیگ کی تلاشی لی اور ان سے ساتھ موجود نقد رقم کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے مطلوبہ طریقے کے مطابق غیر ملکی کرنسی کی نقد رقم گننے کے لیے سائیڈ آفس جانے کی پیشکش کی تاہم اے ایس ایف اہلکار نے ڈیسک پر ہی بیگ کھول دیا جہاں پہلے ہی تین بیگ تلاشی کے لیے کھولے گئے تھے اور اے ایس ایف اہلکار ان کے ہینڈ کیری بیگ کو بھی ان بیگز کے ساتھ ملا رہا تھا۔

انہوں نے اہلکار سے کہا کہ ان کا بیگ سائیڈ روم میں لے جایا جائے تاہم ڈیوٹی افسر نے نامناسب رویہ اختیار کیا اور ان کی بات نہیں سنی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک پارلیمنٹیرین کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کیا جاسکتا ہے تو عام عوام کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بھی تشویش کا معاملہ ہوسکتا ہے۔سینئر اے ایس ایف افسر نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی اور کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ یہ معاملہ متعلقہ حکام اور پاکستان کسٹمز کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ اے ایس ایف اہلکاروں کو عام عوام کے ساتھ معاملات کرنے کے حوالے سے مناسب تربیت فراہم کی جائے۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سید وقار مہدی نے سینیٹر کی جانب سے اٹھائے گئے معاملے سے اتفاق کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اے ایس ایف کے نچلے درجے کے عملے کو عوام سے بہتر طرز عمل کے حوالے سے مناسب تربیت فراہم کی جائے۔ کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ واقعے کی پندرہ روز کے اندر انکوائری مکمل کی جائے اور ذمہ دار قرار دیے جانے والے افسر کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔

سینیٹر ندیم احمد بھٹو کی جانب سے ڈپٹی کمشنر ضلع کیماڑی، کراچی عبد الستار ہاکڑو کے خلاف پیش کی گئی استحقاق تحریک، جس میں سینیٹر سے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے مقررہ اور طے شدہ وقت پر ملاقات نہ کرنے، طے شدہ ملاقات کے وقت میں کسی بھی تبدیلی سے انہیں آگاہ نہ کرنے، نہ ہی ان کی ٹیلی فون کال کا جواب دینے اور نہ ہی ان سے رابطہ کرنے کی کوئی کوشش کرنے کا معاملہ اٹھایا گیا تھاجو کہ ان کی سینیٹر ندیم بھٹو کی علالت کے باعث موخر کردی گئی۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی جانب سے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے خلاف سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کی ہدایات کی دانستہ عدم تعمیل اور مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے کے حوالے سے پیش کی گئی استحقاق تحریک بھی ان کے بیرون ملک سفر کے باعث موخر کردی گئی۔