سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس، صحافیوں کے خلاف درج اکثریتی ایف آئی آرز خارج کر دی گئی ہیں، کمیٹی کو بریفنگ
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس، صحافیوں کے خلاف درج اکثریتی ایف آئی آرز خارج کر دی گئی ہیں، کمیٹی کو بریفنگ
اسلام آباد۔6مئی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو یہاں کنوینئر سینیٹر سرمد علی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز سید وقار مہدی اور جان محمد کے علاوہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، پنجاب پولیس، سندھ پولیس، بلوچستان پولیس، خیبر پختونخوا پولیس، اسلام آباد پولیس کے نمائندگان اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ صحافیوں کے خلاف مجموعی طور پر 13 ایف آئی آرز درج کی گئیں جن میں سے 11 ابتدائی تحقیقات کے بعد خارج کر دی گئیں۔ مزید بتایا گیا کہ عام شہریوں سے متعلق سائبر کرائم کے 689 مقدمات بھی درج کیے گئے۔
پنجاب پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں آن لائن جرائم کے تقریباً 500 مقدمات پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ سینیٹر سید وقار مہدی کی جانب سے سائبر کرائم کے مقدمات میں ایف آئی آر درج کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق اٹھائے گئے سوال کے جواب میں کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ پیکا ایکٹ 2025ء کے تحت کسی بھی پولیس اسٹیشن کو سائبر کرائم کے مقدمات میں ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ اس نوعیت کی تمام شکایات اب تحقیق کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو ارسال کی جاتی ہیں۔ تاہم ایسے معاملات میں جہاں آن لائن سرگرمی کسی جسمانی یا روایتی جرم کا باعث بنے تو دو ایف آئی آرز درج کی جا سکتی ہیں جن میں سے ایک سائبر پہلو کے لیے این سی سی آئی اے میں اور دوسری متعلقہ صوبائی پولیس کے پاس درج کی جا سکتی ہے۔ پنجاب میں این سی سی آئی اے طرز کے صوبائی ادارے کے قیام سے متعلق سوال کے جواب میں کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس نوعیت کا ادارہ قائم کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے تاکہ کام کا بوجھ تقسیم کیا جا سکے۔ اسی طرح سندھ پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل نے بھی کمیٹی کو بتایا کہ وہ بھی اسی نوعیت کے ادارے کے قیام پر غور کر رہے ہیں۔ کمیٹی کو مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا ایکٹ کے تحت 29 جرائم کی تعریف کی گئی ہے۔
پنجاب کے نمائندے نے بتایا کہ 2020 سے 2025 کے دوران سائبر کرائم سے متعلق 370 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ایسے معاملات میں جہاں سائبر اور روایتی جرائم دونوں شامل ہوں، این سی سی آئی اے اور صوبائی پولیس باہمی قریبی رابطے کے ذریعے مؤثر تحقیقات کو یقینی بنا رہے ہیں۔ بریفنگ میں اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ ڈیجیٹل اور سائبر اسپیس میں تیز رفتار پیش رفت کے باعث صوبائی سطح پر سائبر کرائم کے انفورسمنٹ میکنزم کو وسعت دینے کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔ دورانِ بریفنگ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان بھر میں تقریباً 14 کروڑ افراد سائبر اسپیس میں متحرک ہیں جبکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا لگ بھگ 20 فیصد جعلی ہے، جو اکثر دھوکہ دہی، ہراسانی اور بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ صوبوں کے نمائندگان نے اس امر پر زور دیا کہ صوبائی پولیس کی فعال معاونت کے بغیر سائبر کرائم پر مؤثر قابو پانا ممکن نہیں اور اس مقصد کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
سندھ پولیس کے نمائندے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ صوبے میں سائبر کرائم سے متعلق 55 ایف آئی آرز درج کی گئیں جن میں ایک صحافی سے متعلق مقدمہ بھی شامل ہے جبکہ ان میں سے 33 مقدمات نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو منتقل کر دئیے گئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس نے بتایا کہ سائبر کرائم سے متعلق آخری ایف آئی آر 14 ستمبر 2025 کو درج کی گئی تھی، اور اب ایسے تمام مقدمات این سی سی آئی اے کو ارسال کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ جعلی اکاؤنٹس کے پیچھے موجود افراد کی شناخت ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے اکثر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پیش آتی ہے۔
این سی سی آئی اے کے نمائندے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ پنجاب اور خیبر پختونخوا پولیس کے ساتھ مل کر سائبر کرائم کے خلاف اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قریبی رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر اکثر متعدد سطحوں پر شناخت چھپا کر کارروائیاں کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جدید سافٹ ویئر کی فراہمی کو سراہتے ہوئے انہوں نے عالمی پلیٹ فارم فراہم کنندگان کے ساتھ مزید مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان کی درخواستوں پر 83 فیصد جبکہ بھارت کی 74.7 فیصد درخواستوں پر کارروائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر مرحلے پر کارروائی کے لیے ٹھوس شواہد کا ہونا لازمی ہے۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران این سی سی آئی اے کو تقریباً ایک لاکھ 54 ہزار شکایات موصول ہوئیں۔
ادارے نے اپنے قواعد و ضوابط مرتب کر لیے ہیں اور انہیں منظوری کے لیے وزارت داخلہ کو ارسال کر دیا گیا ہے جبکہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر حتمی شکل دینے پر کام جاری ہے۔ اس موقع پر سینیٹر سرمد علی نے این سی سی آئی اے کی کارکردگی کو مؤثر بنانے کے لیے ادارے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ذیلی کمیٹی نے سفارش کی کہ صوبائی پولیس اور عدالتیں تمام متعلقہ مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر این سی سی آئی اے کو منتقل کریں۔ کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ منتقل شدہ اور زیر التوا مقدمات کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ این سی سی آئی اے کو بھی ہدایت کی گئی کہ صوبوں سے موصول ہونے والے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔









