سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس، حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ، مین اسٹریم میڈیا کے استحکام، ایڈورٹائزمنٹ پالیسی میں شفافیت کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

"وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ، مین اسٹریم میڈیا کے استحکام اور ایڈورٹائزمنٹ پالیسی میں شفافیت کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے، جبکہ سرکاری اشتہارات کو میڈیا ملازمین کی فلاح و بہبود سے منسلک کیا جا رہا ہے۔”

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ، مین اسٹریم میڈیا کے استحکام، ایڈورٹائزمنٹ پالیسی میں شفافیت کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے، سرکاری اشتہارات کو میڈیا ملازمین کی فلاح و بہبود سے منسلک کیا جا رہا ہے،

ڈیجیٹل میڈیا کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی قیمت پر فروغ نہیں دیا جا سکتا، ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024ء کے تحت ویوز، امپریشنز اور ڈیجیٹل کارکردگی کے دیگر اشاریوں کی آزاد تھرڈ پارٹی کے ذریعے تصدیق کا نظام متعارف کرایا گیا ہے جبکہ اے بی سی اور پریس رجسٹرار آفس کو ضم کر کے جدید ادارہ قائم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کو زیادہ معاونت درکار ہے جبکہ ڈیجیٹل میڈیا بڑی حد تک خودکفیل شعبہ ہے، پی ٹی وی پہلی مرتبہ مالی طور پر مستحکم ہوا ہے، پی ٹی وی سپورٹس اس وقت پاکستان میں فیفا ورلڈ کپ نشر کرنے والا واحد چینل ہے۔ بدھ کو یہاں پارلیمنٹ لاجز میں سینیٹر سرمد علی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے 2021ء کی پالیسی میں توثیقی اقدامات شامل نہیں تھے، اس پالیسی میں 2022ء میں بھی ترمیم ہوئی۔ ہم نے 2024ء میں ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کو مزید بہتر بناتے ہوئے سوشل میڈیا کے لئے واضح گائیڈ لائنز اور طریقہ کار وضع کئے جنہیں پنجاب حکومت نے بھی اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اشتہارات میں سب سے بڑا حصہ الیکٹرانک میڈیا کے لئے مختص ہے اس کے بعد پرنٹ میڈیا اور پھر ڈیجیٹل میڈیا کا نمبر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو مالی معاونت کی زیادہ ضرورت ہے جبکہ ڈیجیٹل میڈیا ملک میں بڑی حد تک خودکفیل فورم ہے اسی لئے اس کے لئے کم تخصیص رکھی گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 2024ء کی پالیسی شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے مرتب کی گئی ہے۔ اس پالیسی میں گوگل اینالیٹکس، ویب ٹریفک کے اعداد و شمار، سرونگ رپورٹس اور آزاد تھرڈ پارٹی تصدیقی نظام شامل کیا گیا ہے تاکہ ویوز اور ڈیجیٹل کارکردگی سے متعلق دیگر اشاریوں کی تصدیق کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل دیگر حکومتوں کے پاس سوشل میڈیا پر ویوز، امپریشنز اور دیگر ڈیجیٹل پیمانوں کی تصدیق کے لئے کوئی موثر نظام موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ جس پلیٹ فارم کو اشتہار دیا جا رہا ہو وہی اپنے ویوز اور امپریشنز کی تصدیق بھی کرے، اسی لئے 2024ء کی پالیسی میں تھرڈ پارٹی ویریفکیشن کا نظام متعارف کروایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویوز، امپریشنز اور دیگر ڈیجیٹل اعداد و شمار کی تصدیق متعلقہ پلیٹ فارم کے بجائے ایک آزاد تھرڈ پارٹی ادارہ کرے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 2024ء کی سوشل میڈیا پالیسی من و عن پنجاب میں نافذ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیوب، میٹا (فیس بک، انسٹا گرام) اور ٹک ٹاک سمیت مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حکومتی اشتہارات کے لئے بہت محدود اخراجات کئے جاتے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کو مالی معاونت کی ضرورت نہیں، اس لئے اسے صرف ضرورت کے مطابق اشتہارات دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اہم قومی یا بین الاقوامی ایونٹ ہو تو اس کی تشہیر کے لئے ڈیجیٹل مہم چلائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر حالیہ او آئی سی کانفرنس برائے خواتین کے موقع پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لئے ڈیجیٹل مہم چلائی گئی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو زیادہ معاونت درکار ہے جبکہ ڈیجیٹل میڈیا بڑی حد تک خودکفیل شعبہ ہے۔ حکومت کی سب سے بڑی ترجیح میڈیا ملازمین کی فلاح و بہبود ہے تاکہ الیکٹرانک میڈیا میں کام کرنے والے افراد ڈاؤن سائزنگ کا شکار نہ ہوں اور انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے جبکہ ملازمین کی سہولت کے لئے ہیلتھ کارڈ سمیت دیگر اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید تجاویز دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد میں کسی بھی میڈیا ادارے سے ملازم فارغ کیا جاتا ہے تو وہ اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافی میری ذمہ داری ہیں اور جہاں تک ممکن ہوگا انہیں سہارا دینے اور ان کے مسائل کے حل کے لئے کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سنو نیوز سمیت بعض میڈیا اداروں میں ملازمین کی برطرفیوں کے معاملات بھی سامنے آئے، سنو نیوز کی جانب سے ملازمین کو فارغ کئے جانے کے معاملات پر حکومت نے ان کے اشتہارات روک دیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اشتہارات کا مقصد میڈیا اداروں کو مضبوط بنانا اور ملازمین کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے نہ کہ اس کے ذریعے ملازمین کو برطرف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے بعد سنو نیوز کی انتظامیہ اور متعلقہ ٹیم نے رابطہ کیا جس کے نتیجے میں ملازمین کے واجبات اور دیگر بقایا جات ادا کئے گئے جبکہ متعدد ملازمین کو دوبارہ بحال بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح آج ٹی وی کے واجبات کے معاملے پر بھی متعلقہ افراد سے رابطہ رہا، سنو ٹی وی کے بعد یہ اگلا اہم معاملہ تھا جسے حل کیا گیا اور واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے ساتھ یہ طریقہ کار طے کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے جب بھی واجبات کی ادائیگی کی جائے گی تو اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ رقم میڈیا اداروں کے ملازمین کے واجبات اور تنخواہوں کی ادائیگی پر خرچ ہوگی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا میں کام کرنے والے ملازمین کی فلاح و بہبود اور تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اگر کسی ٹی وی چینل کا رپورٹر یا کوئی ملازم دوران ملازمت انتقال کر جائے تو اکثر اوقات اس کے اہل خانہ مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ قائمہ کمیٹی کی جانب سے تمام ٹی وی چینلز کے لئے واضح ہدایات جاری کی جائیں کہ دوران ملازمت کسی ملازم کے انتقال کی صورت میں اس کے اہل خانہ کے لئے ایک مناسب مالی پیکیج مقرر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو رپورٹر اور میڈیا ورکرز سردی، گرمی، دھوپ اور بارش میں فیلڈ میں کام کرتے ہیں، خبریں فراہم کرتے ہیں اور جن کی محنت سے میڈیا اداروں کی ریٹنگ اور ساکھ میں اضافہ ہوتا ہے، ان کے انتقال کے بعد ان کے خاندانوں کو بے سہارا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ملازمین کے اہل خانہ کے تحفظ کے لئے ایک موثر نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کے کردار اور اہمیت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ڈیجیٹل میڈیا کی مقبولیت اور رسائی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی جانب حکومتی اشتہارات بڑھانے کے لئے دباؤ بھی موجود ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا آج سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12 سال کے بچوں سے لے کر 70 سال تک کے افراد سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اور اس کی رسائی بہت وسیع ہے۔ تاہم سوشل میڈیا کو بنیادی مواد فراہم کرنے والے ذرائع آج بھی ٹیلی ویژن اور اخبارات ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر پہلے سے تیزی سے ترقی کرنے والے ڈیجیٹل میڈیا کو مزید سرکاری معاونت دی جائے گی تو اس کا اثر الیکٹرانک اینڈ پرنٹ میڈیا پر پڑے گا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے اور اخبارات نے ملک میں صحافتی اقدار کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اخبارات آج بھی معلومات کے معتبر اور ذمہ دار ذرائع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) سے حالیہ ملاقاتوں میں یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت پرنٹ میڈیا کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات کے کے پاس باقاعدہ ایڈیٹوریل بورڈ، پیشہ ورانہ نظام، ضابطہ اخلاق اور ذمہ دار ادارتی ڈھانچہ موجود ہے جو انہیں دیگر پلیٹ فارمز سے ممتاز بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024ء کی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کے تحت حکومت کی کوشش ہے کہ موجودہ اخبارات کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی اہمیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ہونے والے حالیہ سرویز سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پرنٹ میڈیا اپنی ڈیجیٹل شکل کے ساتھ موثر انداز میں موجود ہے جبکہ کئی ممالک میں شائع ہونے والے اخبارات کی سرکولیشن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے بڑے اخبارات اور صحافتی اداروں نے صحافت کے فروغ میں نمایاں کر دار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشتہارات کی تقسیم کا شفاف نظام بنایا گیا ہے اور اس حوالے سے تمام امور واضح طریقہ کار کے تحت انجام دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل معاونت میں سب سے پہلا حق اخبارات کا ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024ء کے تحت حکومت اخبارات کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی شمولیت کو مزید وسعت دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی قیمت پر پروموٹ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات اور جعلی خبروں کے تدارک کے لئے معتبر مین اسٹریم میڈیا آج بھی ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے کمیٹی کو بتایا کہ اخبارات کے ملازمین کے لئے امپلی منٹیشن ٹربیونل (آئی ٹی این ای) کے چیئرمین کی تقرری سے متعلق تمام امور حل کرلئے گئے ہیں، شفاف اور میرٹ پر مبنی انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد جلد ہی اس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا۔ انہوں نے میڈیا ملازمین کی رجسٹریشن کو ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹیٹیوشن (ای او بی آئی) اور صوبائی سوشل سیکورٹی اداروں کے ساتھ لازمی قرار دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ملازمین کے لئے لائف انشورنس کی تجویز ایک ہفتے کے اندر تیار کی جائے گی جس میں وفاقی حکومت انشورنس پریمیم میں اپنا حصہ ڈالے گی۔ قائمہ کمیٹی کو سیکریٹری اطلاعات و نشریات اشفاق احمد خلیل نے نیشنل پریس ٹرسٹ (این پی ٹی) کے کردار اور طریقہ کار کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے وزارت اطلاعات کے حکام کو ہدایت کی کہ نیشنل پریس ٹرسٹ کے اثاثوں، مالی معاملات اور آڈٹ رپورٹس کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں جبکہ میڈیا ورکرز کی فلاح و بہبود کے لئے ٹرسٹ کے وسائل کو بروئے کار لانے کے قانونی امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اجلاس میں علاقائی اخبارات بالخصوص بلوچستان اور دیگر صوبوں سے شائع ہونے والے علاقائی اخبارات کے حوالے معاملہ بھی زیر غور آیا جس پر وفاقی وزیر اطلاعات نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کو ہدایت کی کہ اصل علاقائی اخبارات کی نشاندہی کے لئے پی آئی ڈی کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے اور ان کی سرکولیشن کے بارے میں رپورٹ پیش کی جائے۔ وفاقی وزیر نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت آڈٹ بیورو آف سرکولیشنز (اے بی سی) کو پریس رجسٹرار آفس کے ساتھ ضم کر کے ایک جدید ادارہ قائم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے بی سی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، شفافیت میں اضافے اور موجودہ میڈیا ضروریات کے مطابق بنانے کے لئے ایک مخصوص کمیٹی کے ذریعے اصلاحات کا عمل پہلے ہی شروع کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اخبارات کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے میڈیا لسٹ میں بہتری لانے کا بھی مطالبہ کیا۔ کمیٹی نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ”بلھے“ کی سنسر سرٹیفیکیشن کے معاملے پر بھی غور کیا۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ تشدد اور جرائم کی عکاسی کرنے والی فلم کو عظیم صوفی بزرگ بلھے شاہ کے نام سے ریلیز نہیں ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ فلم کے اس عنوان کی منظوری کیوں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ سینسر بورڈ نے ایسی فلم کی منظوری کیسے دی جس کا نام ایک تاریخی اور قابل احترام شخصیت سے منسوب ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن میں اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سرکاری نشریاتی ادارہ پہلی مرتبہ مالی طور پر مستحکم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں فیفا ورلڈ کپ صرف پی ٹی وی سپورٹس نشر کر رہا ہے جو ادارے کی بہتر مالی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی وی کے مختلف مراکز میں اس وقت تقریباً 216 ملازمین کنٹریکٹ کی بنیاد پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی ضروریات کے مطابق کنٹریکٹ پر بھرتیاں کی جاتی ہیں جبکہ پروگرامنگ کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے نجی ٹی وی چینلز سے تجربہ کار اینکرز کو بھی پی ٹی وی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز مکمل طور پر بااختیار ہے اور تمام اہم فیصلے بورڈ کی منظوری سے کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ممتاز پروفیشنل افراد کو بھی بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی وی نے گزشتہ ایک سال کے دوران ملازمین کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کا سلسلہ برقرار رکھا ہے اور کسی ملازم کو تنخواہ کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وفاقی سیکریٹری اطلاعات اشفاق احمد خلیل نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پی ٹی وی میں نہ تو تنخواہوں اور نہ ہی پنشنرز کی ادائیگی میں کوئی تاخیر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 300 ریٹائرڈ ملازمین بالخصوص بیوائوں کو بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے ادارے نے اپنے اخراجات میں کمی کی ہے۔ سیکریٹری اطلاعات نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ پی ٹی وی رواں سال پروگراموں کی تیاری دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اجلاس میں پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی مختلف عمارتوں سے ریونیو اکٹھا کرنے کے لئے اقدامات کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ کمیٹی نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) اور ریڈیو پاکستان کے ملازمین کے پنشن سے متعلق مسائل کے حل کے لئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹس بھی طلب کیں۔ وفاقی سیکریٹری اطلاعات نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (ریڈیو پاکستان) کو تنخواہوں اور پنشن کی مد میں سب سے زیادہ رقم ادا کی گئی۔ اجلاس میں پی ٹی وی کالونی کا معاملہ بھی زیر غور آیا جس پر قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سی ڈی اے حکام اور متعلقہ فریقین کو طلب کرلیا۔ اجلاس میں این سی سی آئی اے کے حوالے سے معاملہ بھی زیر غور آیا جس پر چیئرمین کمیٹی نے این سی سی آئی اے کو کسی بھی اخبار کو نوٹس جاری کرنے سے روک دیا۔ اجلاس میں ارکان سینیٹ سینیٹر عبدالشکور خان، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید (بذریعہ زوم) اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی جبکہ وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات اشفاق احمد خلیل، چیئرپرسن پیمرا، پی آئی او، وزارت اطلاعات و نشریات کے سینئر حکام سمیت سی ڈی اے اور دیگر اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔