پشاور،2010 میں ایم ڈی کیٹ کے درخواست دہندگان کی تعداد 13,464 ، 2022 میں 46,232 اور 2026 میں تعداد 38 ہزار ریکارڈ ہوئی،وائس چانسلر

خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاورکے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) کے درخواست دہندگان کے رجحانات صحت کے شعبے میں طلبہ کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور معیاری

پشاور۔ 15 جولائی (اے پی پی):خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاورکے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) کے درخواست دہندگان کے رجحانات صحت کے شعبے میں طلبہ کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور معیاری، جدید اور متنوع طبی تعلیم کی جانب پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کے ایم یو میں ایم ڈی کیٹ 2026کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ 2010 میں ایم ڈی کیٹ کے درخواست دہندگان کی تعداد 13,464 تھی، جو بڑھتے ہوئے 2022 میں ریکارڈ 46,232 تک پہنچ گئی، جبکہ 2026 میں یہ تعداد تقریباً 38 ہزار ریکارڈ ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس تبدیلی کو صحت کے شعبے میں دلچسپی میں کمی نہیں بلکہ طلبہ کے زیادہ باخبر اور حقیقت پسندانہ کیریئر انتخاب کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پروفیسرڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ آج کے نوجوان صرف روایتی ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس تک محدود نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیٹا سائنس، بائیوٹیکنالوجی، پبلک ہیلتھ، نرسنگ، الائیڈ ہیلتھ سائنسز، ہیلتھ انفارمیٹکس اور دیگر جدید شعبوں میں بھی روشن مستقبل تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طبی تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات، طویل تعلیمی دورانیہ، روزگار کی بدلتی ہوئی صورتحال اور نئی ٹیکنالوجیز بھی طلبہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اعلیٰ جامعات کی کامیابی کو اب صرف داخلوں کی تعداد سے نہیں بلکہ تعلیم کے معیار، تحقیق، اختراع، فارغ التحصیل طلبہ کی صلاحیت اور معاشرے پر مثبت اثرات کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔ پروفیسرڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ کے ایم یو کا وژن مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ صحت کے شعبے کے ماہرین تیار کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے یونیورسٹی نصاب میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ہیلتھ کا انضمام، نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے پروگراموں میں توسیع، تحقیق و اختراع کے فروغ، بین الاقوامی معیار کے مطابق تدریس اور صحت کے شعبے کی ضروریات سے ہم آہنگ افرادی قوت کی تیاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمارا ہدف صرف زیادہ طلبہ کو داخلہ دینا نہیں بلکہ ایسے قابل، باصلاحیت اور ذمہ دار صحت کے پیشہ ور افراد تیار کرنا ہے جو خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کو بہتر طبی خدمات فراہم کرنے میں مؤثر کردار ادا کریں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی معیاری تعلیم، جدید تحقیق، اختراع اور سماجی خدمت کے ذریعے پاکستان کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں اپنا قائدانہ کردارتمام تر نامساعد حالات کے باوجود جاری رکھے گی۔