26.3 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امورکااجلاس، کاریک ٹرانچ تھری (راجن پور-ڈی...

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امورکااجلاس، کاریک ٹرانچ تھری (راجن پور-ڈی جی خان-ڈیرہ اسماعیل خان) جیسے بڑے منصوبوں پر پیش رفت اور شفافیت کا جائزہ

- Advertisement -

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس پیر کو یہاں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے کاریک ٹرانچ تھری (راجن پور-ڈی جی خان-ڈیرہ اسماعیل خان) جیسے بڑے منصوبوں پر پیش رفت اور شفافیت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، سید وقار مہدی، فلک ناز اور کامل علی آغا نے شرکت کی جبکہ اقتصادی امور ڈویژن اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ کمیٹی کوبتایاگیاہے کہ نیشنل ہائی ویزاتھارٹی وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ انکوائری کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے۔ کمیٹی کوبتایاگیا کہ آٹھ افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے جن میں این ایچ اے کے پانچ افسران بھی شامل ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے مطالبہ اور 4 اگست 2025 کے سینیٹ سیکرٹریٹ کے خط کے باوجود کاریک ٹرانچ II اور III کی تفصیلی دستاویزات تاحال فراہم نہیں کی گئیں۔این ایچ اے کے سی ای او نے بتایا کہ بعض سوالات کے جوابات تاحال متعلقہ اداروں اور کمپنیوں سے موصول نہیں ہوئے جبکہ کچھ معلومات وزارت مواصلات کو بھجوا دی گئی ہیں تاہم چیئرمین نے واضح کیا کہ کمیٹی کو اب تک کوئی معلومات موصول نہیں ہوئیں۔

این ایچ اے کے سی ای او نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیر اعظم نے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے اور جامع تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس ضمن میں آٹھ افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے جن میں این ایچ اے کے پانچ افسران فیاض احمد خٹک ، پروکیورمنٹ ٹیم کے ارکان جبکہ تین دیگر افسران عاصم امین، امتیاز احمد کھوکھر اور سمیع الرحمٰن (ریٹائرڈ) بھی شامل ہیں۔اس ضمن میں وزارت مواصلات کے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کی نقول بھی کمیٹی کو پیش کی گئیں۔ سینیٹر کامل علی آغا نے تجویز دی کہ وزارت اقتصادی اموراین ایچ اے سے رابطہ کاری کیلئے ایک افسر تعینات کرے اور مطلوبہ معلومات کمیٹی کو فراہم کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ چونکہ خط وزارت اقتصادی امور کو بھیجا گیا تھا اس لیے ذمہ داری اسی کی ہے کہ کم از کم ایک عبوری جواب کمیٹی کو فراہم کرے۔ سپیشل سیکرٹری اقتصادی امورڈویژن نے یقین دہانی کرائی کہ ایک افسر تعینات کیا جائے گا اور عبوری جواب جلد فراہم کیا جائے گا۔این ایچ اے کے کے سی ای او نے کمیٹی کو وزیر اعظم کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تاہم سینیٹر کامل علی آغا نے افسران کی بڑی تعداد میں معطلی کو سنگین معاملہ قراردیتے ہوئے کہاکہ کمیٹی کو بتایا جائے کہ ان افسران پر چارج شیٹ کیا ہے۔ یہ لازمی طور پر نوٹیفکیشن کے ساتھ منسلک ہونی چاہیے تھی۔

- Advertisement -

این ایچ اے کے سی ای او نے یقین دہانی کرائی کہ وہ متعلقہ کمپنیوں اور آڈیٹرز کو بلا کر ریکارڈ طلب کریں گے اور عدم تعاون پر کارروائی کی جائے گی۔ کمیٹی نے وزارت اقتصادی امور اوراین ایچ اے کو وزیر اعظم کی انکوائری کمیٹی کو سینیٹ سیکرٹریٹ کا خط بھیجنے کی بھی ہدایت کی جس میں واضح ہو کہ مطلوبہ دستاویزات اہلیت کے معیار خصوصاً مالی حیثیت اور اوسط سالانہ ٹرن اوور کے لیے ناگزیر ہیں، اس کی ایک کاپی کمیٹی کو بھی فراہم کی جائے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ تینوں بولی دہندگان کے بارے میں جوائنٹ وینچر معاہدے، پی ای سی سرٹیفکیٹس، ورک آرڈرز، تکمیل سرٹیفکیٹس اور پچھلے تین سالوں میں ادائیگیوں اور ٹیکس کٹوتیوں کی تفصیلات تفراہم کی جائیں۔ اسی طرح میسرز نعمان کنسٹرکشن کمپنی اورمیسرز ایم. سجاد کے جوائنٹ وینچر معاہدے اور دیگر دستاویزات بالخصوص لودھراں -ملتان منصوبے کے حوالے سے تفصیلات فراہم کی جائیں۔ کمیٹی نے تشویش ظاہر کی کہ این ایچ اے نے یہ ریکارڈ اجلاس کے دوران فراہم نہیں کیا اور حیرت کا اظہار کیا کہ اگر این ایچ اے کو اپنے منصوبوں کی تفصیلات ہی معلوم نہیں تو پروکیورمنٹ کے عمل پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔کمیٹی نے بتایا کہ میسرز رستم ایسوسی ایٹس اورمیسرز ڈائنامک کنسٹرکٹرز کی جانب سے جمع کرائی گئی کئی دستاویزات میں جعل سازی کے شواہد پائے گئے۔اجلاس کے دوران شندور-گلگت روڈ منصوبے کابھی جائزہ لیاگیا۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے این ایچ اے پر تنقید کی اور کہاکہ این ایچ اے شندور-گلگت منصوبے کا دفاع بھی نہیں کر سکتی ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دسمبر 2021ء اور فروری 2022ء میں ٹھیکہ دیا گیا، لیکن میسرز ننگشیا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی جسے پہلے کاریک ٹرانچ-II (شکارپور-راجن پور) اور یارک-ژوب منصوبے میں جعلی دستاویزات جمع کرانے پر نااہل قرار دیا گیا تھا، اسے ہی یہ منصوبہ دے دیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ ایک ہی دن میں 10 ارب روپے کے ورک آرڈرز جاری کیے گئے۔ یہ منصوبہ بے ضابطگیوں سے بھرا ہوا ہے۔ کمیٹی نے اس بات پربھی حیرت کا اظہار کیا کہ این ایچ اے نے اپنی بریفنگ میں ثالث ظفر حسین صدیقی اور دومقامی شراکت داروں میسرز رستم ایسوسی ایٹس اورمیسرز ڈائنامک کنسٹرکٹرز کا ذکر کیا حالانکہ ان کا لودھراں -ملتان منصوبے سے کوئی تعلق نہیں۔ کمیٹی نے این ایچ اے سے وضاحت طلب کی مگر حکام مطمئن نہ کر سکے۔ کمیٹی نے تشویش ظاہر کی کہ میسرز ننگشیا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی درخواست میں کہا کہ منصوبہ مکمل کرنے کی ذمہ داری مقامی کمپنی پر ہے اور وہ صرف 3 فیصد کمیشن لے رہی ہے۔ کمیٹی نے اس پر سوال اٹھایا کہ آخر کمپنی ثالث کے ایوارڈ کے مطابق منصوبہ کیسے مکمل کرے گی۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ معاملے کو حتمی نتیجے تک پہنچانے کے لیے سات دن کے اندر دوبارہ اجلاس بلایا جائے۔ دوسرا ایجنڈا آئٹم اگلے اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔ چیئرمین نے واپڈا کو ہدایت کی کہ ورکنگ پیپرز اجلاس سے کم از کم 48 گھنٹے پہلے جمع کرائے جائیں تاکہ ارکان مکمل جائزہ لے سکیں۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں