22.6 C
Islamabad
پیر, ستمبر 1, 2025
ہومقومی خبریںسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات اور قائمہ کمیٹی برائے...

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات اور قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی استعمال شدہ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو معقول بنانے کی سفارش

- Advertisement -

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات اور قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے استعمال شدہ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو معقول بنانے کی سفارش کی ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات اور قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا مشترکہ اجلاس پیرکویہاں سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سینیٹر عون عباس کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوا جس میں آٹو موبائل شعبہ کو درپیش مسائل پر غور کیا گیا۔ آٹو موبائل شعبہ کے نمائندوں نے کمیٹی کوبریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ ٹیکس نظام اور استعمال شدہ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں حالیہ کمی کے باعث نئی گاڑیوں کی فروخت متاثر ہوئی ہے اور اس سے مقامی آٹو موبائل صنعت کی بقا کو خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان میں سالانہ ڈیڑھ لاکھ گاڑیاں تیار کی جا رہی ہیں جو اتنی ہی ہیں جتنی 2004 میں بنائی گئیں۔ گزشتہ برسوں میں آٹو سیکٹر نے مقامی طورپرتیاری میں نمایاں کامیابی حاصل کی تاہم استعمال شدہ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی اس کامیابی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔وزارت تجارت کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے کیے گئے وعدوں کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔

اس فیصلے کے بعد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی لائی گئی تاکہ مسابقتی مارکیٹ قائم ہو اور صارفین کو سہولت مل سکے۔ حکام نے مزید کہا کہ آنے والے برسوں میں ریگولیٹری ڈیوٹی مزید کم کرنے اور پرانی گاڑیوں کی حد پانچ سال سے بڑھا کر چھ یا سات سال کرنے کا امکان ہے۔ٹویوٹا انڈس موٹرز کے نمائندے نے گاڑیوں کے مختلف حصوں پر عائد ٹیکسوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ایس یووی فورچیونر پر ایک کروڑ 44 لاکھ روپے ٹیکس لگایا گیا ہے جبکہ گاڑی کی مارکیٹ قیمت دو کروڑ 44 لاکھ روپے ہے۔ سینیٹر محمد عبدالقادر نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی مسابقتی مارکیٹ کے قیام کا راستہ ہموار کرے گی اور اس سے صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔تفصیلی غور و خوض کے بعد مشترکہ کمیٹی نے استعمال شدہ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو معقول بنانے کی سفارش کی اوربتایا کہ آٹو موبائل سیکٹر سے وابستہ 20 لاکھ گھرانوں کا روزگار اس فیصلے سے متاثر ہو رہا ہے۔

- Advertisement -

وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش سے متعلق کابینہ کے حالیہ فیصلے کے حوالہ سے بتایا کہ تقریباً 14 ارب روپے کے ریلیف پیکج پر کام جاری ہے جو متاثرہ ملازمین میں تقسیم کیا جائے گا۔ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کراچی میں کچرے کو تلف کرنے میں تاخیر کی وجہ سے آگ بھڑکنے پر کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ ایک موثر نظام تشکیل دیا جائے تاکہ مستقبل میں کچرے کی بروقت تلفی یقینی بنائی جا سکے اور زون کو کسی بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔اجلاس میں ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں ٹیکسز میں اضافے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اوربتایاگیا کہ ان یونٹس کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اس موقع پر ایف بی آر کے ممبر ان لینڈریونیو نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ٹیکس معاملہ زیر غور ہے اور مجوزہ صنعتی پالیسی میں شامل کیا گیا ہے۔ اجلاس میں شریک اراکین میں سینیٹر سید مسرور احسن، دانش کمار، خالدہ عتیب، میر دوستین خان ڈومکی، حسنہ بانو، محسن عزیز، احمد خان، منظور احمد، محمد عبدالقادر اور دلاؤر خان کے علاوہ سرکاری محکموں کے سینئر حکام اور آٹو موبائل سیکٹر کے نمائندوں نے شرکت کی۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں