اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں نسٹ یونیورسٹی اور سی ڈی اے کے درمیان پانی کی سپلائی، زمین کی الاٹمنٹ، جرمانوں، بلڈنگ پلانز اور سیوریج ٹریٹمنٹ سمیت مختلف انتظامی و قانونی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ کنونیئر سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے متعلقہ اداروں کو ایک ماہ میں جامع پیش رفت رپورٹ فراہم کرنے کی …
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس، نسٹ اور سی ڈی اے کے درمیان پانی کی سپلائی، زمین کی الاٹمنٹ سمیت مختلف انتظامی و قانونی معاملات کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں نسٹ یونیورسٹی اور سی ڈی اے کے درمیان پانی کی سپلائی، زمین کی الاٹمنٹ، جرمانوں، بلڈنگ پلانز اور سیوریج ٹریٹمنٹ سمیت مختلف انتظامی و قانونی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ کنونیئر سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے متعلقہ اداروں کو ایک ماہ میں جامع پیش رفت رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹرڈاکٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ندیم احمد بھٹو،سینیٹر حسنہ بانو، نسٹ و سی ڈی اے کے متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔
ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد کے پانی کی سپلائی و پائپ لائن، اراضی، جرمانے، الاٹمنٹ،لے آئوٹ پلان،نسٹ اور کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مابین مختلف انتظامی و قانونی معاملات، سیوریج کے پانی کی ٹریٹمنٹ اور اس کے بہائو سے متعلق مختلف محکموں کے ساتھ امور اور متعلقہ چارجز کی ادائیگی، زمین کی قیمت کی ادائیگی، بلڈنگ منظوریوں سے متعلق نسٹ اور سی ڈی اے کے درمیان معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ نسٹ ڈائریکٹر ورکس نے ذیلی کمیٹی کو نسٹ کے امور پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نسٹ یونیورسٹی میں 20 ہزار سے زائد طلباء وباقی لوگ ہیں، گرمیوں میں پانی ختم ہو جاتا ہے۔
زیر زمین پانی مضر صحت ہے۔2005ء میں سی ڈی اے بورڈ نے نسٹ کے پانی کے لئے پی سی ون منظور کیا کہ 3 ملین گیلن پانی شاہ اللہ دتہ سے فراہم کیا جائے گا۔ نسٹ نے سی ڈی اے کو 2002ء میں 22 ملین روپے واٹر سپلائی پائپ لائن کے لئے فراہم کیے تھے جو ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی۔ سنگجانی پر51 ملین گیلن کا پانی کا پلانٹ قائم کیا گیا جس سے 14 سیکٹرز کو پانی دینے کا منصوبہ تھا مگر اس منصوبے کی پائپ لائن پر پانچ جگہوں پر مسائل پیدا ہوئے جو سیکٹر جی13 اور جی 12 میں ہیں۔ اگر پہلے تین جگہوں کے مسئلے کو حل کر لیا جاتا ہے تو نسٹ یونیورسٹی کو پانی مل سکتا ہے۔ کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ ادارے نے اڑھائی کروڑ روپے 2002ء میں سی ڈی اے کو پانی کے لئے ادا کیے تھے یہ ملک کا انتہائی اہمیت کا حامل تعلیمی ادارہ ہے، سی ڈی اے اس کا موثر حل نکالے۔
ڈائریکٹر جنرل واٹر سی ڈی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ واٹر سپلائی لائن 36 کلومیٹر پر مشتمل ہے جس میں سے 32 کلو میٹر حل ہو چکی ہے 4 کلو میٹر باقی ہے اس مسئلے کو جلد حل کر لیا جائے گا۔ میں اس ادارے میں نیا آیا ہوں، نسٹ کے ساتھ مل کر مسئلے کو حل کر تے ہیں جس پر کمیٹی نے ڈی ایچ اے حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا اور اس حوالے سے خط لکھنے کا فیصلہ بھی کیا۔ کنونیئر کمیٹی نے سی ڈی اے حکام کو ہدایت کی کہ اس معاملے کو ایک ماہ میں حل کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کی جائے۔ کمیٹی نے سی ڈی اے کو یہ بھی ہدایت کی کہ اس تعلیمی ادارے کے پانی کی سپلائی میں بہتری لائی جائے۔ نسٹ کے پاس دو نالوں کی گزر گاہ کے حوالے سے نسٹ ڈائریکٹر ورکس نے کمیٹی کو تفصیلا ت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سیکٹر جی 13 میں د وبڑے نالے سیکٹر ایچ12 کے پاس سے گزرتے ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی نے استعمال شدہ پانی کو قابل استعمال بنانے کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ زیر زمین پانی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ 2013ء میں یہ معاملہ نسٹ نے سی ڈی اے کے ساتھ اٹھایا اور یہ معاملہ وفاقی محتسب میں بھی اٹھایا گیا ہے۔ سی ڈی اے نالوں کابائی پاس انتظام کرے اور انڈر گرائونڈ پائپ لائن سے گزارے جائیں جس پر کنونیئر کمیٹی نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں اس مسئلے کے حل کی جامع رپورٹ اور حکمت عملی فراہم کی جائے۔ ذیلی کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی کے حکام کو بھی طلب کر لیا۔
ذیلی کمیٹی کو نسٹ ڈائریکٹر ورکس نے پانی کی قیمت کی ادائیگی کے امور کے حوالے سے تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ 37 ملین پانی نسٹ یونیورسٹی کو دیا جاتا ہے، سی ڈی اے پانی کے تحفظ کے چارجز نہیں لگا سکتا اس کے باوجود کروڑوں کے بل بھیجے گئے ہیں۔ کنونیئر کمیٹی نے اس مسئلے کو بھی آئندہ اجلاس میں حل کرنے کی ہدایت کر دی۔ نسٹ کی زمین کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا سیکٹر ایچ12 میں نسٹ یونیورسٹی کو 706 ایکٹر زمین الاٹ کی گئی۔2003ء میں نسٹ نے سی ڈی اے کو ماسٹر پلان پیش کیا اور2005ء میں اس پر تعمیرات کا کام شروع کر دیا۔
نسٹ یونیورسٹی نے 2011ء میں بلڈنگ پلان پہلی بار سی ڈی اے میں پیش کیا جس پر سی ڈی اے نے تعمیراتی کام ماسٹر پلان کی منظوری تک روک دیئے اور سی ڈی اے نے 43.4 ملین کا جرمانہ 26 عمارتوں کے لئے نافذ کر دیا کہ بغیر منظوری کے عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ 2012ء میں نسٹ یونیورسٹی کا ماسٹر پلان منظور کیا گیا اور 2014ء میں بلڈنگ پلان بھی پیش کیا گیا پھر 2015ء میں 34 عمارتوں کا پلان پیش کیا گیا۔
سی ڈی اے حکام نے کہا کہ لے آؤٹ پلان سے پہلے تعمیرات کرنا خلاف قانون ہے۔2015ء میں 26 بلاکس کی تعمیر کے حوالے سے فیڈرل آڈٹ کی طرف سے 43.4 ملین روپے کی رقم ریکور کرنے کی ہدایت کی گئی کہ عمارتیں بغیر منظوری کے تعمیر کی گئی ہیں جس پر کنونیئر کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ یہ تعلیمی ادارہ ہے جس میں ہزاروں طلباء زیر تعلیم ہیں اس کی بہتری کے لئے حل نکالا جائے اس مسئلے کا قانونی طریقے سے حل دیکھا جائے کہ کس طرح اس کے چارجز کو کم کیا جا سکتا ہے۔
سی ڈی اے بورڈ ان چارجز کا جائزہ لے کر رپورٹ فراہم کرے۔ ذیلی کمیٹی کو نسٹ کی زمین کے واجبات کی ادائیگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی کہ نسٹ نے 2003ء میں 256.5 ملین روپے کی ادائیگی کر دی تھی مگر سی ڈی اے نے ابھی تک الاٹمنٹ لیٹر جاری نہیں کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ ادائیگی 33 سال کے لئے کی گئی تھی جس پر سی ڈی اے حکام نے کہا کہ 2002ء میں ایک روپے فی ایکٹر کے حساب سے ادائیگی کی گئی تھی جبکہ 2014ء میں اس کے ریٹ بڑھائے گئے اور فی ایکڑ کی بجائے فی گز کیا گیا اب اس کے مزید ریٹس بڑھ چکے ہیں
جس پر کنونیئر کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان اور رکن کمیٹی ندیم احمد بھٹو نے کہا کہ اس مسئلے کا بھی حل نکلا جائے اور وزارت قانون سے اس حوالے سے رائے طلب کر لی۔ ذیلی کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کہ ادارہ اپنے قانونی ونگ سے بھی مشاورت کر کے جائزہ لے اور آئندہ کمیٹی نے اس مسئلے کا حل پیش کیا جائے۔ ذیلی کمیٹی نے نسٹ یونیورسٹی سے متعلقہ تمام امور کو ایک ماہ میں حل کرنے کی ہدایت کر دی۔








