یوم دفاع پاکستان، قوم مادرِ وطن کا دفاع کرنے والے ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرے گی

پشاور۔ 05 ستمبر (اے پی پی):پوری پاکستانی قوم مادرِ وطن کو بیرونی اور اندرونی خطرات سے بچانے والے ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کےلیے 6 ستمبر کو یومِ دفاع منانے کےلیے مکمل طور پر تیار ہے۔

پشاور۔ 05 ستمبر (اے پی پی):پوری پاکستانی قوم مادرِ وطن کو بیرونی اور اندرونی خطرات سے بچانے والے ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کےلیے 6 ستمبر کو یومِ دفاع منانے کےلیے مکمل طور پر تیار ہے۔

کراچی سے چترال اور گوادر سے خنجراب تک کے عوام پاکستان کے ان تمام شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کریں گے جنہوں نے ملک کے دفاع کےلیے جنگوں اور دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستان کے 61 ویں یومِ دفاع کے موقع پر جو 6 ستمبر کو تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا، سول اور ملٹری حکام، سیاست دان، تاجر، بزنس مین، میڈیا کے نمائندے اوردیگر افراد شہداء اور نشانِ حیدر حاصل کرنے والوں کی رہائش گاہوں کا دورہ کریں گے۔ ان شہداء کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جائیں گی جنہوں نے بے مثال ہمت اور بہادری کے ساتھ جنگیں لڑیں۔ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ان تمام شہداء کو سلامی پیش کریں گے جنہوں نے ہمارے محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ پوری قوم پاکستان کی مسلح افواج کے تمام شہداء کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے جن میں نشانِ حیدر حاصل کرنے والے کیپٹن راجہ محمد سرور شہید، میجر محمد طفیل شہید، میجر عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم شہید، سوار محمد حسین شہید، میجر شبیر شریف شہید، لانس نائیک محمد محفوظ شہید، پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، کیپٹن کرنل شیر خان شہید، حوالدار لالک جان شہید اور ہلالِ کشمیر سے نوازے گئے نائیک سیف علی جنجوعہ شہید شامل ہیں۔ میجر راجہ عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) نے لاہور کے قریب اسٹریٹجک بی آر بی نہر کا پانچ دن تک کامیابی سے دفاع کیا تھا جہاں 10 ستمبر 1965ء کو دشمن کے ٹینک کا گولا لگنے سے انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم جو ایم ایم عالم کے نام سے مشہور ہیں، نے 6 ستمبر کو دشمن کے دو طیارے مار گرائے اور تین کو نقصان پہنچایا، 07 ستمبر کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے مزید پانچ طیاروں کو تباہ کر دیا جو پاکستان ایئر فورس کی تاریخ میں بے مثال تھا۔ جنگوں میں بہت سے سپاہی شہید ہو جاتے ہیں اور ہزاروں غازی بن کر لوٹتے ہیں اور کچھ اپنی بے مثال ہمت اور میدانِ جنگ میں شاندار کارکردگی کی بدولت دشمن فوج سے بھی احترام اور تعریف حاصل کرتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔ کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) پاک فوج کے ان نامور افسران میں سے ایک تھے جن کی بے مثال ہمت، لائقِ تحسین بہادری، فرض شناسی، قیادت کی صلاحیتوں اور 1999ء کی کارگل جنگ کے دوران میدانِ جنگ میں ہیرو جیسے کارنامے کی بھارتی فوج نے بھی دل کھول کر تعریف کی تھی۔ سابق سیکرٹری لا اینڈ آرڈر برائے سابقہ فاٹا بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے اے پی پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 12 ویں ناردرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) رجمنٹ کے 29 سالہ نوجوان افسر کے لیے موت بے معنی تھی جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر گلتری کے پہاڑی علاقے میں 17,000 فٹ کی بلندی پر دشمن اور سخت موسم دونوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے رہے، جہاں انہوں نے 05 جولائی 1999ء کو شہادت نوش کرنے سے پہلے دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کر دیا گیا ،مشن پورا کر کے کیپٹن شیر خان کے اس بہادرانہ کارنامے نے بھارتی کمانڈر بریگیڈیئر ایم پی ایس باجوہ کو ان کی میدانِ جنگ کی شاندار کارکردگی اور بے مثال ہمت سے اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے ایک تحریری خط لکھ کر پاکستان سے درخواست کی کہ کیپٹن شیر خان شہید نے بڑی بہادری سے جنگ لڑی ہے اور وہ اعترافِ خدمات کے حقدار ہیں۔بعد ازاں 12 ویں این ایل آئی رجمنٹ کے کیپٹن کرنل شیر خان شہید (1970-1999) اور حوالدار لالک جان شہید (1967-1999) کو کارگل تنازع کے دوران مادرِ وطن کے دفاع کےلیے ان کی بے مثال قربانیوں پر بعد از وفات پاکستان کا سب سے بڑا ملٹری بہادری کا اعزاز ‘نشانِ حیدر’ عطا کیا گیا۔ کیپٹن کرنل شیر خان شہید خیبر پختونخوا کے پہلے آرمی افسر تھے جنہیں نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ ان کے دادا کو پاکستان کی مسلح افواج سے بے حد محبت تھی اور وہ چاہتے تھے کہ ان کے خاندان سے کوئی پاک فوج میں شامل ہو کر ملک کی خدمت کرے۔ اسی لیے انہوں نے اپنے پوتے شیر خان کو ‘کرنل’ کا لقب دیا جو بعد میں ان کے نام کا مستقل حصہ بن گیا۔ بریگیڈیئر محمود شاہ نے بتایا کہ 05 جولائی 1999ء کو بھارتی افواج نے دو بٹالینز کی مدد سے ان چوکیوں پر حملہ کیا اور ان کی ایک چوکی کے کچھ حصے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ تمام تر مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود انہوں نے جوابی حملے کی قیادت کی اور چھینا ہوا حصہ واپس حاصل کر لیا۔ اپنے نام کے عین مطابق کیپٹن شیر خان نے دشمن کا تعاقب کیا اور دشمن کے علاقے میں کئی کامیاب چھاپے مارے۔ ایسے ہی ایک چھاپے کے دوران وہ دشمن کے کیمپ کے اندر چلے گئے جہاں انہوں نے ان کا بھاری نقصان کیا۔ شدید جنگ کے دوران ان کے سینے میں مشین گن کا فائر لگا اور وہ 05 جولائی 1999ء کو شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔ میدانِ جنگ میں ان کے اس عظیم الشان کارنامے نے، ان کے نام کے عین مطابق انہیں شیر کارگل کا لقب دلایا۔ انہوں نے کہا کہ 06 ستمبر 1965ء وہ دن تھا جب بھارت نے بغیر کسی تنبیہ یا اعلانِ جنگ کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کیا اور تمام بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور اقدار کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ مل کر اس بزدل دشمن کے سامنے ڈٹ گئی اور 1965ء کی جنگ میں بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایئر فورس اور پاکستان آرٹلری نے 65ء کی جنگ میں دشمن کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1965ء کی جنگ کے دوران پاکستان نے بھارتی علاقے کے تقریباً 1,617 مربع میل پر قبضہ کر لیا تھا اور اگر جنگ کچھ دن اور جاری رہتی تو ہم دہلی پر قبضہ کرنے کے لیے مضبوط پوزیشن میں تھے کیونکہ دشمن کے فوجیوں کا حوصلہ پوری طرح ٹوٹ چکا تھا۔ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ملکہ ترنم میڈم نور جہاں کے ملی نغمے جیسے ‘اے وطن کے سجیلے جوانوں اور رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو’ نے 65ء کی جنگ کے دنوں میں پاکستانیوں کے اندر ان کی قومیت، مذہب، ذات، رنگ یا سیاسی وابستگی سے قطع نظر حب الوطنی اور قومی جذبہ بھر دیا تھا۔بریگیڈیئر (ر)محمود شاہ نے کہا کہ ہماری فوج کے افسران اور جوانوں کی بے مثال بہادری اور قربانیوں کی روایت 1948ء کی کشمیر جنگ میں کیپٹن راجہ محمد سرور شہید (نشانِ حیدر) کی شہادت سے شروع ہوئی اور 1965ء کی جنگ میں میجر عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) اور 1999ء کے کارگل تنازع میں کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) نے اسے آگے بڑھایا۔27 فروری 2019ء کو ایل او سی کے اندر بھارت کے دو جنگی طیارے مار گرانا جن میں سے ایک آزاد کشمیر میں گرا اور دوسرا بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں اور ساتھ ہی بھارتی پائلٹ کو گرفتار کرنا پاک فضائیہ کی تیاری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور طاقت کی اعلیٰ سطح کو ثابت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال فروری میں بالاکوٹ پر بھارتی فضائی حملے کے بعد پاکستانی قوم نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا تھا وہ 65ء کی جنگ جیسا تھا۔ گزشتہ سال معرکہِ حق کی جنگ میں پاکستان نے فضائی، بری اور بحری کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجیکل جنگ میں بھی دشمن کو شکست دی اور دشمن کے متعدد جیٹ طیارے مار گرائے۔

مزید خبریں