سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس، آئین شہریوں کے بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے جن پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی، فاروق حامد نائیک

اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سینیٹر فاروق حامد نائیک نے کہا ہے کہ آئین پاکستان شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے جن پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی، اس لیے عوامی نمائندوں کے انتخاب سے متعلق شرائط آئینی ترمیم کے بجائے مناسب قانونی طریقہ کار کے تحت طے کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے یہ بات آئینی (ترمیمی) بل 2024 پر …

اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سینیٹر فاروق حامد نائیک نے کہا ہے کہ آئین پاکستان شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے جن پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی، اس لیے عوامی نمائندوں کے انتخاب سے متعلق شرائط آئینی ترمیم کے بجائے مناسب قانونی طریقہ کار کے تحت طے کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے یہ بات آئینی (ترمیمی) بل 2024 پر غور کے لیے منعقدہ کمیٹی اجلاس کے دوران کہی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر خلیل طاہر سندھو، سینیٹر شہادت اعوان اور سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے شرکت کی جبکہ سیکرٹری وزارت قانون، ایڈیشنل ڈرافٹ مین اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے 9 ستمبر 2024 کو ایوان بالا میں متعارف کرائے گئے آئینی (ترمیمی) بل 2024 میں مجوزہ ترمیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

محرک بل نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ بل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 62 میں ترمیم کے لیے پیش کیا گیا ہے جس کے تحت صدر پاکستان، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلیٰ، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، سپیکر و ڈپٹی سپیکر، وفاقی وزیر، وزیر مملکت اور صوبائی وزیر کے لیے کم از کم گریجویشن کی ڈگری لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔بل کے مطابق امیدوار کسی بھی شعبے میں بیچلر ڈگری یا ہائر ایجوکیشن کمیشن یا کسی نافذ العمل قانون کے تحت تسلیم شدہ مساوی ڈگری کا حامل ہونا چاہیے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ عہدے عوام کے ووٹوں کے ذریعے منتخب نمائندوں کو حاصل ہوتے ہیں جبکہ بعض عہدوں پر تقرری پارٹی قیادت یا متعلقہ فورمز کے ذریعے عمل میں آتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کی کوشش کی گئی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ تجویز نیک نیتی پر مبنی ہے تاہم اس سے آئینِ پاکستان کے بنیادی ڈھانچے پر اثر پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے رائے دی کہ ایسی شرائط آئینی ترمیم کے بجائے رولز آف بزنس کے ذریعے زیادہ موثر انداز میں نافذ کی جا سکتی ہیں۔کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا کہ اس معاملے پر تمام صوبوں سے رائے حاصل کی جائے گی جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ صوبوں کی آراء موصول ہونے کے بعد کمیٹی کے فیصلے کے مطابق آئندہ لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔

قائمہ کمیٹی نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ چونکہ یہ معاملہ قومی پالیسی سے متعلق ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریقین کی آراء جامع اور متوازن پالیسی کی تشکیل کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اجلاس میں شامل دیگر ایجنڈا آئٹمز محرکین کی عدم موجودگی کے باعث آئندہ اجلاس تک موخر کر دیئے گئے۔