سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس، ادارہ جاتی کارکردگی اور پالیسی رہنمائی کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ لاجز میں سینٹر ہدایت اللہ خان کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں وزارت قومی ورثہ و ثقافت اور اس کے منسلک محکموں کے کردار، ذمہ داریوں، ادارہ جاتی صلاحیت اور پالیسی کے بارے میں جامع جائزہ لینا تھا۔وزارت کے سیکریٹری نے کمیٹی کو ڈویژن کے مینڈیٹ، منظور شدہ آسامیوں، موجودہ افرادی قوت، خود …

اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ لاجز میں سینٹر ہدایت اللہ خان کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں وزارت قومی ورثہ و ثقافت اور اس کے منسلک محکموں کے کردار، ذمہ داریوں، ادارہ جاتی صلاحیت اور پالیسی کے بارے میں جامع جائزہ لینا تھا۔وزارت کے سیکریٹری نے کمیٹی کو ڈویژن کے مینڈیٹ، منظور شدہ آسامیوں، موجودہ افرادی قوت، خود مختار اداروں اور منسلک محکموں کی تفصیلات اور سالانہ بجٹ مختصات کے بارے میں بریفنگ دی۔کمیٹی کو قومی انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج (لوک ورثہ) کے ڈائریکٹر جنرل نے تفصیلی پریزنٹیشن دی،

جس میں ادارے کی ذمہ داریاں، پچھلے دو سال کے دوران قومی اور علاقائی سطح پر منعقد ہونے والے ثقافتی پروگراموں کی تعداد، اور سالانہ بجٹ کے استعمال کی تفصیلات شامل تھیں۔اس کے بعد محکمہ آثار قدیمہ اور میوزیمز کے ڈائریکٹر جنرل نے محکمہ کے بنیادی فرائض، افرادی قوت اور مالی مختصات پر الگ بریفنگ پیش کی۔اجلاس کے دوران کمیٹی نے قائدِ اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ سے متعلق معاملات پر تشویش کا اظہار کیا۔ چیئرمین نے وزارت کے سیکریٹری کو ہدایت کی کہ ثقافتی تقریبات کا سالانہ کیلنڈر کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔

کمیٹی نے بین الاقوامی ثقافتی دوروں کی تفصیلات بھی طلب کیں، جس پر وزارت نے بتایا کہ گزشتہ سال چین، جاپان، کوریا اور کویت سمیت متعدد ممالک کے ساتھ ثقافتی تبادلے کیے گئے۔سینیٹر سرمد علی نے ریٹائرڈ یا مالی طور پر کمزور فنکاروں کے لیے مالی معاونت کے بارے میں سوال کیا۔ وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ فنکاروں کے لیے مالی امداد کا نظام موجود ہے۔

سینیٹر سرمد علی نے ماضی کی حکومتوں کے ثقافتی ورثہ اداروں کے قیام میں کردار کا بھی ذکر کیا۔ سیکرٹری نے سینیٹر سرمد علی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کلیدی ثقافتی اداروں کے تحفظ میں کردار کو تسلیم کیا۔سینیٹر سید وقار مہدی نے صوبوں کی طرف سے وفاقی ثقافتی اداروں بشمول قائدِ اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کے لیے مالی معاونت کے بارے میں استفسار کیا۔ کمیٹی کے اراکین نے یہ بھی زور دیا کہ قومی آرکائیوز وزارت قومی ورثہ و ثقافت کے تحت کام کریں۔کمیٹی نے کراچی کے قومی میوزیم میں محدود گیلری اسپیس پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ تقریباً 10,000 نوادرات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں جبکہ 90,000 سے زائد نوادرات جگہ کی کمی کے باعث ذخیرہ خانے میں موجود ہیں۔ اراکین نے اسلام آباد میں قومی میوزیم کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کے مکمل ثقافتی ورثے کو مناسب گنجائش کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔کمیٹی نے محترم انور شمزا کی جانب سے عطیہ کردہ شمزا پینٹنگ کے معاملے پر بھی بحث کی۔ وزارت کے حکام نے بتایا کہ یہ پینٹنگز 2020 میں سابقہ حکومت کے ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت واپس لی گئی تھیں۔

چیئرمین نے قومی میوزیم کی عمارت کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ چوری شدہ نوادرات کے معاملے پر وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد کوئی نئی رپورٹنگ سامنے نہیں آئی۔ پہلے گندھارا اور موہنجو داڑو سے قیمتی نوادرات غیر قانونی طور پر بیرون ملک سمگل کیے گئے تھے۔چیئرمین سینیٹر ہدایت اللہ خان نے سمگل شدہ نوادرات کی واپسی کے لیے بین الاقوامی مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کی تفصیلات طلب کیں۔ وزارت نے بتایا کہ یورپی اور ایشیائی ممالک کے ساتھ متعدد ایم او یوز پر دستخط کیے گئے، جن کے نتیجے میں بہت سے نوادرات واپس لائے گئے۔ چیئرمین نے ثقافتی سفارت کاری کو مضبوط بنانے اور غیر ملکی سفارت خانوں کے ساتھ رابطوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ قومی ورثہ محفوظ ہو سکے۔

کمیٹی نے پاکستان کے چھ یونیسکو عالمی ورثہ مقامات کی صورتحال کا جائزہ لیا اور وزارت سے مطالبہ کیا کہ رجسٹرڈ مقامات کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ اراکین نے آثار قدیمہ کی کھدائی کے کام پر بھی گفتگو کی، اور سندھ میں امریکی و جرمن ٹیموں کے جاری کام اور شاہ اللہ ڈٹا کی غاروں کی کھدائی کے لیے جاپانی ماہرین کی پیشکش کا ذکر کیا۔

کمیٹی نے تمام صوبوں بشمول آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں سالانہ ثقافتی نمائشوں کے انعقاد پر زور دیا۔ اجلاس میں آڈیو ویزول آرکائیوز، لوک ورثہ فنڈنگ، بین الاقوامی تعاون، باغِ جناح، اور اسلام آباد میں سر سید میموریل ہال کی ڈیجیٹل گیلری پر بھی گفتگو ہوئی۔اجلاس کا اختتام کمیٹی کی جانب سے انسانی وسائل اور مالی وسائل کی کمی پر تشویش کے اظہار کے ساتھ ہوا اور قومی ورثہ کے اداروں کو پالیسی نگرانی اور مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے مضبوط بنانے کے عزم کی تجدید کی گئی۔