اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے کمشنر مظفر احمد مرزا کی سربراہی میں ایک مشاورتی سیشن کا انعقاد جمعہ کو کراچی میں ہوا۔ اجلاس میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان کے چیئرمین محمد حسن اور ان کی ٹیم نے شرکت کی۔سیشن کا مقصد رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے لیے ایک ریگولیٹری فریم ورک پر غور کرنا تھا جو رئیل …
سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے کمشنر مظفر احمد مرزا کی سربراہی میں مشاورتی سیشن

مزید خبریں
اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے کمشنر مظفر احمد مرزا کی سربراہی میں ایک مشاورتی سیشن کا انعقاد جمعہ کو کراچی میں ہوا۔ اجلاس میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان کے چیئرمین محمد حسن اور ان کی ٹیم نے شرکت کی۔سیشن کا مقصد رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے لیے ایک ریگولیٹری فریم ورک پر غور کرنا تھا جو رئیل اسٹیٹ پراجیکٹس کے لیے ایڈوانس ڈپازٹس کو مدعو کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
ان کمپنیوں کے لیے فریم ورک کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت موجود ہے، مگر اب تک نافذ نہیں ہو سکا۔کمپنیوں کو کسی بھی رئیل اسٹیٹ منصوبے کا اعلان یا تشہیر کرنے سے پہلے ایس ای سی پی سے این او سی لینا ضروری ہے۔
عوام سے لی گئی تمام ایڈوانس رقوم کمپنیوں کو اسکرو اکائونٹ میں رکھنی ہوں گی۔شرکا نے رئیل اسٹیٹ شعبہ کی زمینی حقائق، عملی پہلوئوں اور کمزور پہلوئوں پر تفصیل سے بات کی تاکہ ایسا مضبوط فریم ورک بنایا جا سکے جو سرمایہ کاروں کے تحفظ اور شعبے کی ترقی دونوں کو یقینی بنائے۔
ایس ای سی پی کے نمائندوں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ریگولیٹری نظام کو مزید مضبوط کریں گے، سرمایہ کاروں کا تحفظ یقینی بنائیں گے اور ٹرسٹی نظام کے ذریعے منصوبوں کی فنانسنگ میں شفافیت کو فروغ دیں گے۔








