سی ای او سمیڈا کا کلسٹر بیسڈ لینڈنگ سٹڈیز پر منعقدہ سیمینار سے خطاب

سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے کلسٹر بیسڈ لینڈنگ اسٹڈیز پر سیمینار منعقد کیا،جس میں مالیاتی اداروں، صنعتی شعبے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

لاہور۔4ستمبر (اے پی پی):سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے کلسٹر بیسڈ لینڈنگ اسٹڈیز پر سیمینار منعقد کیا،جس میں مالیاتی اداروں، صنعتی شعبے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔سیمینار کا مقصد وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے ترقیاتی و یژن کے تحت ایس ایم ایز کی رسمی مالیاتی سہولیات تک رسائی بہتر بنانا اور بینکوں اور کاروباری اداروں کے مابین روابط مضبوط کرنا تھا۔چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیڈا نادیہ جہانگیر سیٹھ نے کہاکہ وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی رہنمائی میں سمیڈا ایس ایم فنانسنگ کے فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کر رہا ہے۔کلسٹر بیسڈ سٹڈی اس جانب ایک ٹھوس قدم ہے کیونکہ کلسٹرز کی کاروباری اور مالی ضروریات کو سمجھ کر بینک زیادہ موزوں فنانسنگ فراہم کر سکتے ہیں۔اسٹیٹ بینک کے شعبہSH&SFD کے سربراہ ڈاکٹر محمد سلیم نے کلیدی خطاب کیا، جبکہ اسٹڈیز پریزنٹیشن بھی دی گئی۔

سیمینار میں ایسے ایس ایم ای کلسٹرز کا جائزہ لیاگیا، جن میں مالی ضروریات پوری کر کے ترقی کے مواقع موجود ہیں۔جی ایم سمیڈا راجہ حسنین جاوید کے مطابق جون 2026 تک ایس ایم ای فنانسنگ30.5 فیصد اضافے سے901.6 ارب روپے ہوگئی،جبکہ قرض لینے والے کاروباری اداروں کی تعداد 318,585 تک پہنچ گئی۔انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز جی ڈی پی میں تقریبا40 فیصد، برآمدات میں 30 فیصد اور غیر زرعی روزگار میں80 فیصد سے زائد حصہ رکھتے ہیں۔سیمینار میں سمیڈا کے فنانشل لٹریسی پروگرام، فنانسنگ ہیلپ ڈیسک، پری فیزیبلٹی اسٹڈیز اور ایس ایم ای کریڈٹ اسکورنگ سروسز کو بھی اجاگر کیا گیا۔شرکا نے اسٹڈیز کے نتائج کو عملی قرضہ جاتی مواقع میں تبدیل کرنے اور ایس ایم ایز کی مالی سہولیات تک رسائی بڑھانے پر زور دیا۔

مزید خبریں