شاہ محمود قریشی کا آسٹریلوی ہم منصب سینیٹر میریس پین سے ٹیلیفونک رابطہ کورونا وبائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال، مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے بھی آگاہ کیا

اسلام آباد ۔ 9 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے آسٹریلیا کی وزیر خارجہ سینیٹر میریس پین سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ بات چیت کے دوران کورونا عالمی وبائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے کورونا وائرس کے سبب آسٹریلیا میں ہونے والے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا۔ شاہ محمود قریشی …

اسلام آباد ۔ 9 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے آسٹریلیا کی وزیر خارجہ سینیٹر میریس پین سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ بات چیت کے دوران کورونا عالمی وبائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے کورونا وائرس کے سبب آسٹریلیا میں ہونے والے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت نے اس عالمی وباء کے معاشی نقصانات کے ازالہ کیلئے ”جاب کیپرز پروگرام” کے تحت 130 بلین آسٹریلوی ڈالر کی رقم مختص کی ہے تاکہ آسٹریلیا میں کاروباری شعبہ کو ممکنہ خسارے سے بچایا جا سکے، اس عالمی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس وباء کے باعث ملکی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے ازالہ کیلئے آسٹریلوی حکومت کے بروقت اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔ وزیر خارجہ نے آسٹریلیا میں مقیم پاکستانیوں بالخصوص زیر تعلیم طلباء کا خصوصی خیال رکھنے پر آسٹریلوی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر خارجہ نے پاکستان میں کورونا وباء کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے اپنی آسٹریلین ہم منصب کو آگاہ کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا کورونا عالمی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کوشاں ہے لیکن ترقی پذیر ممالک کو اپنے محدود معاشی وسائل کے سبب اس وبائی چیلنج سے نمٹنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اس کڑے وقت میں کمزور معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے ترقی پذیر ممالک کے واجب الادا قرضوں کو ری سٹرکچر کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ یہ ممالک اپنے وسائل اس وباء سے نمٹنے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے بروئے کار لا سکیں۔ وزیر خارجہ نے آسٹریلین ہم منصب کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سرکار نے 5 اگست سے لاکھوں کشمیریوں کو کرفیو کے ذریعے محصور بنا رکھا ہے، مسلسل کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک طرف پوری دنیا اس وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے مصروف عمل ہے تو دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کیلئے ڈومیسائل سے متعلقہ قواعد و ضوابط میں ترامیم کر رہا ہے جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے صریحاً منافی ہے۔ دونوں وزراء خارجہ نے اس عالمی چیلنج سے نمٹنے اور اس وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے مشاورتی سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔