شوگر کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر ایف بی آر، نیب، ایس ای سی پی اور ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم ،وزیراعظم کی ہدایت پر مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے مسابقتی کمیشن ، سٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ اداروں کوخطوط لکھ دیئے

اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے ایک اور وعدہ پورا کرتے ہوئے شوگر کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر ایف بی آر، نیب، ایس ای سی پی اور ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دے دیا اور شوگر کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر ایف بی آر، نیب، ایس ای سی پی اور ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور …

اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے ایک اور وعدہ پورا کرتے ہوئے شوگر کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر ایف بی آر، نیب، ایس ای سی پی اور ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دے دیا اور شوگر کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر ایف بی آر، نیب، ایس ای سی پی اور ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور گورنر سٹیٹ بینک، مسابقتی کمیشن اور تین صوبوں کو بھی خط لکھ دیئے گئے ہیں۔ پیر کو جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے شوگر مافیا کے خلاف کریک ڈاﺅن کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے اور کرپٹ عناصر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ حکمران خود ملوث نہ ہوں تو کرپٹ عناصر معاشرے میں پنپ نہیں سکتے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے مسابقتی کمیشن، سٹیٹ بینک اورا دیگر متعلقہ اداروں کوخطوط لکھ دیئے۔ خطوط کے ساتھ شوگر کمیشن رپورٹ بھی ارسال کر دی گئی۔ وفاقی حکومت نے 90 روز میں عمل درآمد رپورٹ پیش کرنے کا کہہ دیا۔ وفاقی کابینہ نے 23 جون کو ایکشن پلان کی منظوری دی تھی۔ حکومت نے ایف بی آر کو ملک بھر کی تمام شوگر ملز کا آڈٹ کرنے کا کہہ دیا۔ ایف بی آر کو شوگر ملز کی بے نامی ٹرانزیکشنز کی تحقیقات کرنے کا بھی کہہ دیا۔ حکومت نے نیب کو کابینہ فیصلے کے تناظر میں شوگر ملز اور مالکان کے مالی معاملات کی تحقیقات کا کہہ دیا۔ خط میں ہدایت کی گئی ہے کہ نیب شوگر کمیشن کے نتائج کی روشنی میں ذمہ داران کا تعین کرے۔ سٹیٹ بینک کو چینی ذخائر کے غلط استعمال اور مشکوک برآمدات کی تحقیقات کا کہا گیا۔ شوگر ملز کو سبسڈی کی ادائیگی کے باوجود گنے کے کاشتکاروں کو کم ادائیگی کی تحقیقات کا بھی کہا گیا ہے۔ حکومت نے سٹیٹ بینک کو تمام شوگر ملوں سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کا کہہ دیا۔ ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو کارپوریٹ فراڈ کی تحقیقات کی ہدایت کر دی گئی۔ ایس ای سی پی کو ذمہ داران کے تعین اور قانون کے مطابق عمل درآمد کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ مسابقتی کمیشن سے شوگر مافیا کیخلاف اقدامات میں تاخیر پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔ مسابقتی کمیشن وجوہات کا تعین کرے کہ شوگر کارٹل کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں کیا گیا۔ خط میں کہا گیا کہ مسابقتی کمیشن کو شوگر کارٹل کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور یوٹیلٹی سٹورز پر چینی کی عدم فراہمی کی تحقیقات کا کہا دیا گیا۔ وفاقی حکومت نے پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ کے چیف سیکرٹریز کو بھی خطوط لکھ دیئے۔ صوبائی حکومتیں شوگر کمیشن رپورٹ کے پیش نظر مختلف شوگر ملز کی تحقیقات کریں۔ گنا کاشتکاروں سے کم قیمت پر گنا خریدنے والی شوگر ملز کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ وفاقی حکومت کے مطابق مختلف شوگر ملز کا معاملہ صوبائی محکمہ اینٹی کرپشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ صوبائی حکومتوں کو شوگر ملز کی جانب سے گنا کاشتکاروں کو سود پر قرض دینے کی تحقیقات کا بھی کہا گیا ہے۔شوگر ملز مالکان کی جانب سے تاخیری حربے اپنائے گئے۔ حکومت نے شوگر مافیا کی جانب سے بلیک میل کرنے کی کوشش ناکام کر دی ہے۔شوگر کمیشن رپورٹ آنے کے بعد ملز مالکان نے عدالتوں میں چیلنج کر دیا تھا۔ معاملہ عدالتوں میں زیر سماعت ہونے کے باعث تاخیر کا باعث بناہے۔

مزید خبریں