شہریوں کے روزگار، ساکھ اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے واضح کیا ہےکہ شہریوں کے روزگار، ساکھ اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔یہ ریمارکس سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختونخوا کے سیکنڈری سکول ٹیچرز (SSTs) کی برطرفی کے خلاف دائر سول پٹیشنز پر دیئے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری، تفصیلی فیصلہ کے مطابق اس کیس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور …

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے واضح کیا ہےکہ شہریوں کے روزگار، ساکھ اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔یہ ریمارکس سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختونخوا کے سیکنڈری سکول ٹیچرز (SSTs) کی برطرفی کے خلاف دائر سول پٹیشنز پر دیئے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری، تفصیلی فیصلہ کے مطابق اس کیس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور سروس ٹریبونل کے فیصلے میں دیئے گئے متعدد عدالتی حوالوں کو غیر موجود قرار دے کر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

جسٹس مینگل حسن اورنگزیب نے محفوظ فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ کے پی سروس ٹریبونل نے جن عدالتی فیصلوں کا حوالہ دے کر اساتذہ کی برطرفی کو درست قرار دیاوہ فیصلے دراصل موجود ہی نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایسا تاثر ملتا ہے کہ سروس ٹریبونل نے شاید مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے غلط مواد پر انحصار کیا جو کہ قابلِ افسوس ہے۔

واضح رہے کہ متاثرہ 41 اساتذہ کو 2012 اور 2013 میں فاٹا ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کے احکامات پر ایس ایس ٹی کی پوسٹوں پر تعینات کیا گیا تھا، بعض کنٹریکٹ تھے جنہیں بعد میں 2009 کے ریگولرائزیشن ایکٹ کے تحت مستقل کیا گیا۔سالہا سال خدمات انجام دینے کے بعد 2019 میں ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے ان تعیناتیوں کو "جعلی” قرار دے کر منسوخ کیا اور تنخواہیں واپس لینے کا حکم بھی جاری کر دیا۔

اپیلوں پر کے پی سروس ٹریبونل نے دو مرتبہ برطرفیوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے باقاعدہ انکوائری کا حکم دیا تاہم تیسری انکوائری کے بعد ڈائریکٹوریٹ نے 30 اگست 2024 کو ایک بار پھر برطرفی کے احکامات بحال کر دیئے۔سپریم کورٹ میں پیش کی گئی 17 مئی 2024 کی انکوائری رپورٹ کی اہم نکات کے مطابق اساتذہ کے پاس مکمل تعلیمی اسناد موجود ہیں،تمام اساتذہ کئی سال باقاعدہ تنخواہوں کے ساتھ خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ بھی تعیناتی سے متعلق ضروری دستاویزات دے نہ سکا۔کمیٹی نے واضح کیا کہ اساتذہ نے کوئی دھوکہ دہی نہیں کی اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی تو وہ تعیناتی کرنے والے اداروں کی جانب سے ہوئی۔اساتذہ کو برطرف کرنا اُن کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کے پی ، پی ایس سی کی جانب سے جواب نہ دینا برطرفی کا جواز نہیں بن سکتا۔

ویب سائٹ سے ریکارڈ تلاش نہ ہونے کی بنیاد پر شہریوں کی ملازمت ختم نہیں کی جا سکتی۔سروس ٹریبونل نے جن عدالتی فیصلوں (SCMR 985-2022، PLD 2021-362 وغیرہ) کا حوالہ دیا،وہ فیصلے عدالت کے ریکارڈ میں موجود ہی نہیں۔عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی تشویشناک ہے اور عدالتی نظام کے وقار سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے سروس ٹریبونل کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے معاملے کو انتہائی غور و فکر کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہےکیونکہ اساتذہ کو مناسب موقعِ صفائی نہیں دیا گیا۔انکوائری نے خود تعیناتی کے جعلی ہونے کے ثبوت نہیں دیئے۔ٹریبونل نے غیر موجود عدالتی فیصلوں پر انحصار کیا ۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ شہریوں کے روزگار، ساکھ اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔