صحت مند زندگی مناسب نیند، قدرتی روشنی ، منظم معمولات زندگی سے وابستہ ہے، ڈاکٹر سکندر اقبال
صحت مند زندگی مناسب نیند، قدرتی روشنی ، منظم معمولات زندگی سے وابستہ ہے، ڈاکٹر سکندر اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔13ستمبر (اے پی پی):پبلک ہیلتھ سپیشلسٹ اور معروف طبی ماہر ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا ہے کہ صحت مند زندگی صرف اچھی غذا ، ورزش اور ادویہ سے ہی ممکن نہیں بلکہ مناسب نیند، قدرتی روشنی ، منظم معمولات زندگی اور جسم کی حیاتیاتی گھڑی کے احترام سے وابستہ ہے، انسانی جسم کا ہر عضو ، خلیہ اور ہارمون منظم ترتیب اور مقررہ وقت کے مطابق اپنے امور سرانجام دیتا ہے جس سے جدید سائنس میں سرکیڈین ردہم (حیاتیاتی تال میل) کانام دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حیاتیاتی تال میل انسان کی صحت مند زندگی کو یقینی بنانے کےلئے دل کی دھڑکن، جسمانی درجہ حرارت، بلڈ پریشر، ہارمونز کا اخراج، نظام ہاضمہ، میٹابولزم، انسولین کی کارکردگی ، دماغی صحت وتوجہ ، یادداشت، جذباتی توازن اور قوت مدافعت کو منظم رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حیاتیاتی تال میل متوازن رہے تو انسانی جسم، ذہنی اور جذباتی طور پر بہتر زندگی گزارتا ہے تاہم اس میں معمولی سی بے ترتیبی صحت پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ انسانی طرز زندگی میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو ئی ہیں ۔ مصنوعی روشنی، سمارٹ فون، کمپیوٹر، سوشل میڈیا، 24 گھنٹے جاری رہنے والی معاشی سرگرمیاں، نائٹ شفٹس اور بے ترتیب معمولات زندگی نے قدرتی فرق کو دھندلا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید زندگی کے معمول کی یہ عادات حقیقت میں انسان کے جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو آہستہ آہستہ بے ترتیب کر دیتی ہیں۔ جدید طبی تحقیق کے مطابق سرکیڈین ردہم کی خرابی صرف بے خوابی یا جسمانی تھکن کے مسائل پیدا نہیں کرتی بلکہ موٹاپا، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، ذہنی دبائو، ڈیپریشن، یادداشت کی کمزوری، ہارمونل بے ترتیبی اور قوت مدافعت میں کمی سمیت مختلف غیر متعدی بیماریوں کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اور دنیا کے ممتاز طبی و تحقیقی مراکز نیند اور حیاتیاتی گھڑی کو صحت عامہ کے بنیادی موضوعات میں شامل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان طبقہ میں سکرین ٹائم کا زیادہ استعمال ، امتحانات اور کوچنگ کا دبائو ، غیر منظم دفتری اوقات، رات گئے تک جاری رہنے والے سماجی تقریبات اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی ایسے طرز زندگی کو فروغ دے رہے ہیں جو فطرت کے اصولوں سے ہم آہنگی نہیں ہے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ طرز زندگی میں رونما ہونے والی یہ تبدیلیاں جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ذہنی اور سماجی مسائل میں بھی تیزی سے اضافہ کر رہی ہیں جو فرد کی انفرادی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا پبلک ہیلتھ چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکیڈین ردہم کی حفاظت کسی ایک فرد کا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ صحت عامہ سے وابستہ اہم قومی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں غیر متعدی بیماریوں ، ذہنی صحت کے مسائل ، موٹاپے اور ذیابیطس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس میں سے متعدد مسائل کا تعلق غیر صحت مند طرز زندگی اور حیاتیاتی گھڑی سے منسلک ہے۔
اس طرح کے حالات میں صرف ہسپتالوں، ادویات اور علاج پر انحصار کافی نہیں ہے بلکہ بیماریوں کی روک تھام پر مبنی حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے والدین کو ہدایت کی کہ بچوں کے سونے ،جاگنے، کھانے اور سکرین کے استعمال کے باقاعدہ اوقات مقرر کریں ۔ مزید برآں تعلیم ادارےنیند، جسمانی سرگرمیاں، ذہنی صحت اور ڈیجیٹل توازن کے موضوعات کو صحت کی تعلیم کا باقاعدہ حصہ بنائیں۔ اسی طرح میڈیا بھی صحت مند طرز زندگی کے فروغ کےلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے جبکہ صحت کے شعبہ سے وابستہ افراد مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کی روزمرہ عادات، نیند کے معیار اور حیاتیاتی گھڑی سے متعلق بھی راہنمائی فراہم کریں۔
انہوں نے کہا کہ جب انسان فطرت کے مطابق سوتا، جاگتا، کھاتا ، پیتا اور کام کرتا ہے تو جسم کے تمام نظام بہترین ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اگر ہم ان بنیادی اصولوں کو نظر انداز کریں تو بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ دور جدید میں طب ، پبلک ہیلتھ اور سائنسی تحقیق اس بات پر متفق ہیں کہ صحت مند زندگی صرف اچھی غذا ، ورزش اور ادویہ سے ہی ممکن نہیں بلکہ مناسب نیند، قدرتی روشنی ، منظم معمولات زندگی اور جسم کی حیاتیاتی گھڑی کے احترام سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی زندگی کو فطرت کے اصولوں سے ہم آہنگ کر لیں تو نہ صرف متعدد بیماریوں کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے بلکہ ایک صحت مند ، فعال اور متوازن معاشرہ کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔







