اسلام آباد۔8اپریل (اے پی پی):سی ڈی ڈبلیو پی فورم نے اڑان پاکستان اقدام کے تحت اسلام آباد (کُری)اور سندھ (ٹنڈو محمد خان)میں دانش اسکول منصوبوں کی منظوری دے دی، جس کا مقصد تعلیمی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا اور ملک بھر میں معیاری اور کم لاگت ترقی کو یقینی بنانا ہے۔وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ صحت کا شعبہ اڑان پاکستان اقدام کے تحت حکومتی ترقیاتی ایجنڈے کا ایک …
صحت کا شعبہ اڑان پاکستان اقدام کے تحت حکومتی ترقیاتی ایجنڈے کا ایک اہم ستون ہے،احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اپریل (اے پی پی):سی ڈی ڈبلیو پی فورم نے اڑان پاکستان اقدام کے تحت اسلام آباد (کُری)اور سندھ (ٹنڈو محمد خان)میں دانش اسکول منصوبوں کی منظوری دے دی، جس کا مقصد تعلیمی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا اور ملک بھر میں معیاری اور کم لاگت ترقی کو یقینی بنانا ہے۔وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ صحت کا شعبہ اڑان پاکستان اقدام کے تحت حکومتی ترقیاتی ایجنڈے کا ایک اہم ستون ہے۔سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس بدھ کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات و ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں قومی معیشت کے اہم شعبوں کو مضبوط بنانے اور حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کو تیز کرنے کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اڑان پاکستان اقدام کے تحت 24.385 ارب روپے مالیت کے 7 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن کا مقصد پائیدار معاشی ترقی اور قومی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس میں چیف اکانومسٹ، وائس چانسلر پی آئی ڈی ای، پلاننگ کمیشن کے ارکان، وفاقی سیکرٹریز، صوبائی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ محکموں کے سربراہان اور متعلقہ وزارتوں و صوبائی حکومتوں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے ایجنڈے میں تعلیم و تربیت، گورننس، صحت، فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ اور دیگر شعبہ جات کے منصوبے شامل تھے، جو اڑان پاکستان کے وسیع ترقیاتی وژن کے مطابق ہیں۔ اس وژن کا مقصد انسانی وسائل کی ترقی، گورننس کی جدید کاری، انفراسٹرکچر کی بہتری اور پائیدار و جامع معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔فورم نے ماحولیاتی شعبے کا ایک نیا منصوبہ “سندھ میں فضائی معیار کی بہتری کے لیے ایئر کوالٹی مانیٹرنگ نیٹ ورک” جس کی لاگت 1,418.400 ملین روپے ہے، فورم نے مشروط طور پر منظور کیا اور ہدایت کی کہ ڈی سی پی سی، ای اے ڈی کے ساتھ مل کر فنڈنگ کے امور طے کرے۔
گورننس کے شعبے میں “آزاد جموں و کشمیر میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی مضبوطی” کا منصوبہ 1,981.650 ملین روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا، تاہم اس میں اسلحہ کی لاگت کو معقول بنانے کی شرط عائد کی گئی۔اجلاس کے دوران احسن اقبال نے اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خطے میں دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
تعلیم و تربیت کے شعبے کے تحت دو منصوبے پیش کیے گئے۔پہلا منصوبہ “اسلام آباد (کُری) میں دانش اسکول کا قیام” 6,996.586 ملین روپے کی لاگت سے صرف وزیرِ اعظم کی ہدایت پر صرف گرلز ہاسٹل کے جزو تک محدود رکھتے ہوئے منظور کیا گیا۔احسن اقبال نے ہدایت کی کہ تمام دانش اسکولز ایک معیاری ماڈل کے تحت بنائے جائیں اور منظور شدہ لاگت سے تجاوز نہ کیا جائے۔انہوں نے وزارتِ تعلیم کو ہدایت کی کہ وزارتِ خزانہ کے ساتھ مل کر پانچ سالہ مالی منصوبہ تیار کرے اور دو ہفتوں میں مکمل آپریشنل و بجٹ پلان پیش کرے، جبکہ پی ایس ڈی پی کے محدود وسائل کے پیش نظر مالی نظم و ضبط پر زور دیا۔دوسرا منصوبہ “سندھ (ٹنڈو محمد خان) میں دانش اسکول کا قیام” 3,693.836 ملین روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا، جس میں دیگر دانش اسکولز کے مطابق لاگت اور ڈھانچے کو ہم آہنگ کرنے کی ہدایت دی گئی۔
صحت کے شعبے میں “سندھ ہیلتھ سپورٹ پروگرام” 2,266.997 ملین روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا، جس میں عالمی بینک کی جانب سے 2,100.539 ملین روپے جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے 166.458 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے۔اجلاس کے دوران احسن اقبال نے کہا کہ صحت کا شعبہ اڑان پاکستان کے تحت ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی ستون ہے اور اس کی مضبوطی انسانی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ کے شعبے میں دو منصوبے منظور کیے گئے۔حیات آباد، پشاور میں وفاقی ٹربیونلز/عدالتی کمپلیکس کی تعمیر”(628.816 ملین روپے)،ماڈل جیل ایچ-16 اسلام آباد کی تعمیر” (7,399.120 ملین روپے)اجلاس میں منظور کیے گئے ، تمام منصوبے حکومت کے جامع ترقیاتی وژن کے عکاس ہیں، جو ملک میں پائیدار، متوازن اور جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ترتیب دئیے گئے ہیں ۔








