صدرفیصل آبادوومن چیمبر کاایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم

فیصل آبادوومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر شاہدہ آفتاب اور بانی صدرروبینہ امجد کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان فوری دوطرفہ جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے

فیصل آباد۔ 08 اپریل (اے پی پی):فیصل آبادوومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر شاہدہ آفتاب اور بانی صدرروبینہ امجد کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان فوری دوطرفہ جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ خطے میں استحکام کی بحالی کی جانب ایک نہایت حوصلہ افزا اور تاریخی پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ اطلاعات کے مطابق دونوں فریقین نے دو ہفتوں پر مشتمل فوری جنگ بندی کے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے جبکہ پائیدار حل کے لیے مذاکرات میں بین الاقوامی حمایت بھی حاصل ہے۔صدر شاہدہ آفتاب اور بانی صدرروبینہ امجد نے اپنے مشترکہ بیان میں وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا جن کا بروقت فیصلہ دانشمندی، تحمل اور تصادم کے بجائے سفارتکاری کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ فوری جنگ بندی انسانی بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے، شہری جانوں کے تحفظ، اہم تجارتی راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی ایران کے ساتھ باہمی احترام، خودمختاری، علاقائی تعاون اور تمام حل طلب مسائل کے پرامن مذاکرات کے ذریعے ایک جامع اور طویل المدتی امن معاہدے کی راہ ہموار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن نہ صرف خطے کے عوام کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی اقتصادی استحکام، توانائی کے تحفظ، بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ ایک پرامن اور محفوظ خطہ کاروباری ترقی، خواتین کی کاروباری صلاحیت، صنعتی تسلسل اور سماجی و معاشی ترقی کو فروغ دیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ امن ہی خوشحالی کی بنیاد ہے۔ مشرق وسطیٰ میں استحکام سپلائی چینز، برآمدی منڈیوں، توانائی کی لاگت اور علاقائی روابط پر مثبت اثر ڈالتا ہے جو پاکستان کی معیشت اور فیصل آباد کی کاروباری برادری کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے ان تمام علاقائی اور عالمی فریقین کی سفارتی کوششوں کو سراہا جنہوں نے اس جنگ بندی میں کردار ادا کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ مستقل اور قابلِ عمل امن کے لیے سنجیدہ مذاکرات جاری رکھیں تاکہ مشرق وسطیٰ ہم آہنگی، اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کی جانب گامزن ہو سکے۔