اسلام آباد/دوحہ ۔ 22 فروری (اے پی پی) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے پلوامہ واقعہ کی آڑ میں جو مذہبی منافرت ، تعصب اور عدم برداشت کی مہم چلا رکھی ہے وہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ متشدد انتہا پسند گروہوں کی حمایت یافتہ بھارت کی انتہا پسند حکومت جنوبی ایشیاءکو جنگ اور فوجی تصادم کی طرف دھکیل کر مقبوضہ …
صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد/دوحہ ۔ 22 فروری (اے پی پی) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے پلوامہ واقعہ کی آڑ میں جو مذہبی منافرت ، تعصب اور عدم برداشت کی مہم چلا رکھی ہے وہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ متشدد انتہا پسند گروہوں کی حمایت یافتہ بھارت کی انتہا پسند حکومت جنوبی ایشیاءکو جنگ اور فوجی تصادم کی طرف دھکیل کر مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف اپنے بھیانک جرائم پر پردہ ڈالنے کی نا کام کوشش کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہو ں نے جارج ٹاﺅن یونیورسٹی دوحہ، قطر یونیورسٹی اور بروکنگ انسٹیٹیوشن دوحہ سنٹر میں مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے بجائے پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ انہوںے کہا کہ بھارت نے کوئی خطرناک راستہ اختیار کرتے ہوئے پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی تو پاکستان ایسا جواب دے گا جس کے نتائج بھارت کے لیے بہت سنگین ہوں گے ۔ صدر آزاد کشمیر نے افغانستان میں سنگین مشکلات کے باوجود قیام امن کے لیے قطر کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ قطر تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے بھی سہولت کاری کا فریضہ انجام دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے فریم ورک، سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کو سامنے رکھتے ہوئے تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کی ہر کوشش کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ جموں کی موجودہ صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی قابض افواج جنہیں کالے قوانین کے تحت بے پناہ اختیارات حاصل ہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں جو کھل کھیلنے کا موقع دیا گیا اُ س نے بھارت کو اتنا شیر بنا دیا کہ وہ اب پاکستان پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے جو اُس کی خام خیالی ہے۔ اگر بھارت نے ایسی کوئی حماقت کی اُسے اس کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام اور پاکستان پلوامہ واقعہ کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے تیار ہیں لیکن تحقیقاتی کمیشن کو پلوامہ واقعہ کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت کے جرائم کی تحقیقات بھی کرنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر کسی بھی انکوائری کمیشن کو طاقت کے غیر ضروری استعمال ، بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکتوں ، چھ ہزار سے زیادہ لوگوں کی بینائی سے محروم کرنے خواتین کے خلاف جنسی تشدد ، جبری گمشد گیوں ، آندھا دھند گرفتاریوں ، نظر بندیوں اور جیلوں اور ٹارچر سیلوں میں قیدیوں پر تشدد، اظہار رائے پر قدغن اور شہریوں کے صحت اور تعلیم کے حقوق غصب کرنے کی بھی تحقیقات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کا ظلم اور جبر سب سے بڑی حقیقت ہے جسے چھپانے کے لیے بھارتی حکمران کشمیریوں ، بھارت کے مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 71 سال کی تاریخ گواہ ہے کہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کو فوجی طریقے سے نہیں حل کیا جا سکتا۔ اگر ایسا کرنا ممکن ہوتا تو بھارت بہت پہلے کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا کر اسے حل کر چکا ہوتا لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوا اور نہ کبھی کامیاب ہو گا۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اور پاکستان سفارتکاری ، مذاکرات اور گفت و شنید کے ذریعے مسائل کو حل کرنے پر یقین رکھتے ہیںاور یہ موقف رکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے اس تنازعہ کے حل کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت اور پاکستان کے مابین کسی بھی جنگ یا فوجی تصادم کو روکنے کےلئے اپنا کردار ادا کرے کیونکہ ایسا کوئی تصادم جنوبی ایشیا اور ہمسایہ ملکوں کےلئے تباہ کن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی 8 لاکھ فوج کے ہاتھوں مظالم کو ختم کئے بغیر مقبوضہ کشمیر میں امن و استحکام لانا نا ممکن ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان چین ، روس ، برطانیہ، امریکہ اور فرانس کو عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔







