دوشنبے ۔ 19 جون (اے پی پی) پاکستان اور تاجکستان نے باہمی تجارت کو 50 کروڑ ڈالر تک بڑھانے، فضائی سروس کی بحالی اور کاسا 1000 منصوبہ کی جلد تکمیل پر اتفاق کیا جبکہ اس عہد کا اعادہ بھی کیا گیا کہ دہشت گردی اور انتہاءپسندی کی لعنت سے چھٹکارا پانے کےلئے دونوں ممالک مل کر کام کرتے رہیں گے۔ یہ اتفاق رائے صدر مملکت ممنون حسین اور تاجک صدر …
صدر مملکت ممنون حسین اور تاجک صدر امام علی رحمانوف کے درمیان ملاقات
دوشنبے ۔ 19 جون (اے پی پی) پاکستان اور تاجکستان نے باہمی تجارت کو 50 کروڑ ڈالر تک بڑھانے، فضائی سروس کی بحالی اور کاسا 1000 منصوبہ کی جلد تکمیل پر اتفاق کیا جبکہ اس عہد کا اعادہ بھی کیا گیا کہ دہشت گردی اور انتہاءپسندی کی لعنت سے چھٹکارا پانے کےلئے دونوں ممالک مل کر کام کرتے رہیں گے۔ یہ اتفاق رائے صدر مملکت ممنون حسین اور تاجک صدر امام علی رحمانوف کے درمیان منگل کو ہونے والی ملاقات میں پایا گیا۔ ملاقات کے بعد تاجک صدر امام علی رحمانوف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے تاجکستان کے دورہ کی دعوت پر تاجک صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تاجکستان کے صدر، ان کی حکومت اور عوام کو بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر دل کی گہرائی سے مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس غیر معمولی اجتماع میں بنی نوع انسان کی بھلائی کےلئے کئے جانے والے فیصلوں کے نہایت مثبت نتائج اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تاجک صدر سے ملاقات دوطرفہ تعاون کے ضمن میں بہت اہم رہی جس میں توانائی، رسل و رسائل، تجارت اور دفاع جیسے موضوعات پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر علاقائی و عالمی مسائل بھی زیر غور آئے۔ اس بات چیت کے ذریعے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاد میں ابھی بہت سے شعبوں میں مل کر کام کرنے کی بہت گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں علاقائی وحدت، باہمی تجارت اور رابطوں کے فروغ کےلئے سڑک، ریل اور ہوائی راستے کو زیر استعمال لانے کی بات بھی کی اور یہ فیصلہ کیا کہ ان روابط میں اضافہ کےلئے ہوائی رابطوں کو ازسرنو بحال کیا جائے گا۔









