اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ عالمی برادری بھارت کا مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ ختم کرانے، بھارتی فوج کو مقبوضہ وادی سے نکالنے، میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندی کے خاتمہ کیلئے اپنا کردار ادا کرے، بھارت سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور کشمیریوں کی جان چھوڑ دے، پاکستان کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا، کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کایوم استحصال کے حوالہ سے خصوصی اجلاس میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ عالمی برادری بھارت کا مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ ختم کرانے، بھارتی فوج کو مقبوضہ وادی سے نکالنے، میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندی کے خاتمہ کیلئے اپنا کردار ادا کرے، بھارت سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور کشمیریوں کی جان چھوڑ دے، پاکستان کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا، کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، مجھے کامل یقین ہے کہ کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی، وہ دن دور نہیں جب کشمیریوں کی آزادی کا سورج طلوع ہو گا، بھارت نے ہمیشہ مذاکرات سے انکار کیا ہے، پاکستان نے ہمیشہ امن کی راہ اختیار کی ہے تاہم بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ایوان بالا کے یوم استحصال کے حوالہ سے خصوصی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ آج اہم دن ہے، یوم استحصال منانے کا مقصد کشمیر کے حوالہ سے ہمارے بیانیہ کو اقوام عالم تک پہنچانا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ تنازعہ کشمیر پر ہم سب متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019ءکو خطرناک اقدامات اٹھائے، کشمیر کو جیل خانہ بنا دیا گیا، کشمیریوں پر مظالم میں مزید اضافہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی دہشت گردی کے ذریعے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، ہم نے کشمیری بھائیوں کی پرامن جدوجہد اور ان پر مظالم کو ہر فورم پر اجاگر کیا ہے اور اسی طرح اجاگر کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے کشمیریوں کی حالت زار بیان کی تھی تاہم اب اس ظلم میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے، کشمیری مظلوم، محکوم اور مجبور بن کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے کشمیر کو فتح کرنے کے بعد ڈوگرہ مہاراجہ کو 75 لاکھ روپے میں فروخت کر دیا تھا، کشمیریوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف بھی جدوجہد کی، 1931ءمیں ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے 22 کشمیری شہید ہوئے، 1947ءمیں مہاراجہ ہری رام سنگھ نے بھارت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کا غیر قانونی الحاق کیا جبکہ سردار ابراہیم مرحوم نے آزاد کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنا سیاسی نقشہ جاری کیا ہے، اس نقشہ میں مقبوضہ جموں و کشمیر، جونا گڑھ، سردار گڑھ اور دیگر ریاستوں کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے، یہ تقسیم برصغیر کا ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خود تنازعہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا اور وہاں استصواب رائے کا وعدہ کیا اور بھارتی سیاستدان بھی اس وعدے کو 10 سال تک دہراتے رہے کہ کشمیری عوام کو رائے شماری کا حق دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اب تک لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں، لاکھوں خواتین بیوہ ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کو غیر قانونی طور پر منسوخ کر دیا حالانکہ یہ آرٹیکل بھارتی آئین میں غیر قانونی تھے تاہم ان آرٹیکلز کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی تھی حالانکہ مقبوضہ جموں و کشمیر نے آزاد ہونا تھا اور پاکستان کا حصہ بننا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال بی جے پی کی قیادت میں بھارتی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف نفرت کی عکاسی کرتی ہے، بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو، مواصلات اور طبی امداد کی بندش، بین الاقوامی امدادی اداروں کو روک کر انسانی حقوق کو پامال کرکے کشمیری عوام پر ظلم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 9 لاکھ سے زائد بھارتی فوج موجود ہے، یہ دنیا کا سب سے بڑا فوجی علاقہ بن چکا ہے، بھارتی فوجیوں کو پبلک سفیٹی ایکٹ کے تحت مزید اختیارات دیئے گئے ہیں جس کے باعث جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل میں اضافہ ہوا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت کو غیر قانونی طور پر گرفتار اور نظر بند کرکے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات کے باعث مسلمانوں کے جان و مال کو نقصان پہنچا ہے، ان کے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں، سات لاکھ سے زائد لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں، جنیوا کنونشن اور شملہ معاہدہ کی خلاف ورزی ہیں، بھارت نے بچوں کے حقوق پامال کرکے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ عالمی فورمز پر بھارت یہ مو¿قف اختیار کرتا ہے کہ یہ دوطرفہ مسئلہ ہے لیکن وہ شملہ معاہدہ کے تحت اس مسئلہ پر پاکستان سے مذاکرات بھی نہیں کرتا، بھارت نے ہر موقع پر مذاکرات سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاﺅن کے باعث صحت اور تعلیم کی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں، اس سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری معیشت کو تین ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز استعمال کرکے کشمیریوں کو نابینا کر رہا ہے، گذشتہ ایک سال کے دوران 13 ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے، خواتین کی ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں، مقبوضہ کشمیر سے سامنے آنی والی تصاویر بھارتی مظالم کو ظاہر کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں کشمیر میں آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کا بھارت نے وعدہ کیا ہے، کوئی بھی قابض مسئلہ کے حل تک وہاں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتی، نہ ہی وہاں باہر سے لوگوں کو بسایا جا سکتا ہے، یہ اس معاہدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، بھارتی حکومت کے اقلیتوں کے خلاف مظالم اس کی فاشسٹ ہندوتوا پالیسی کے عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں نسل کشی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں، بھارتی معاشرہ میں منافرت پیدا کی جا رہی ہے، اقلیتوں کو کاروبار سے روکا جا رہا ہے، اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، بھارت ظلم و ستم کیلئے اپنے استاد اسرائیل کی پیروی کر رہا ہے۔ صدر مملکت نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مو¿قف کی حمایت کرنے پر ترکی، چین، ملائیشیا، ایران، آذربائیجان اور دیگر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، یورپ، برطانیہ اور عالمی میڈیا کا بھی شکر گزار ہوں کہ وہ کشمیریوں کی آواز بنے اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے دورہ پاکستان کے دوران تنازعہ کشمیر پر اپنا بھرپور مو¿قف پیش کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرنے کیلئے مزید صلاحیتیں بروئے لائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا غیر قانونی محاصرہ ختم کیا جائے، ذرائع ابلاغ پر عائد پابندی ہٹائی جائے، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کی جائیں، کرفیو کا نفاذ نہ کیا جائے، آزاد کشمیر کی طرح مقبوضہ کشمیر میں غیر ملکی میڈیا کو رسائی دی جائے، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندی ختم کی جائے، خواتین اور بچوں پر مظالم بند کئے جائیں، تعلیمی ادارے کھولے جائیں، سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی جان چھوڑے اور مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوج نکالے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اور وہاں پر عالمی رہنماﺅں سے ملاقاتوں کے دوران مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے دورہ جاپان کے دوران کئی ممالک کے سربراہان سے مسئلہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی راہ اختیار کی ہے، ہم نے ہمیشہ بھارت کو امن کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان پر حملہ کیا، ہم نے ان کے دو جہاز مار گرائے، بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا لیکن پھر بھی اسے بھارت واپس بھیجا، ہم یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ ہم امن چاہتے ہیں کیونکہ افغان جنگ کے باعث پاکستانی امن کی اہمیت سے واقف ہیں، پاکستانی حکومت، قوم اور میڈیا امن کا خواہاں تھا لیکن بھارتی حکومت، میڈیا اور قوم بدلا لینے کی بات کر رہی تھی، بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پاک فوج کا شکر گزار ہوں، مضبوط قوم کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، ہم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، کشمیریوں کی بھارتی قبضہ کے خلاف جدوجہد اور قربانیاں رنگ لائیں گی اور کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔








