اسلام آباد ۔ 04مئی(اے پی پی) انسان خدا خوفی کی وجہ سے اچھے کاموں کی طرف راغب ہوتاہے ، پاکستان کا آئین اور قانون بہترین ہے ، قوموں کے نظم وضبط میں انکی ثقافت کا اہم کردارہوتا ہے ، قانون کی موجودگی کے ساتھ ساتھ اس پر عملدرآمد بھی ضروری ہے ، غربت میں اضافہ کی بڑی وجہ علاج معالجے کے اخراجات ہیں۔ ہفتہ کو انسانی حقوق کمشن کی صحت …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا انسانی حقوق کمشن کی صحت کے حوالے سے رپورٹ کے اجراءکی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 04مئی(اے پی پی) انسان خدا خوفی کی وجہ سے اچھے کاموں کی طرف راغب ہوتاہے ، پاکستان کا آئین اور قانون بہترین ہے ، قوموں کے نظم وضبط میں انکی ثقافت کا اہم کردارہوتا ہے ، قانون کی موجودگی کے ساتھ ساتھ اس پر عملدرآمد بھی ضروری ہے ، غربت میں اضافہ کی بڑی وجہ علاج معالجے کے اخراجات ہیں۔ ہفتہ کو انسانی حقوق کمشن کی صحت کے حوالے سے رپورٹ کے اجراءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ میں نے زندگی میں بہت سے کام کرنے کی کوشش کی تاکہ معاشرے کی فلاح و بہبود میں کردار ادا کر سکوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں قانون کے اعتبار سے سوچتا تھا کہ لوگ اچھے یا برے کام کیوں کرتے ہیں تو میری سمجھ میں یہ بات آئی کے لوگ خدا خوفی کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے روز انکو جوابدہ ہونا پڑے گا اس لیے خدا خوفی کی وجہ سے لوگ اچھے کاموں کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قانون ضروری ہے چاہئے وہ قرآن پاک کا قانون ہو یا پاکستان کیا آئین ۔ ملک میں آئین کا نافذ ہے اور اس میں جو ترمیم کرنا چاہیں کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قانون اتنا اچھا ہے کہ اگر اس پر عمل ہوتا تو شائد اس میں ترمیم کی ضرورت ہی نہ پڑتی ۔ صدر مملکت نے قانون پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں قانون پر عملدرآمدکروانے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کی ضرورت ہے اور پولیس ، پراسیکیوشن سمیت دیگر اداروں کی استعداد بڑھائی جائے ۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اسی طرح معاشرے کی ترقی کیلئے صحت کے شعبے کی ترقی ضروری ہے اور صحت کے شعبہ میں ایل ایچ ویز کی تعداد بڑھائی جائے ۔صدر مملکت نے کہا کہ معاشرے کی ترقی میں ایک اور طاقت بھی شامل ہے جو معاشرتی اعتبار سے سوشل اور کلچرل فورس ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب میں پہلی دفعہ پارٹی کے پلیٹ فورم سے منتخب ہوا تو کراچی میں سماجی شعبہ کی ترقی ، تعلیم ، صحت اور پانی کی فراہمی کے میرے حلقے کے منصوبوں کیلئے سندھ حکومت نے میرے ساتھ تعاون کیا جو سماجی سمجھ داری کا ثبوت ہے کیونکہ میرا انتخاب کرنے والوں کو مجھ سے توقعات وابستہ تھیں اور میں نے کوشش کی کہ میں اس پر عمل کر سکوں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے نے ہمیں تعلیم اور روز گار دیا ہے ۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ سماجی اور ثقافتی روایات کے ساتھ ساتھ کسی بھی معاشرے کی عکاسی میں قوموں کی روایات بھی شامل ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاپان میں سونامی کے موقع پر ایک بوتل پانی کیلئے چار ، چار سو آدمی لائن میں کھڑے ہوئے کسی نے لائن توڑی اور نہ ہی دو بوتلیں پانی کی حاصل کیں ، یہ ہے قومی روایات کی عکاسی جو قاموں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے قومی عزم کی عکاسی کے حوالے سے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران ہمارے ملک میں ہر کوئی امن کا خواہشمند تھا جبکہ سرحد کے اس پار جنگ کا ماحول بنایا گیا ، یہ ہے قومی عزم جو ہم نے دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ کے دوران سیکھا ہے جس سے پاکستانی قوم کی عالمی برادری میں درست عکاسی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں صحت اور سماجی شعبہ کو اجاگر کیا گیا ہے جو درست ہے ۔ برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ برطانیہ کا آئین نہیں لیکن وہاں پر موجود قانون قومی اور پارلیمان کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد ضروری ہے اور معاشرتی ترقی کیلئے تعلیم کے فروغ کی ضرورت ہے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ ڈاکٹرز پیدا کریں جو زیادہ سے زیادہ مقامات پر جا کر عوام کا علاج کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مسائل بڑے اہم ہوتے ہیں اسی طرح ہمارے ملک میں بھی کچھ مسائل پہلے سے چل رہے ہیں اور کچھ نئے ہیں ۔ اسی طرح معیشت کے مسائل بھی ہوتے ہیں اگر ہماری معیشت بہتر ہوگی تو صحت کی سہولیات بھی بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بیماری کا لمحہ بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے اور انسان کیلئے کائنات رک سی جاتی ہے۔ لوگ علاج پر اپنا سب کچھ خرچ کر دیتے ہیں جس سے افراد اور خاندان شدید متاثر ہوتے ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دنیا کے ممالک نے صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دیکر انسانوں کو غربت سے نکالا ہے ہمیں بھی ان شعبوں پر توجہ دینی ہوگی۔








