اسلام آباد ۔ 17ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لئے حکومت کے لئے رہنما اصول وضع کرتے ہوئے کرپشن کے خاتمے، سادگی کے فروغ، بدعنوانی سے پاک نظام، غیر ضروری پروٹوکول کے خاتمے، پسماندہ اور دور دراز علاقوں کی ترقی، پسماندہ علاقوں میں نظام تعلیم کو مضبوط کرنے، بھارت سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لئے حکومت کے لئے رہنما اصول وضع کرتے ہوئے کرپشن کے خاتمے، سادگی کے فروغ، بدعنوانی سے پاک نظام، غیر ضروری پروٹوکول کے خاتمے، پسماندہ اور دور دراز علاقوں کی ترقی، پسماندہ علاقوں میں نظام تعلیم کو مضبوط کرنے، بھارت سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جبکہ پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس کی حکومت اور عوام مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، اقوام عالم میں پاکستان ایک ذمہ دار اور باوقار ملک کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مثالی اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں، توقع ہے کہ حکومت سی پیک منصوبے کو تیزی سے مکمل کرے گی، یکساں تعلیمی نظام اور دیگر سہولتوں کے ذریعے ہی انسانی وسائل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے اعلان کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کے لئے ہمیں واضح پالیسیاں اور فیصلے کرنے پڑیں گے، کرپشن کے ناسور نے ملک کی اقتصادیات کو تباہ کر دیا ہے، احتساب کے اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں آبادی اور وسائل میں توازن پیدا کرنا ہوگا، پانی کے ذخائر کی تعمیر حکومت وقت کی اہم ترجیحات میں سے ایک ہے، توقع ہے کہ پاکستانی عوام ڈیم فنڈ کی اپیل کا مثبت جواب دیں گے۔ وہ پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا خطاب نئے پارلیمانی سال کا نکتہ ءآغاز ہے۔ اﷲ تعالیٰ آنے والے دنوں کو ہمارے لئے باعث رحمت و برکت بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ان ایوانوں اور راہداریوں سے میری شناسائی اس ایوان کے رکن کی حیثیت سے کئی برس پرانی ہے۔ مجھ پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی رہی ہیں، ان کی ادائیگی کے لئے یہاں بیٹھ کر جو کچھ میں کر سکتا تھا میں نے پوری ایمانداری اور صلاحیت کے مطابق انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اپنے رفقائے کار خصوصاً ارکان پارلیمان اور ممبران صوبائی اسمبلیوں کا مشکور ہوں کہ مجھے پاکستان کے سب سے بڑے آئینی عہدے کے قابل سمجھا۔ میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داریاں سرانجام دوں گا۔ میں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس سلسلے میں بھی دعا گو ہوں کہ مجھے ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کی ہمت، طاقت اور توفیق عطاءفرمائے۔ مجھے پوری امید ہے کہ اس سلسلے میں ساتھی اراکین پارلیمنٹ بھی میرا بھرپور ساتھ دیں گے تاکہ ہم سب اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ اور عوام کی عدالت میں سرخر و ہو سکیں۔








