صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 4 اگست (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ یوم استحصال کے موقع پر پاکستان کے نئے پولیٹیکل نقشے کے اجراء اور کشمیر ہائی وے کا نام سرینگر ہائی وے رکھنے جیسے اقدامات کا مقصد مسئلہ کشمیر حل کرنےکی ضرورت کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا ہے، یہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے عزم اظہار ہے اور اس سے کشمیر …

اسلام آباد ۔ 4 اگست (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ یوم استحصال کے موقع پر پاکستان کے نئے پولیٹیکل نقشے کے اجراء اور کشمیر ہائی وے کا نام سرینگر ہائی وے رکھنے جیسے اقدامات کا مقصد مسئلہ کشمیر حل کرنےکی ضرورت کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا ہے، یہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے عزم اظہار ہے اور اس سے کشمیر پر ہمارا کیس مزید مضبوط ہو گا۔ منگل کو ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ ایک سال سے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں وکشمیر پر فوجی محاصرہ کر رکھا ہے جس سے کشمیر کے عوام کو 4 ارب ڈالر کے بھاری معاشی نقصانات ہوئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کے مسلمان دشمن اقدامات سے نفرت کے جذبات پیدا ہو رہے ہیں، ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ بھارت کی ہندوتوا اور نازی پالیسی کا مقصد بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ وہ سینیٹ کے اجلاس میں اپنے خطاب میں بھی کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کریں گے۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے صدر مملکت کو دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کشمیر کے معاملے پر متحد ہیں جس کا ثبوت گزشتہ سال 7 اگست کو کشمیر پر متفقہ قرارداد کی منظوری ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کو بین الاقوامی میڈیا اور مبصرین کو غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں وکشمیر کے دورے کی اجازت دینی چاہیے تاکہ وہ زمینی حقائق کو خود دیکھ سکیں۔ پاکستان نے بین الاقوامی میڈیا اور دیگر وفود کو آزاد جموں وکشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے چین، ترکی اور ملائیشیا کی جانب سے کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دیگر ممالک بھی بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں وکشمیر کے بے گناہ عوام کے لیے آواز اٹھائیں گے۔