صدر مملکت کا وفاقی محتسب پر عام آدمی کو دہلیز پر فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور،ڈاکٹر عارف علوی کا وفاقی محتسب سید طاہر شہباز سے ملاقات میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وفاقی محتسب کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے عام آدمی کو دہلیز پر فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی محتسب سید طاہر شہباز سے ایوان صدر میں ملاقات کے دوران کیا وفاقی محتسب سید طاہرشہباز نے صدر مملکت کو اپنے ادارے کی کارکردگی سے …

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وفاقی محتسب کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے عام آدمی کو دہلیز پر فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی محتسب سید طاہر شہباز سے ایوان صدر میں ملاقات کے دوران کیا وفاقی محتسب سید طاہرشہباز نے صدر مملکت کو اپنے ادارے کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ2019ء کے دوران 75 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے جن میں سے 97 فیصد کیسزکے فیصلوں پر عمل درآمد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب کے1039 کیسز میں نظر ثانی کی اپیلیں دائر کی گئی جبکہ317 کیسز میں صدر پاکستان کو اپیلیں دائر کی گئی جوکہ مجموعی کیسز کا 0.4 فیصد بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے وفاقی محتسب کے 90 فیصد فیصلوں کو برقرار رکھا انہوں نے کہا کہ 2019ءکو آگاہی کے سال کے طور پر منایا گیا اس لئے الیکٹرانک پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے جامع آگاہی مہم چلائی گئی، اس مہم کے باعث بلوچستان ،جنوبی پنجاب اور ایبٹ آباد سے کیسزکے اندراج کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان، بہاولپور ، ملتان لاہور ، پشاور اور ایبٹ آباد کے دور دراز علاقوں اور مختلف یونیورسٹیوں میں سیمینار منعقد کئے گئے۔سپیکر قومی اسمبلی ،چیئرمین سینٹ، گورنر پنجاب ،گورنر سندھ ،گورنر خیبرپختونخوا اور ارکان پارلیمنٹ کو وفاقی محتسب کی کارکردگی سے آگاہ کیا گیا انہوں نے کہا کہ شکایات کے ازالہ کے طریقہ کار میں بہتری لائی گئی ہے، وفاقی محتسب کے دس علاقائی دفاتر کے افسران نے آﺅٹ ریچ کمپلینٹ ریزولیشن پروگرام کے تحت 72 اضلاع اور تحصیلوں کے 370 دورے کئے انہوں نے کہا کہ ان کیسز کے60 دنوں میں فیصلے کئے گئے جبکہ نظر ثانی اپیلوں کے 45 دن میں فیصلے کئے گئے۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی محتسب 247وفاقی اداروں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ان اداروںکے فوکل پرسنز نامزد کئے گئے تھے۔جو کہ 30دن میں شکایت کا فیصلہ کر نے کے پابند تھے۔اگر متعلقہ ادارے نے مقررہ وقت میں اس کیس فیصلہ نہیں کیاتو یہ پورٹل کے ذریعے خود بخود وفاقی محتسب کو منتقل ہوگیا۔اور شکایت نمٹانے کے مربوط طریقہ کار آ ئی سی آ ر کے تحت نئی شکایت میں تبدیل ہو گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوری2020ئ سے جون2020ءتک47 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ کئے گئے ہیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں38 فیصد زیادہ ہیں انہوں نے کہا کہ کورونا وباکے باعث شکایات کی رجسٹریشن کا عمل متاثر نہیں ہوا 60فیصد مقدمات کی رجسٹریشن آن لائن سسٹم کے ذریعے کی گئی انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار میں بہتری کیلئے کوششیں کی گئیں انہوں نے کہا کہ نظام انصاف کی رکاوٹوں کو ہٹا کر جیل کی حالت زار بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی انہوں نے کہا کہ ہر جیل میں ایک ماہر نفسیات اور ایک ڈاکٹر کی موجودگی یقینی بنائی گئی ہے تمام جیلوں میں ذہنی امراض کے قیدیوں کو الگ کر دیا گیا ہے اس حوالے سے صوبائی چیف سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ 12 اجلاسوں کے بعد ششماہی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کیلئے بھی اقدامات کئے گئے ہیں ملک بھر کے 8 بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ون ونڈو فیسلیٹیشن ڈیسک قائم کئے گئے ہیں جہاں چوبیس گھنٹے بارہ محکموں کے افسران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مدد کیلئے موجود رہتے ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وفاقی محتسب کی کارکردگی اور خصوصی اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وفاقی محتسب انتظامی نا انصافی کے خلاف لوگوں کی مدد کیلئے کوششیں جاری رکھے گا۔

مزید خبریں