لاہور 9 جون( اے پی پی)صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے کہاہے کہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں چالیس ہزار آٹھ سو انیس افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔گذشتہ چوبیس گھنٹوںکے دوران کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد ایک ہزار نو سو سولہ ہے۔کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے اب تک سات سو تہتر افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔گذشتہ چوبیس گھنٹوں …
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد کا پریس کانفرنس سے خطاب
لاہور 9 جون( اے پی پی)صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے کہاہے کہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں چالیس ہزار آٹھ سو انیس افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔گذشتہ چوبیس گھنٹوںکے دوران کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد ایک ہزار نو سو سولہ ہے۔کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے اب تک سات سو تہتر افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے اعدادوشمار کے مطابق اڑتالیس افراد کورونا وائرس کے باعث جاں بحق ہوئے ہیں۔اب تک سرکاری ہسپتالوں سے کورونا وائرس کے 8300مریض صحتیاب ہوکر اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 9ہزار 23تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے۔مجموعی طورپر صوبہ بھر میں کورونا وائرس کے اب تک 2لاکھ 99ہزار 57 تشخیصی ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے ےہاں ایوان وزیراعلیٰ میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سپیشلائیزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر آصف طفیل، سی ای او میو ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم خان، چیئرمین کورونا ایکسپرٹس ایڈوائزری گروپ ڈاکٹر محمودشوکت، ڈین چلڈرن ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق اور ڈاکٹر سومیہ اقتدار بھی موجود تھیں۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے اس موقع پر مزیدکہاکہ کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں سب سے متاثرترین شہر لاہور ہے جہاں 19ہزار 299افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔لاہور میں کورونا وائرس سے متاثرہونے والے کل مریضوں میں سے ایک تہائی مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔راولپنڈی میں 3196، گوجرانوالہ میں 1767،ملتان میں 2261اور فیصل آباد میں 2765 افراد میںکورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔عوام کی جانب سے کوروناوائرس کی ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے اور لاک ڈاﺅن کھولنے کو کورونا وائرس ختم کے تاثر کی وجہ سے کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہو اہے ۔کورونا وائرس کی وباءایک حقیقت ہے اور اب ہمیں احتیاطی تدابیر اپنا کر اس وباءسے چھٹکارا حاصل کرناہوگا۔حکومت نے ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے پر مجبوراً خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی ہے۔حکومت کی ہدایات کے مطابق عوام کو بھی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرنا چاہیے۔کورونا وائرس کا شکار ہونے والے 75فیصد مریضوں کی عمر 50سال سے زائد ہے۔گزشتہ چند روزسے سرکاری ہسپتالوں میں بستروں اور وینٹی لیٹرز کی کمی سے متعلق من گھڑت خبروں میں کسی قسم کی کوئی صداقت نہیں ہے۔کسی بھی مریض کو اس کی خواہش کے مطابق من پسند سرکاری ہسپتال میں نہیں بھیجاجاسکتا بلکہ زیادہ طبی سہولیات والے سرکاری ہسپتال کو ترجیح دی جاتی ہے۔پنجاب کے ہائی ڈیپینڈینسی یونٹس میں53فیصد بستروں پر مریضوں کا علاج جاری ہے۔پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میںکورونا وائرس کے مریضوں کے علاج معالجہ کیلئے ہرقسم کی طبی سہولت موجود ہے۔آئی سی یوز میں 52فیصد بستروں پر کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج جاری ہے۔مریضوں اور ان کے اہلخانہ کی رہنمائی کیلئے میوہسپتال میں ایک سینٹرل کنٹرول روم قائم کردیاگیا ہے جس کے نمبرز پر رابطہ کرکے 1122سمیت دیگر طبی سہولیات بارے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔پوری دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں پر مختلف ادویات کے ٹرائلز جاری ہیں۔پاکستان میں بھی ایسٹیمرا انجکشن کے ٹرائلز جاری ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے محکمہ صحت کو کورونا وائرس کا شکار ایک ہزار مریضوں پر ایسٹیمرا انجکشن کے ٹرائلز کی باقاعدہ اجازت دی ہے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے پریس کانفرنس کے آخرمیں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ایسٹیمرا انجکشن صرف ایک ہی کمپنی بنارہی ہے جس کے ذمہ داران کے ساتھ بیٹھ کر کورونا وائرس کا شکار ایک مریض کیلئے مکمل دوائی کی قیمت ایک لاکھ 2ہزارروپے طے پائی ہے جس کے مطابق مریض کو چوبیس گھنٹے کے دوران چار سو ملی لیٹرایسٹیمرا انجکشن لگایاجائے گا جبکہ دوسرا ٹیکہ اگلے چوبیس گھنٹے کے بعد لگایاجائے گا۔کمپنی کو محکمہ صحت کی اجازت کے بغیر کسی بھی نجی ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریض کیلئے ایسٹیمرا انجکشن کو استعمال کرنے سے روک دیاگیاہے اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے حکام اس پابندی پرعملدرآمد کیلئے مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔اس وباءکا پوری دنیا میں ابھی تک کوئی بھی علاج تاحال متعارف نہیں ہوسکا۔زیادہ عمر اور پہلے سے کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا شخص کو کورونا وائرس کاشکار ہونے کے بعد اس انجکشن کے استعمال سے نقصان بھی ہوسکتا ہے جس کے پیش نظر طبی ماہرین کا گروپ مکمل ریسرچ کر رہا ہے۔اس انجکشن کے استعمال سے وینٹی لیٹرز پر موجود ہردس مریضوں میں سے صرف تین مریضوں کو فائدہ ہورہا ہے اس لئے اس انجکشن کے ٹرائلز کرنے کا باربار ذکرکیاجا رہاہے۔ایسٹیمرا انجکشن جان بچانے والے دوائی میں شمار نہیں ہوتا اس لئے اس انجکشن کے استعمال سے کورونا وائرس کے ہرمریض کو فائدہ نہیں ہوسکتا۔روش کمپنی کے خلاف انجکشن کی مقررہ قیمت سے زائد بیچنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے لکھے گئے مراسلہ میں ہدایات کے مطابق کورونا وائرس کے مریضوں کاعلاج اور بچاﺅ کیلئے ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنایاجارہا ہے۔پنجاب میں کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹوں کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر 1200سے بڑھا کر 9ہزار کر دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیاہے۔پنجاب میں کورونا وائرس سے زیادہ متاثرہونے والے علاقوں کو شاید آئندہ چند روز میں بندکردیاجائے گاجس فیصلے کی منظوری باقاعدہ کابینہ اجلاس میں دی جائے گی۔ ڈاکٹرز فرنٹ لائن فائٹرز ہیں جو اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کورونا وائرس کے مریضوں کی دن رات خدمت کر رہے ہیں۔کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اس وباءکے باعث جان کی بازی ہارنے والے ڈاکٹرز کو خراج تحسین اور سلام پیش کرتے ہیں۔کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ڈاکٹرز کی تعداد 609، نرسز 233،پیرامیڈیکل سٹاف 107 اور خاکروب سمیت دیگر عملہ کے 228 افراد شامل ہیں جن کی مجموعی تعداد 1177 بنتی ہے جس میں سے 594ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف صحتیاب ہوچکا ہے۔کورونا وائرس کاشکار ہونے والے مریضوں میں سے صحتیاب ہونے والے افراد کا تناسب بہت اچھا ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ جنرل ہسپتال کے ڈاکٹرز کورونا وائرس کے باعث متاثرہوئے۔کسی بھی ڈاکٹرکو کوئی بھی درپیش مسئلہ ہونے پر فوری ایکشن لیاجاتاہے جس طرح گذشتہ روز سروسز ہسپتال میں ڈاکٹرسلیمان علی افتخار کے جاں بحق ہونے کے واقعہ کانوٹس لیاگیا اور باقاعدہ تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ہمارے لئے فرنٹ لائن پر فرائض سرانجام دینے والا ہر ڈاکٹر،نرس اور پیرامیڈیکل سٹاف انتہائی اہم ہے۔اس وقت ڈاکٹرز کا مورال بلند ہے اور وہ جذبہ حب الوطنی کے باعث کورونا وائرس کے مریضوں کی دن رات خدمت میں مصروف ہیں۔جنرل ہسپتال کے متاثرہ ڈاکٹرزکا صحتیابی کے بعد دوبارہ ہسپتال آکر کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے پر شاباش دیتے ہیں۔ حکومت اس وقت کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج معالجہ اور وبا پر قابو پانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس وبا کے پھیلاﺅ کی مزید روک تھام کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔









