صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا پنجاب اسمبلی اجلاس سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب

لاہور۔9مارچ(اے پی پی )صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے رواں اجلاس میںمختلف آرڈیننس اور بل قانون سازی کے لئے ایوان میں پیش ہوں گے‘اپوزیشن اپنا وہ کردار ادا نہیں کر رہی جو اسے کرنا چاہیے‘حکومت کی کوشش رہی ہے کہ اپوزیشن کوآن بورڈ رکھے اور ساتھ لیکر چلے‘پروڈکشن آرڈر کا مطلب ہے کہ وہ رکن ایوان میں آئے اور کارروائی میں حصہ لے‘ہم نے …

لاہور۔9مارچ(اے پی پی )صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے رواں اجلاس میںمختلف آرڈیننس اور بل قانون سازی کے لئے ایوان میں پیش ہوں گے‘اپوزیشن اپنا وہ کردار ادا نہیں کر رہی جو اسے کرنا چاہیے‘حکومت کی کوشش رہی ہے کہ اپوزیشن کوآن بورڈ رکھے اور ساتھ لیکر چلے‘پروڈکشن آرڈر کا مطلب ہے کہ وہ رکن ایوان میں آئے اور کارروائی میں حصہ لے‘ہم نے پروڈکشن آرڈر پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی بھی اجازت دی لیکن اپوزیشن لیڈر نے چار سیکنڈ کے لئے بھی ایوان میں آکر بات نہیں کی‘اپوزیشن ایوان میں بات کر نے کی بجائے اسمبلی کی سیڑھیو ں پر احتجاج کرتی ہے،اجلاس میں قانون سازی، پری بجٹ پر بحث ہوگی‘اورنج لائن میٹرو ٹرین کا معاملہ بھی پنجاب اسمبلی میں زیر بحث لایاجائےگا‘بابا گرونانک یونیورسٹی ، پنجاب ایگری کلچرل سمیت چار بل لائیں گے۔وہ پیر کے روز پنجاب اسمبلی کیفے ٹیریا میں اجلاس سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پنجاب اسمبلی میں قانون سازی بہتر سے بہتر کی ،اپوزیشن کو موقع دیاکہ وہ بھی شرکت کرے لیکن قانون سازی میں اپوزیشن وہ کردار ادا نہ کر سکی جو کرنا چاہیے تھا،ہم اپوزیشن کو آن بورڈ اور ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں‘ہم نے پروڈکشن آرڈر تو جاری کردئیے لیکن قانون سازی کےلئے کسی ایک ممبر نے جو جیل یا حراست میں ہے اس نے قانون ساز ی میں وہ کردار ادا نہ کیاجس مقصد کےلئے اپوزیشن نے ریکوزیشن پر اجلاس بلایا ‘اپوزیشن لیڈر نے اپنے ریکوزیشن کے اجلاسوں میں مہنگائی یا قانون سازی پر کوئی بات نہیں کی‘اپوزیشن کے چار دن کے اجلاس میں چار سکینڈ کےلئے بھی نہیں آئے اور بات کرتے ہیں جمہوریت کی،اسمبلی اگر کوئی رعائت دیتی ہے تو اس پر عمل ہونا چاہیے اور قانونی تقاضے بھی پورے کرنا چاہیے‘بتایا جائے کہ آج تک اپوزیشن لیڈر نے اپنے ریکوزیشن کیے ہوئے اجلاس میں امن و امان اور مہنگائی پر کتنی بار بحث کی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والے اسمبلی کی سیڑھیوں پر نعرے لگاتے ہیں‘ ایوان میں بات نہیں کرتے، جمہوری انداز میں بات کرنے سے اسمبلی کی پروسیڈنگ میں سیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے اپوزیشن کرے لیکن اپنا نقطہ نظر بیان کرکے دوسرے کا موقف بھی سنے،ہمیں اپنے رویے درست کرنےکی ضرورت ہے‘اپوزیشن والے بلدیاتی بل پر تحفظات کااظہار کرتے لیکن انہوں نے اس بل کو متنازعہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کو پروڈکشن آرڈر کی سہولت دے رہے ہیں، وہ اسمبلی اجلاس میں کاروبار کی باتیں کرتے ہیں‘دوستوں سے ملتے اور سازشیں کرنے میں گزار دیتے ہیں‘وہ سیاست کریں لیکن جو رعایت اسمبلی میں عوام کی بات کرنے کا موقع دیاجاتاہے اسے ایمانداری سے کریں۔ راجہ بشارت نے کہا کہ نوازشریف کو بیس ہفتے ہو گئے کسی کو نہیں پتہ وہ کس ہسپتال میں علاج کرو رہے ہیں،نوازشریف اپنا کون سا علاج کروارہے ہیں اور ان کا علاج کب مکمل ہونا ہے اس بارے کسی کو بھی نہیں بتایا نہیں جارہا‘نواز شریف کو واپس بلانے کیلئے متعلقہ فورم سے رابطہ کر رہے ہیں‘نوازشریف کی حوالگی کےلئے برطانوی حکومت کو خط لکھا ہے جس پر سفارت خانہ کام کررہاہے‘نوازشریف کی واپسی کےلئے برطانوی حکومت بھی متعلقہ اداروں سے خط لکھنے کےلئے سوچ وچار جاری ہے۔ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن کے لوگوں کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کااختیار سپیکر کے پاس ہے، حکومت کچھ نہیں کر سکتی‘اورنج لائن ٹرین کا کرایہ پچاس سے دو سو ستاسی روپے کی تجاویز کیبنٹ کو دی گئیں ابھی تک کرایہ طے نہیں ہوا‘ہم چاہتے ہیں کہ عوام پر سبسڈی کا بوجھ کم سے کم ڈالاجائے اگر زیادہ سبسڈی دیں گے تو ترجیحی منصوبوں کے پیسے نکال لیں گے‘میٹرو ٹرین پر پچاس ارب روپے سبسڈی دیں تو ہسپتال یا تعلیم کو نہیں پیسے دے پائیں گے‘میٹرو ٹرین کےلئے سبسڈی سے صحت و تعلیم کے بجٹ پر کٹ لگے گا۔