وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی زیر صدارت اجلاس، ڈرگ پرائسنگ کے ہارڈشپ رولز میں تبدیلی کی ہدایت، ڈریپ پالیسی بورڈ میں ماہرین کی شمولیت پر زور

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے وزارتِ قومی صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)کو ادویات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ریگولیٹری فریم ورک پر فوری نظرثانی، ہارڈشپ پالیسی کے قواعد اور ڈریپ پالیسی بورڈ کی تشکیل میں تبدیلیوں کی ہدایت کی ہے ،

اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے وزارتِ قومی صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)کو ادویات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ریگولیٹری فریم ورک پر فوری نظرثانی، ہارڈشپ پالیسی کے قواعد اور ڈریپ پالیسی بورڈ کی تشکیل میں تبدیلیوں کی ہدایت کی ہے ،انہوں نے واضح کیا کہ اصلاحات کا بنیادی مقصد ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ صارفین کو بلاجواز قیمتوں میں اضافے سے تحفظ فراہم کرنا ہونا چاہیے، ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے ڈریپ کے موجودہ فارمولے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار پر جامع نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ قیمتوں میں کوئی بھی اضافہ شفاف، شواہد پر مبنی اور مکمل طور پر قابلِ جواز ہو، ڈریپ کو قیمتوں میں اضافے کے فارمولے کا ازسرِنو جائزہ لے کر اسے مزید موثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آزادانہ جانچ پڑتال اور موثر نگرانی کا ایسا نظام ہونا چاہیے جس سے کاروباری لاگت میں اضافے کا تمام بوجھ خودکار طریقے سے ادویات کی قیمتیں بڑھا کر صارفین پر منتقل نہ کیا جا سکے۔

جمعے کویہاں جاری بیان کے مطابق ادویات کی قیمتوں سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر احد چیمہ نے سیکرٹری قومی صحت اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ کو ہدایت کی کہ ہارڈشپ پالیسی سے متعلق نظرثانی شدہ قواعد کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر منظوری کے لیے متعلقہ فورم کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئے قواعد میں اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ ہارڈشپ پالیسی کے تحت ریلیف صرف حقیقی اور ناگزیر صورتوں میں دیا جائے اور یہ سہولت تجارتی اخراجات کا غیرمتناسب بوجھ مریضوں پر منتقل کرنے کا ذریعہ نہ بنے۔وفاقی وزیر نے ڈریپ پالیسی بورڈ کی تشکیل میں تبدیلی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی میں پیشہ ورانہ مہارت اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو مزید مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے بالخصوص پالیسی بورڈ میں ایک ہیلتھ اکانومسٹ اور پبلک ہیلتھ ایکسپرٹ کو شامل کرنے کی ہدایت کی۔ وزارتِ قومی صحت اور ڈریپ نے اس تجویز سے اتفاق کیا جس پر سینیٹر احد چیمہ نے متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی شروع کرنے اور مجوزہ تبدیلیاں جلد از جلد منظوری کے لیے متعلقہ فورم کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔

سینیٹر احد چیمہ نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے براہِ راست لاکھوں گھرانوں کو متاثر کرتے ہیں اس لیے ہمارا ریگولیٹری نظام ایسا ہونا چاہیے جو فارماسیوٹیکل شعبے کے استحکام کے ساتھ ادویات کی استطاعت اور صارفین کے موثر تحفظ کو بھی یقینی بنائے۔ اجلاس کے دوران ڈریپ حکام نے وفاقی وزیر کو موجودہ ہارڈشپ پالیسی اور ضروری ادویات پر اس کے اطلاق کے حوالے سے بریفنگ دی۔ سینیٹر احد چیمہ نے نشاندہی کی کہ ضروری ادویات کے درآمد کنندگان اکثر پہلے ہارڈشپ پالیسی کے تحت ریلیف حاصل کرتے ہیں اور بعد ازاں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ قواعد میں اس مسئلے کا واضح حل ہونا چاہیے تاکہ ہارڈشپ پالیسی کے تحت ملنے والے فوائد قیمتوں کے تعین میں مناسب طور پر شامل ہوں اور ان کا اضافی بوجھ صارفین پر نہ پڑے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر کوئی درآمد کنندہ ہارڈشپ پالیسی کے تحت حکومت کی جانب سے ٹیکس میں رعایت یا کسی دوسرے ریلیف سے فائدہ اٹھا رہا ہے تو اسے تمام اضافی لاگت صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے اپنے منافع کے مارجن میں بھی مناسب کمی کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ انہوں نے ڈریپ کو درآمد کنندگان اور ریٹیلرز کے موجودہ مارجنز کا جائزہ لینے کی ہدایت کی جن میں متعلقہ کیسز میں مارجن تقریبا 40 فیصد تک ہو سکتا ہے، نظرثانی شدہ ہارڈشپ رولز میں ان مارجنز کو معقول سطح پر لانے کے لیے مناسب طریقہ کار وضع کرنے کا حکم دیا۔

سینیٹر احد چیمہ نے واضح کیا کہ ضروری ایڈجسٹمنٹ درآمد کنندہ اور ریٹیلر کے مارجنز کے درمیان ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہارڈشپ پالیسی کے تحت ریلیف دے رہی ہے تو درآمد کنندہ اور ریٹیلر کو بھی اپنے مارجنز میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کرکے اس کا بوجھ بانٹنا ہوگا، یہ ایڈجسٹمنٹ سپلائی چین کے اندر ہی ہونی چاہیے اور کسی صورت اس کا بوجھ صارف پر منتقل نہیں ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر نے سیکرٹری قومی صحت اور سی ای او ڈریپ کو ہدایت کی کہ درآمد کنندگان اور ریٹیلرز کے مارجنز کو معقول بنانے کے لیے مناسب طریقہ کار مجوزہ ہارڈشپ رولز کا حصہ بنایا جائے اور نظرثانی شدہ فریم ورک جلد از جلد منظوری کے لیے متعلقہ فورم کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریگولیٹر کی ذمہ داری ہے کہ مارکیٹ میں منصفانہ توازن برقرار رکھے، ضروری ادویات کی مسلسل دستیابی یقینی بنائے اور مریضوں کو بلاجواز قیمتوں میں اضافے سے تحفظ فراہم کرے۔ فارماسیوٹیکل کاروبار کا مالی طور پر قابلِ عمل رہنا ضروری ہے، تاہم یہ مقصد صارفین بالخصوص ضروری ادویات استعمال کرنے والے مریضوں کے مفادات کی قیمت پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اجلاس میں اوریجنیٹر اور پہلے سے موجود برانڈز کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ڈریپ حکام نے بتایا کہ اوریجنیٹر برانڈز کی قیمتوں کے تعین کے لیے اس وقت پڑوسی اور دیگر متعلقہ ممالک میں ادویات کی قیمتوں کو بطور حوالہ استعمال کیا جاتا ہے۔ سینیٹر احد چیمہ نے کہا کہ بین الاقوامی ریفرنس پرائسنگ کے ساتھ ایک آزادانہ تصدیقی نظام بھی ہونا چاہیے تاکہ قیمتوں سے متعلق فیصلے مستند اعداد و شمار پر مبنی ہوں اور مارکیٹ کی حقیقی صورتحال کی درست عکاسی کریں۔ انہوں نے ڈریپ کو ادویات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں مزید مضبوط اور آزادانہ چیک اینڈ بیلنس کا طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی تاکہ شفافیت، انصاف اور موثر ریگولیٹری نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل مارکیٹ کا پائیدار ہونا ضروری ہے، تاہم اس پائیداری کے ساتھ ادویات کی عوامی استطاعت اور مفادِ عامہ کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔سینیٹر احد چیمہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، سستی ادویات تک عوام کی رسائی براہِ راست عوامی فلاح سے منسلک ہے اور حکومت ریگولیٹری نظام کو مزید موثر بناتی رہے گی تاکہ فارماسیوٹیکل شعبے کی جائز ضروریات اور صارفین کے مفادات کے درمیان منصفانہ توازن قائم رکھا جا سکے۔ اجلاس میں سیکرٹری قومی صحت ریٹائرڈ کیپٹن محمد محمود، سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبیداللہ، ڈائریکٹر پرائسنگ ڈریپ اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔