طالبان رجیم کے 5 سالہ قبضے کے دوران افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں

طالبان رجیم کے 5 سالہ قبضے کے دوران افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کی گئیں جس کے حوالے سے عالمی برادری کی تشویش برقرار ہے۔انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، خواتین پر سخت پابندیوں اور دہشت گردوں کی سرپرستی کے باعث افغان طالبان رجیم عالمی سطح پر ایک ناپسندیدہ اور مطعون ریاست کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):طالبان رجیم کے 5 سالہ قبضے کے دوران افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کی گئیں جس کے حوالے سے عالمی برادری کی تشویش برقرار ہے۔انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، خواتین پر سخت پابندیوں اور دہشت گردوں کی سرپرستی کے باعث افغان طالبان رجیم عالمی سطح پر ایک ناپسندیدہ اور مطعون ریاست کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

فرانس نے افغان طالبان کے قبضے کے 5 سال مکمل ہونے پر افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔فرانسیسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان طالبان رجیم کے دور میں افغانستان گہرے انسانی، معاشی اورسکیورٹی بحران کا شکار ہے، طالبان رجیم میں افغانستان کے حالات دن بدن بگڑ رہے ہیں جوخطے کے استحکام کیلئے بھی خطرہ ہے، طالبان خواتین کو عوامی زندگی سے خارج کرنے کیلئے مزید امتیازی قوانین متعارف کرا رہے ہیں۔

فرانس افغان طالبان رجیم سے اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ کرتا ہے،انسانی حقوق کی پاسداری اور دہشت گردی کے خاتمے تک طالبان سے تعلقات معمول پرآنے کا امکان نہیں۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے 56 رکن ممالک افغان طالبان کےقبضے کے 5 سال مکمل ہونے پر رجیم کےخلاف مشترکہ بیان جاری کر چکے ہیں۔