فیصل آباد۔ 30 نومبر (اے پی پی):گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ طلبہ ہی اس ملک کے حقیقی معمار اور تبدیلی کے علمبردار ہیں، جو کچھ ہم گزشتہ دہائیوں میں نہ کر سکے وہ اب طلبہ کریں گے اور اگر یہ اپنے عہد پر قائم رہے تو ملک کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں پیدا ہوں گی۔ یہ بات انہوں نے دی یونیورسٹی آف فیصل آباد کے …
طلبہ ہی ملک کا روشن مستقبل ہیں، ملک کے حقیقی معمار اور تبدیلی کے علمبردار ہیں۔ گورنر پنجاب

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 30 نومبر (اے پی پی):گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ طلبہ ہی اس ملک کے حقیقی معمار اور تبدیلی کے علمبردار ہیں، جو کچھ ہم گزشتہ دہائیوں میں نہ کر سکے وہ اب طلبہ کریں گے اور اگر یہ اپنے عہد پر قائم رہے تو ملک کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں پیدا ہوں گی۔ یہ بات انہوں نے دی یونیورسٹی آف فیصل آباد کے بارہویں کانووکیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں مجموعی طور پر 1811 گریجویٹس کو ڈگریاں عطا کی گئیں جن میں 24 پی ایچ ڈی اسکالرز بھی شامل تھے۔
گورنر پنجاب نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں اس بات پر بے حد مسرت ہے کہ وہ دی یونیورسٹی آف فیصل آباد کے بارہویں کانووکیشن میں شریک ہو کر طلبہ، اساتذہ اور والدین کے ساتھ اس خوشی کے لمحے میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن محض ڈگریوں کی تقسیم کا نہیں بلکہ طویل جدوجہد، انتھک محنت، قربانی اور ثابت قدمی کی کامیابی کا دن ہے۔ انہوں نے تمام والدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر سخت حالات کے باوجود والدین نے اپنے بچوں کے لیے اپنی خواہشات قربان کیں، اپنے پیٹ کاٹے مگر بچوں کو کبھی محرومی کا احساس نہ ہونے دیا، یہی وجہ ہے کہ آج نوجوان نسل کامیابی کی اس منزل پر پہنچ سکی ہے۔
سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں دی یونیورسٹی آف فیصل آباد نے تعلیم، تحقیق اور کردار سازی کے میدان میں مثالی کارکردگی دکھائی ہے اور عالمی سطح پر بھی اس ادارے نے ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی درجہ بندی میں اس یونیورسٹی کا چار سو بہترین جامعات میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں تعلیم محض ڈگری تک محدود نہیں بلکہ کردار، وژن اور مقصد کی آبیاری بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مدینہ فاؤنڈیشن اور اس کے سرپرست اعلیٰ میاں محمد حنیف کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات پاکستان کی تعلیمی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔گورنر پنجاب نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ اس یونیورسٹی سے عظیم اقدار، دیانت، خدمت اور محنت کا پیغام لے کر جا رہے ہیں۔
آپ تبدیلی کے علمبردار ہیں اور ملک کو آپ ہی نے اپنے کردار اور صلاحیت سے ترقی کی بلندیوں سے ہمکنار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مواقع بانٹنے سے نہیں ملتے بلکہ خود اپنا حق حاصل کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سیاست اور معاشرتی نظام میں خود دیکھا ہے کہ جو کرسی پر بیٹھ جاتا ہے وہ آسانی سے کسی اور کو جگہ نہیں دیتا، اس لیے نوجوانوں کو اپنی محنت سے راستہ خود بنانا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے میں یہ ان کا چھٹا کانووکیشن ہے مگر یہ واحد جامعہ ہے جہاں طلبہ نے حلف اٹھایا اور یہ حلف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ اللہ سے کیا گیا وعدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ اگر وہ اپنے وعدے پر قائم رہے تو ان کے لیے راستے خود بخود ہموار ہوتے چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر مسائل کا اصل احساس نہیں ہو سکتا بلکہ اصل مسائل وہی جانتا ہے جو عوام کے درمیان رہتا ہے، اسی لیے نوجوانوں کو میدان عمل میں اترنا ہو گا۔
سردار سلیم حیدر خان نے اس موقع پر سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے طلبہ کی جانب سے دی گئی مالی امداد کو بھی سراہا اور کہا کہ آج مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ طلبہ نے اپنی جیبوں سے پیسے نکال کر ایک خالص جذبے کے تحت سیلاب زدگان کی مدد کی۔ یہی جدوجہد اور یہی جذبہ قوموں کو آگے لے جاتا ہے۔ انہوں نے پنجاب ریڈ کریسنٹ کے ساتھ مل کر فلاحی کاموں میں حصہ لینے کی اپیل بھی کی اور کہا کہ ہمیں دن رات اپنے ملک کے لیے محنت کرنا ہو گی تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کی زندگی میں حقیقی بہتری لائی جا سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ آف گورنرز دی یونیورسٹی آف فیصل آباد حیدر امین نے کہا کہ ٹیلنٹ کا تعلق کسی ایک شہر، صوبے یا ملک سے نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل آج میری آنکھوں کے سامنے ہے کیونکہ ملک کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور تین میں سے دو افراد کی عمر تیس سال سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں موقع خود بخود مل جائے گا مگر حقیقت یہ ہے کہ موقع چھینا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں بھی واضح ہے کہ جب تک قوم خود اپنی حالت بدلنے کا فیصلہ نہ کرے، اس کی حالت نہیں بدلتی۔انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف ڈگری کے حصول کے لیے نہیں بلکہ معاشرے پر اپنا مثبت اثر چھوڑنے کے لیے حاصل کی جاتی ہے۔ انہوں نے اعتماد کو دنیا کی واحد کرنسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس کے پاس اعتماد ہو، دنیا اس کا ساتھ دیتی ہے۔
انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ صرف مسائل گنوانے والے نہ بنیں بلکہ ان کے حل پیش کرنے والے بنیں۔ انہوں نے اساتذہ اور والدین کو طلبہ کی کامیابی کا اصل معمار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی جائیں یہ بات یاد رکھیں کہ دنیا ان لوگوں کا ساتھ دیتی ہے جو خود کو منوانا جانتے ہیں۔یونیورسٹی کے ریکٹر امان اللہ ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج صرف ایک تعلیمی سال مکمل نہیں ہوا بلکہ طلبہ کے لیے زندگی کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال اٹھارہ سو سے زائد کامیاب طلبہ کی کامیابی کا جشن منایا جا رہا ہے جنہوں نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں سے حاصل کیا گیا علم اور تجربہ طلبہ کو عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے وسیع مواقع فراہم کرے گا بشرطیکہ وہ اپنی تعلیم کو انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن والدین، اساتذہ، طلبہ اور یونیورسٹی اسٹاف کی مشترکہ کامیابی کا دن ہے۔تقریب میں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان بطور مہمانِ اعزاز شریک ہوئے جبکہ مدینہ فاؤنڈیشن کے پیٹرن اِن چیف میاں محمد حنیف، بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین حیدر امین، وائس چیئرمین ڈاکٹر حمزہ امین اور ممبر حسن رشید بھی موجود تھے۔ تقریب کے دوران یونیورسٹی کی الفا ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ہلال احمر پنجاب کے نام 16 لاکھ روپے جبکہ گرین انٹرنیشنل یونیورسٹی لاہور کی گرین ویلفیئر کمیونٹی کی جانب سے 14 لاکھ روپے کے چیک پیش کیے گئے جسے گورنر پنجاب نے طلبہ کے جذبہ خدمت کی بڑی مثال قرار دیا۔
بارہویں کانووکیشن میں مجموعی طور پر 1811 گریجویٹس کو ڈگریاں عطا کی گئیں جن میں میڈیسن اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز اور فارماسیوٹیکل سائنسز کے 1205 گریجویٹس، انجینئرنگ و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 288، مینجمنٹ اسٹڈیز کے 213 اور آرٹس اینڈ سوشل سائنسز کے 105 گریجویٹس شامل ہیں جبکہ 24 طلبہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں عطا کی گئیں۔ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 34 طلبہ کو سلیم گولڈ، 33 کو مختار سلور اور 33 کو امین برونز میڈلز سے نوازا گیا۔








