اقوام متحدہ ۔15جون (اے پی پی):اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں صحت کے بڑھتے ہوئے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں اور صحت کے بنیادی ڈھانچے پر حملے تیزی سے طبی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔اردو نیوز کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بیان میں مغربی کنارے میں شہریوں اور ہیلتھ کیئر کے فوری …
عالمی ادارہ صحت کا مغربی کنارے میں صحت کے بحران پر تشویش کا اظہار
اقوام متحدہ ۔15جون (اے پی پی):اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں صحت کے بڑھتے ہوئے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں اور صحت کے بنیادی ڈھانچے پر حملے تیزی سے طبی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔اردو نیوز کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بیان میں مغربی کنارے میں شہریوں اور ہیلتھ کیئر کے فوری تحفظ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔بیان میں عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ سات اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے مقبوضہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں 10 جون تک 126 بچوں سمیت 521 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں شہادتوں کی تعداد زیادہ ہے اور غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے545 فلسطینی اسرائیلی فوجیوں یا آباد کاروں کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق مغربی کنارے میں اموات کے علاوہ 5200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے جن میں سے 800 بچے شامل ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں صحت کے مراکزِ کو بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے مزید کہا کہ اس نے سات اکتوبر سے 28 مئی کے درمیان مغربی کنارے میں ایسے 480 حملوں کی دستاویز تیار کی ہے جن میں مراکزِ صحت اور ایمبولینسزپر حملوں کے علاوہ محکمہ صحت کے کارکنوں اور مریضوں کو حراست میں لینا بھی شامل ہے۔ان حملوں میں 16 افراد جاں بحق اور 95 زخمی ہوئے تھے۔اسی دوران چیک پوسٹوں کی بندش، عدم تحفظ اور محاصرے نے مغربی کنارے کے اندر نقل و حمل کو تیزی سے محدود کر دیا ہے جس سے طبی امداد تک رسائی میں مزید مشکل پیدا ہوئی۔ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو درپیش طویل عرصے سے جاری مالی بحران نے نظام صحت کو مزید متاثر کر دیا ہے جس کے باعث محکمہ صحت کے کارکنان تقریباً ایک سال سے اپنی تنخواہ کا صرف نصف حصہ وصول کر رہے ہیں اور 45 فیصد ضروری ادویات کا ذخیرہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ہسپتال صرف 70 فیصد کی صلاحیت پر کام کر رہے ہیں۔مریضوں کے لیے مغربی کنارے سے باہر طبی امداد حاصل کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، سات اکتوبر کے بعد مقبوضہ بیت المقدس اور اسرائیل کے صحت کے مراکزِ میں جانے کی 44 فیصد درخواستیں مسترد یا زیر التوا ہیں۔









