عالمی ادارۂ صحت سے علیحدگی کے لیے امریکا کی جانب سے پیش کیا گیا جواز درست نہیں ، ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس

جنیوا ۔26جنوری (اے پی پی):عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے کہا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت سے علیحدگی کے لیے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی وجوہات درست نہیں ہیں۔ شنہوا کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ اس فیصلے امریکا سمیت پوری دینا غیر محفوظ ہو جائے گی۔ڈبلیو ایچ …

جنیوا ۔26جنوری (اے پی پی):عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے کہا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت سے علیحدگی کے لیے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی وجوہات درست نہیں ہیں۔ شنہوا کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ اس فیصلے امریکا سمیت پوری دینا غیر محفوظ ہو جائے گی۔ڈبلیو ایچ او کے بانی رکن کی حیثیت سے امریکا کی خدمات کو سراہتے ہوئے ٹیڈروس نے کہا کہ بدقسمتی سے ڈبلیو ایچ او سے دستبرداری کے لیے امریکا کی جانب سے دی گئی وجوہات درست نہیں ہیں۔

انہوں نے اس فیصلے کو امریکہ اور دنیا دونوں کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں امریکا دوبارہ ڈبلیو ایچ او میں فعال کردار ادا کرے گا۔اسی روز عالمی ادارۂ صحت نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا۔بیان کے مطابق امریکی انخلا سے متعلق معاملات پر 2 فروری سے شروع ہونے والے ڈبلیو ایچ او ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس اور مئی 2026 میں ہونے والی عالمی اسمبلی برائے صحت کے سالانہ اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ڈبلیو ایچ او کے ایک پریس اہلکار نے شنہوا کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ ادارہ اس معاملے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اپنی گورننگ باڈیز کی رہنمائی کے مطابق اقدامات کرے گا۔اہلکار کے مطابق امریکہ نے تاحال اپنی رکنیت کی واجب الادا رقم ادا نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 2024 تا 2025 کے لیے مقررہ مالی واجبات کی ادائیگی اب تک نہیں کی گئی۔ادھر امریکا کے نشریاتی ادارے نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) کے مطابق امریکا پر واجب الادا رقم کا تخمینہ تقریباً 278 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو اپنی دوسری صدارتی مدت کے پہلے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ڈبلیو ایچ او سے امریکی انخلا کا باقاعدہ عمل شروع کیا، جبکہ دو روز بعد اقوام متحدہ کو اس کا باضابطہ نوٹس موصول ہوا۔اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت نوٹس دیے جانے کے ایک سال بعد انخلا مؤثر ہو جاتا ہے۔