عالمی اقتصادی فورم نے پاکستان کو کرپشن فری بنانے کے لئے کوششوں کو سراہا ہے،چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال

اسلام آباد ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) چیئرمین قومی احتساب بیور ( نیب) جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ عالمی اقتصادی فورم نے عالمی مسابقتی انڈیکس کے تحت پاکستان کو کرپشن فری بنانے کے تناظر میں2019ء میں قومی احتساب بیورو کی عوام کو بد عنوانی کے مضر اثرات سے آگاہی، تدارک اور انفورسمنٹ کی کوششوں کو سراہا ہے ۔ اتوار کو چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کو …

اسلام آباد ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) چیئرمین قومی احتساب بیور ( نیب) جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ عالمی اقتصادی فورم نے عالمی مسابقتی انڈیکس کے تحت پاکستان کو کرپشن فری بنانے کے تناظر میں2019ء میں قومی احتساب بیورو کی عوام کو بد عنوانی کے مضر اثرات سے آگاہی، تدارک اور انفورسمنٹ کی کوششوں کو سراہا ہے ۔ اتوار کو چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کو نیشنل اکاونٹیبیلٹی آرڈیننس (این اے او) کے سیکشن کے 33سی کے تحت کرپشن کے خلاف آگاہی اور اس کے انسداد کے لئے مینڈیٹ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے انسداد اور اس حوالے سے آگاہی کے لئے نیب کی حکمت عملی بہت کامیاب رہی ہے۔ اس کے تحت نیب مختلف سرکاری، غیرسرکاری تنظیموں، میڈیا، سول سوسائٹی، معاشرے کے دیگر طبقات کو اس مہم میں شریک کر رہا ہے۔ اس حوالے سے لوگوں بالخصوص کالج اور یونیورسٹیوں کے طلباء کو آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 23ماہ کے دوران متعلقہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 600مقدمات دائر کئے ہیں نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں براہ راست 71ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے جو کہ ریکارڈ کارکردگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پلڈاٹ مشال اور عالمی اقتصادی فورم جیسے معتبراداروں نے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے نیب کی کوششوں کو سراہا ہے انہوں نے کہا کہ نیب نے نیب ہیڈکوارٹرز اور تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے جامع معیاری مقداری نظام وضع کیا ہے نیب ہیڈاکوارٹر اور تمام علاقائی بیورز کی کارکردگی کا مقرر کردہ طریقہ کار کے تحت ششماہی اور سالانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جارہا ہے جو کہ کامیاب رہا ہے اور اس سے ان کی کارکردگی میں روز بروز مزید بہتری آرہی ہے چیئرمین نیب نے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام میگا کرپشن مقدمات کو قانون کے مطابق مقررہ وقت پر نمٹانے کیلئے شکایت کی جانچ پڑتال انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کو بروقت نمٹائیں۔ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59فیصد لوگوں نے اس پالیسی کو کامیاب قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ نیب کو 2018کے اس عرصے کے مقابلے میں 2019ء میں دوگنا شکایات انکوائریاں اور انوسٹیگیشن نمٹائی ہیں جس سے نیب کی شاندار کارکردگی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے ہیڈکوارٹر میں ایک الگ سیل قائم کیا ہے اور اس سیل کا سربراہ ڈائریکٹر کو بنا دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے کرپشن کی انسداد کے لئے 60کمیٹیاں بنائی ہیں ۔ نیب مختلف سرکاری محکموں کو خدمات فراہم کرنے والے اداروں بالخصوص سی ڈی اے اور آئی سی ڈی کی ون ونڈو آپریشن نیب کی کوششوں اور روابط کے نتیجے میں بتدریج بہتری لا رہا ہے۔ نیب کے چیئرمین نے بلاتفریق احتساب سب کے لئے پالیسی کے تحت ملک سے کرپشن کی لعنت کے خاتمے کے لئے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔