34.9 C
Islamabad
اتوار, اپریل 6, 2025
ہومتازہ ترینعالمی اقتصادی مسائل اور غیر یقینی صورتحال کے مقابلہ کے لئے ایس...

عالمی اقتصادی مسائل اور غیر یقینی صورتحال کے مقابلہ کے لئے ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان یکجہتی ضروری ہے، پاکستان ایس سی او ممالک کے ساتھ نئے تجارتی مواقع اور اقتصادی تعاون تلاش کرنے کا خواہش مند ہے،جام کمال خان

- Advertisement -

اسلام آباد۔12ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ عالمی اقتصادی مسائل اور غیر یقینی صورتحال کے مقابلہ کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے درمیان یکجہتی ضروری ہے، پاکستان ایس سی او ممالک کے ساتھ نئے تجارتی مواقع اور اقتصادی تعاون تلاش کرنے کا خواہش مند ہے، پاکستان انتہائی اہم جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے، جنوبی ایشیا ، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی تجارتی و سرمایہ کاری سرگرمیوں کے تزویراتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ ا ن خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے جمعرات کو یہاں ایس سی او کے رکن ممالک کے اقتصادی امور اور وزرائے تجارت کے 23 ویں اجلاس سے خطاب کرتےہوئے کیا۔

اپنے افتتاحی خطاب میں جام کمال خان نے اجلاس کے شرکا کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کیا اور کہا کہ اجلاس کی میزبانی پاکستان کے لئے اعزاز ہے۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے ایس سی او کے رکن ممالک کے لئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کا مقصد ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور باہمی رابطوں کا فروغ ہے۔ علاقائی تعاون اور اقتصادی ادغام کے لئے ہمیں ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ جام کمال خان نے کہا کہ حالیہ سالوں کے دوران پاکستان نے ملک میں کاروباری ماحول کی بہتری اور صنعتی ترقی کے فروغ کے ساتھ ساتھ تجارتی سہولیات کی فراہمی کے لئے اہم اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ اس وقت ہم اپنے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے ، ریگولیٹری فریم ورکس کی بہتری اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کررہے ہیں۔

- Advertisement -

وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ ایس سی او کا خطہ دنیا کے تیزترین ترقی کرنے والی معیشت پر مشتمل ہے جہاں دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ رہائش پذیر ہے۔ یہ خطہ تجارت اور اقتصادی اشتراک کار کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپنے ممالک کی ترقی کے لئے تجارت کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ہمیں اقدامات کرنے ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تجارت نہ صرف معاشی ترقی کا سبب بنتی ہے بلکہ یہ مختلف ممالک ، خطوں اور عوام کے درمیان دو طرفہ تعاون، امن و استحکام بھی پیدا کرتی ہے۔ جام کمال نے کہا کہ جنوبی ایشیا ،وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع پاکستان انتہائی اہم جغرافیائی حیثیت کا حامل ہے جو تجارت اور سرمایہ کاری کا ایک قدرتی مرکز ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم ایس سی او ریجن کی اجتمائی ترقی اور خوشحالی کے لئے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتےہوئے وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان ایس سی او رکن ممالک کے ساتھ قومی قوانین اور پالیسیوں کے مطابق تجارت کو وسعت دینے کے لئے پرعزم ہے۔ ایس سی اورکن ممالک کی باہمی تجارت کے گزشتہ سال کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے جام کمال خان نے کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک کی باہمی درآمدات ان کی مجموعی درآمدات کے 19 فیصد جبکہ برآمدات مجموعی برآمدات کے 14 فیصد کے مساوی رہی ہیں۔ اسی طرح ایس سی او رکن ممالک کی مجموعی تجارت کے تناسب میں رکن ممالک کی باہمی تجارت کا حجم 16 فیصد ریکارڈکیاگیا ہے۔

ایس سی او کے بعض رکن ممالک کے ساتھ تجارت کے اعدادوشمار پیش کرتےہوئے جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کی باہمی تجارت کا حجم 24-2023 کے دوران 34.88 ملین ڈالررہا جن میں سے پاکستان نے بیلاروس سے 34.49 ملین ڈالرکی درآمدات کی ہیں ، اسی طرح پاک چین آزادانہ تجارت کے معاہدے کے حوالے سے پاکستان اور چین کی تجارت پر تبصرہ کرتےہوئے وفاقی وزیرنے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے پر 2006 سے عمل کیاجا رہا ہے۔ 24-2023 کے دوران ہماری دو طرفہ تجارت 14271 ملین ڈالر تک بڑھ چکی ہے جس میں پاکستان کی برآمدات 2615ملین ڈالر جبکہ درآمدات کا حجم 11656 ملین ڈالر ہے۔

پاک ایران دوطرفہ تجارت کے بارے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ 24-2023 کے دوران پاکستان اور ایران کی باہمی تجارت 880 ملین ڈالر رہی ۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تجارت کے فروغ کے لئے پاکستان اور ایران نے ترجیحی تجارت کا معاہدہ کیا ہے۔ پاکستان اور قازقستان کی دو طرفہ تجارت 24-2023 کے دوران 138.7 ملین ڈالر رہی اور اس وقت دونوں ممالک پاکستان قازقستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ پر مذاکرات کررہےہیں۔ جام کمال خان نے کرغستان اور پاکستان کی تجارت کےاعدادوشمار پیش کرتےہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران دونوںممالک کی تجارت 11.2 ملین ڈالر رہی ہے ، اسی طرح پاکستان اور روس کی باہمی تجارت 925 ملین ڈالر ریکارڈکی گئی ہے۔

جام کمال خان نے پاک ازبک اقتصادی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سال 24-2023 کے دوران دونوں ممالک کی مجموعی تجارت کا حجم 126 ملین ڈالر ریکارکیا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور ازبکستان کے مابین ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کی سہولت پر روشنی ڈالتےہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کی تجارت فروغ پا رہی ہے۔ مزید برآں انہوں نے پاکستان اور تاجکستان کے تجارتی اعدادوشمار بھی پیش کئے اور بتایا کہ سال 24-2023 کے دوران دو طرفہ تجارت کا حجم 24.6 ملین ڈالر رہا ہے اور پاکستان تاجکستان نے تجارتی تعاون اور اقتصادی اشتراک کار کی بڑھوتری کے لئے ٹرانزٹ ٹریڈ کامعاہدہ کررکھاہے۔

ایس سی او کے رکن ممالک کے مستقبل کے حوالے سے گفتگوکرتےہوئے وفاقی وزیرتجارت نے کہا کہ ہمارا وژن ہے کہ ایس سی او ریجن کے باہمی رابطوں کو فروغ دیاجائے اور ان ممالک کی باہمی تجارت کو مزید وسعت دینے کے ساتھ ساتھ کاروباری شعبہ کی ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ رکن ممالک کے مابین ان کے قوانین اور پالیسیز کے تحت جدت پر مبنی کاروباری ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایاجا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایس سی او ممالک کے درمیان اشتراک کار کے نئے مواقع تلاش کرنے میں گہری دلچسپی رکھتےہیں ۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ اجتماعی کاوشوں سے ہم ایس سی او کے خطے کو مزید مربوط بنا کر معاشی ترقی اور خوشحالی کے اہداف کے حصول کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

اپنے خطاب کے آخر میں وفاقی وزیرتجارت جام کمال خان نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر مختلف اقتصادی مسائل اور غیر یقینی صورتحال کاسامنا ہے ۔ ایس سی او رکن ممالک کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے باہمی یکجہتی کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہاکہ مل کرکام کرنے سے ہم ان مسائل پر قابو پانے اور نقصانات کو کم سے کم کرنے کے ساتھ ساتھ مجموعی خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے کام کرنے کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او رکن ممالک کے درمیان مستحکم شراکت داری ، علاقائی تعاون کے استحکام اور روشن وخوشحال مستقبل کے لئے ہم سب کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=502350

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں