سیاسی اور سفارتی ماہرین نے سندھ طاس معاہدے پر ثالثی کی بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرنے کے بھارتی حکومت کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور انصاف کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
عالمی ثالثی عدالت کے خلاف بیان نے بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے، ماہرین

مزید خبریں
پشاور۔ 17 مئی (اے پی پی):سیاسی اور سفارتی ماہرین نے سندھ طاس معاہدے پر ثالثی کی بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرنے کے بھارتی حکومت کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور انصاف کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سابق سفیر منظور الحق نے بین الاقوامی عدالت کے اختیار کو مسترد کرنے والے بھارتی حکومت کے ترجمان کے جاری کردہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فاشسٹ مودی حکومت کی بین الاقوامی قانونی اداروں کےبارے غیرذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دی ہیگ میں قائم ثالثی کی بین الاقوامی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے بارے میں تاریخی فیصلے جاری کیے ہیں جو رکن ممالک کےلیے اس پر عملدرآمد لازم ہے۔ قومی خبر رساں ادارے "اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت پہلے ہی کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف عمل کر چکا ہے اور اب وہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ثالثی کی بین الاقوامی عدالت کے تاریخی فیصلے کو نظر انداز کر رہا ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
منظور الحق نے بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے حالیہ بیان کا حوالہ دیا جس نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے کبھی بھی اس "نام نہاد عدالت” کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ ریمارکس نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں ثالثی کی بین الاقوامی عدالت کی جانب سے گزشتہ سال سندھ طاس معاہدے کو برقرار رکھنے کے حق میں جاری کئے گئے اپنے فیصلے کو برقرار رکھنے کے بعد سامنے آئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا اور یہ معاہدہ برقرار ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے تبصروں کی مذمت کرتے ہوئے منظور الحق نے کہا کہ اس سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوا جو بین الاقوامی عدالتی فیصلوں اور معاہدوں کی توہین کرتا ہے اور اس نے سندھ طاس معاہدے کےلیے عالمی بینک کی ضمانت کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس اور ریاستوں کے مابین تعلقات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ مودی حکومت کو اس کے غیر قانونی اقدامات کا جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا معاہدے کو معطل رکھنے کا فیصلہ برصغیر میں امن کو خطرے میں ڈال دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کے وسائل پر دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کوئی بھی تنازع اس خطے سے کہیں آگے تک خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ جس میں 1960 میں عالمی بینک نے ثالثی کی تھی، پاکستان اور بھارت کے درمیان کے دریاؤں کے کنٹرول کو تقسیم کرتا ہے۔ منظور الحق نے کہا کہ بھارت غیر قانونی طور پر معاہدے کو معطل رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سرحد پار پانیوں کے حوالے سے یکطرفہ اقدامات کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں اور علاقائی امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔اس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب پر آبپاشی، پینے کے پانی اور غیر استعمال شدہ مقاصد جیسے کہ پن بجلی کی پیداوار کے حقوق حاصل ہیں جبکہ بھارت مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کو کنٹرول کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے معاہدے کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال 30 اپریل سے 21 مئی اور 7 دسمبر سے 15 دسمبر تک دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک کمی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے بہاؤ میں یہ کمی پاکستان کےلیے شدید تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ معاہدے کے تحت مطلوبہ پیشگی اطلاع یا معلومات کے تبادلے کے بغیر بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں یکطرفہ طور پر پانی چھوڑنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات پاکستان کے زرعی دورانیے کے ایک اہم مرحلے پر ہوئے اور انہوں نے براہِ راست روزگار، غذائی تحفظ اور معیشت کو خطرے میں ڈالا۔ سابق سفیر منظور الحق جنہوں نے سعودی عرب اور مصر میں پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، نے کہا کہ بھارت کے حالیہ اقدامات نے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ثبوت دیا ہے، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے پاکستان نے بار بار بین الاقوامی برادری کے سامنے اٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھ کر معاہدے کی دفعات کے تحت چناب کے پانی کو کم کرنے کے معاملے پر وضاحت مانگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ بھارت پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر کی جانب سے اٹھائی گئی تشویش کا واضح الفاظ میں جواب دے گا۔ انہوں نے نئی دہلی سے مطالبہ کیا کہ وہ دریا کے بہاؤ میں یکطرفہ تبدیلی سے گریز کرے اور معاہدے کے تحت اپنے فرائض اس کی روح کے مطابق پورا کرے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ ہلالی نے کہا کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا اور دی ہیگ میں ثالثی کی بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کے بعد وہ قانونی جواز کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشن گنگا اور رتلے جیسے پن بجلی کے منصوبے غیر قانونی طور پر تعمیر کر کے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے اس اقدام کو ایک خطرناک مثال قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے ثالثی عدالت اور غیر جانبدار ماہرین کی کارروائیوں میں حصہ لینے سے انکار کر کے معاہدے کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو کمزور کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت جان بوجھ کر معاہدے کے تحت ثالثی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو بھوک اور محرومی کا شکار کر نے کے درپے ہے۔ گزشتہ سال اگست میں ثالثی عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ بھارت پاکستان کے بلا روک ٹوک استعمال کےلیے مغربی دریاؤں کا پانی بہنے دے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک لازمِ العمل قانونی دستاویز ہے جس نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اسے یکطرفہ طور پر واپس نہیں لیا جا سکتا۔انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کی سپلائی کو محدود کرنے سے پاکستان میں لاکھوں لوگ بھوک اور فاقہ کشی کا شکار ہو جائیں گے۔
ماہرین نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں نہ صرف بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس بلکہ علاقائی امن، سلامتی، اچھے ہمسائیگی کے تعلقات اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کو چلانے والے اصولوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی برادری اور عالمی بینک کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری بھی بھارت کو اپنے یکطرفہ فیصلے واپس لینے پر مجبور کرنے اور مغربی دریاؤں میں پانی کے بلا روک ٹوک بہاؤ کو یقینی بنانے کےلیے مداخلت کرے گی۔








