عالمی سطح پر امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لئے شواہد پر مبنی روایتی ادویات کو جدید نظامِ صحت کا لازمی حصہ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):او آئی سی۔کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لئے شواہد پر مبنی روایتی ادویات کو جدید نظامِ صحت کا لازمی حصہ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے شہر چانگ چُن میں منعقدہ 13 ویں ورلڈ انٹیگریٹو میڈیسن کانگریس سے خطاب کرتے …

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):او آئی سی۔کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لئے شواہد پر مبنی روایتی ادویات کو جدید نظامِ صحت کا لازمی حصہ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے شہر چانگ چُن میں منعقدہ 13 ویں ورلڈ انٹیگریٹو میڈیسن کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ او آئی سی۔کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے روایتی، تکمیلی اور انضمامی طب کے موضوع پر کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لئے شواہد پر مبنی روایتی ادویات کو جدید نظامِ صحت کا لازمی حصہ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ادویات کی دریافت اور تیاری کا رائج ماڈل نہ صرف مہنگا بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لئے غیر مؤثر اور غیر منصفانہ بنتا جا رہا ہے جہاں عوام کو ادویات کی دستیابی، قیمت اور تحفظ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں آج بھی آبادی کی ایک بڑی تعداد کے لئے روایتی اور تکمیلی طب بنیادی علاج کا ذریعہ ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے واضح کیا کہ شواہد پر مبنی روایتی، تکمیلی اور انضمامی طب (ٹی سی آئی ایم) متعدد بیماریوں میں ابتدائی علاج، دائمی امراض کے مؤثر انتظام، بیماریوں کی روک تھام اور مجموعی صحت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی ادویات قدرتی وسائل پر مبنی، پائیدار، اور کیمیائی ساخت کے اعتبار سے نہایت متنوع ہوتی ہیں جو انہیں جدید تحقیق کے لئے بھی انتہائی اہم بناتی ہیں۔

انہوں نے عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کو چاہئے کہ روایتی اور انضمامی طب کو قومی نظامِ صحت میں مؤثر انداز میں شامل کریں کیونکہ اس سے صحت کے شعبے میں عدم مساوات کم ہونے کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر صحت کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔خطاب کے دوران انہوں نے پاکستان اور چین کے مابین روایتی طب کے شعبے میں بڑھتے ہوئے سائنسی تعاون کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کامسٹیک کے تحت چین کی ممتاز جامعات اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے جاری ہیں جن میں جامعہ کراچی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولوجیکل سائنسز (آئی سی سی بی ایس) میں قائم چین۔پاکستان تعاون مرکز برائے روایتی طب نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جو جنوبی ممالک کے مابین سائنسی شراکت داری کی ایک کامیاب مثال ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ ہونان یونیورسٹی آف چائنیز میڈیسن، ننگبو یونیورسٹی، چائنا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایکسچینج سینٹر، ہواوے ٹیکنالوجیز اور سنکیانگ میڈیکل یونیورسٹی سمیت دیگر چینی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے تحقیق، جدت، تربیت اور علم کے تبادلے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ او آئی سی۔کامسٹیک کے پلیٹ فارم کے ذریعے بین الاقوامی تعاون کو مزید وسعت دی جائے اور ایسی پالیسیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو روایتی طب کو عالمی صحت، پائیدار ترقی اور عوام دوست طبی سہولیات کے فروغ کے لئے مؤثر طور پر بروئے کار لا سکیں۔