بیجنگ۔18جولائی (اے پی پی):بوآئو فورم برائے ایشیا (بی ایف اے) کونسل کی رکن اور اقوام متحدہ کی سابق انڈر سیکرٹری جنرل شمشاد اختر نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہم آہنگی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ چائنا اکنامک نیٹ (سی ای این) کی رپورٹ کے مطابق شمشاد اختر نے گلوبل ہیلتھ فورم (جی ایچ ایف) آف باؤ فورم فار ایشیاکی تیسری کانفرنس …
عالمی سطح پر صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہم آہنگی بنیادی حیثیت رکھتی ہے،پاکستانی ماہر معاشیات

مزید خبریں
بیجنگ۔18جولائی (اے پی پی):بوآئو فورم برائے ایشیا (بی ایف اے) کونسل کی رکن اور اقوام متحدہ کی سابق انڈر سیکرٹری جنرل شمشاد اختر نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہم آہنگی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
چائنا اکنامک نیٹ (سی ای این) کی رپورٹ کے مطابق شمشاد اختر نے گلوبل ہیلتھ فورم (جی ایچ ایف) آف باؤ فورم فار ایشیاکی تیسری کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او نےاپنے قیام کے 75 سالوں میں بہت زیادہ کام کیا ہے تاہم مجموعی نقطہ نظر کے طور ہم ابھی تک عالمی سطح پر حقیقی ہم آہنگی حاصل کرنے سے بہت دور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے محکموں اور پلیٹ فارمز کے کام بہت زیادہ اوپر تلے ہو رہے ہیں۔
اس طرح کی غیر موثر صورتحال کو دنیا نے اتنے عرصے سے نظر انداز کیا جسے کورونا وائرس کی وبا نے بے نقاب کر دیا ہے۔ معروف چینی وائرولوجسٹ اور امیونولوجسٹ گاؤ فو نے پاکستانی ماہر اقتصادیات اور سفارت کار شمشاد اختر کے اس نقطہ نظر کی توثیق کی اور اس بات کی نشاندہی کی کہ ممالک تعاون پر نہیں مقابلے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس انسان کا دشمن ہے لیکن دشمن سے سیکھنا ہی اسے شکست دینے کی کلید ہے۔ تمام ممالک کو کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لئے تعاون کے جذبے کو سیکھنے کی ضرورت ہے اور یہ ضروری ہے۔ شمشاد اخترنے گاؤ فو کے نظریے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی طبی اداروں کو اصلاحات کی فوری ضرورت ہے، اس دوران کثیرالجہتی کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ اس عمل میں نہ صرف حکومتوں اور قومی اداروں کو بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کو بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے جس میں ڈیٹا کا اشتراک بہت ضروری ہے۔ انہوں نے ایک بنیاد کے طور پر عالمی فنانسنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ورلڈ بینک میں ایک طویل عرصے تک کام کیا، اس لیے انہیں اس بات کا گہرا احساس ہے۔
انہوں نے پاکستان کے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے متعلقہ محکموں نے کورونا وائرس کی وبا کے خلاف لڑنے کے لیے بھاری فنڈ فراہم کرنے کی پوری کوشش کی، ساتھ ہی شراکت دار ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں سے مالی تعاون حاصل کیا اور یہ سب انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعاون کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس سوال کے بارے میں سوچنا ہے کہ کیا عالمگیر یت واقعی حاصل کی جا سکتی ہے؟ کیونکہ مستقبل میں عالمی سطح پر وباؤں کے خطرے کے تحت ہر ملک اپنے طور پر کچھ نہیں کر سکتا۔ گاؤ فو نے زور دیاکہ جیسا کہ شمشاد اختر نے کہا کہ مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک میکانزم تشکیل دیں جیسے کہ ہمیں زیادہ مؤثر طریقے سے فنڈز اکٹھے کرنا اور فنڈز مختص کرنا ہے۔







