عالمی یومِ ذہنی صحت پر جنرل ہسپتال میں آگاہی تقریب و واک کا انعقاد

پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم نے مریض کی بات ہمدردی اور تحمل سے سننے کو نصف علاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذہنی مریضوں سے ہمدردانہ رویہ محض اخلاقی قدر نہیں بلکہ علاج کا بنیادی اور لازمی حصہ ہے

لاہور۔8اکتوبر (اے پی پی):پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم نے مریض کی بات ہمدردی اور تحمل سے سننے کو نصف علاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذہنی مریضوں سے ہمدردانہ رویہ محض اخلاقی قدر نہیں بلکہ علاج کا بنیادی اور لازمی حصہ ہے، لہذا متاثرہ افراد کو تنقید، طنز یا سماجی تنہائی کے بجائے احترام، اعتماد اور حوصلہ افزائی کی فضا فراہم کی جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنرل ہسپتال کے شعبہ نفسیات کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ ذہنی صحت کے سلسلے میں منعقدہ آگاہی تقریب اور واک کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ ترجمان جنرل ہسپتال کیمطابق تقریب میں ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، سربراہ شعبہ نفسیات پروفیسر ڈاکٹر فائزہ اطہر، پروفیسر محسن ظہیر، پروفیسر نازش ثقلین، پروفیسر آمنہ احسن چیمہ، ڈاکٹر سائرہ ذیشان، ڈاکٹر سید عبدالرافع، ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹر ماہین رضوان، عالیہ صدف،ڈاکٹرز، نرسز، میڈیکل طلبہ اور مریضوں کے اہل خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ میڈیا سے گفتگو میں پروفیسر جودت سلیم نے کہا کہ ذہنی صحت بھی جسمانی صحت کی مانند مساوی توجہ کی متقاضی ہے، کیونکہ مریض کو توجہ سے سننے اور سمجھنے کا احساس اس میں زندگی کی طرف لوٹنے کی امید پیدا کرنے سمیت شفا یابی کے عمل کو تیز بناتا ہے جبکہ پالیسی سازی اور طریقہ علاج میں ان کے حقیقی تجربات و آرا کی شمولیت سے اس نظام میں مثبت انقلاب لایا جا سکتا ہے۔

اس موقع ایم ایس پروفیسر فریاد حسین اور پروفیسر فائزہ اطہر کا کہنا تھا کہ بیشتر نفسیاتی امراض بروقت تشخیص اور مناسب رہنمائی سے مکمل طور پر قابلِ علاج ہیں، جس کے لیے ادویات کے ساتھ ساتھ سائیکو تھراپی، کاگنیٹو بیہیویئرل تھراپی، ٹیلی سائیکیاتری اور ڈیجیٹل ہیلتھ ٹولز جیسے جدید رجحانات کا استعمال بہترین نتائج فراہم کرتا ہے جبکہ مسلسل اداسی، بے چینی، نیند میں خلل، بھوک کی تبدیلی اور غیر معمولی تھکاوٹ جیسی علامات ظاہر ہونے پر فورا معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔ تقریب کے اختتام پر اگاہی واک کا اہتمام کیا گیا جس میں شرکا نے مرض کے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کی اہمیت اور مریضوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا اور عوام میں آگاہی پمفلٹس بھی تقسیم کیے گئے اور کیک بھی کاٹا گیا۔