عدالت عالیہ نے نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں کی دوبارہ کھدائی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو منصوبے کا کام بلا تعطل جاری رکھنےکی ہدایت کردی
عدالت عالیہ نے نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں کی دوبارہ کھدائی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو منصوبے کا کام بلا تعطل جاری رکھنےکی ہدایت کردی
کوئٹہ۔ 07 ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سمنگلی روڈ سمیت کوئٹہ کے مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے سمنگلی روڈ کی تعمیر و گریڈ بہتری کے کام میں مبینہ رکاوٹوں اور نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں کی دوبارہ کھدائی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو منصوبے کا کام بلا تعطل جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔
سماعت میں درخواست گزار سید نذیر احمد آغا ایڈووکیٹ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلوچ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر، کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے وکیل راجیش ناتھ کوہلی، ثناء اللہ خان بگٹی ایڈووکیٹ، ایس پی لیگل کوئٹہ رحیم خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر چیف منسٹر پیکج برائے کوئٹہ ڈویلپمنٹ رفیق بلوچ، ایڈووکیٹ کنوینر کمیٹی شائے حق بلوچ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے وکیل اظہار الحق ترین، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن شکیل احمد اور پاکستان ریلوے کے وکیل رضوان علی سومرو پیش ہوئے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ کوئلہ پھاٹک کراسنگ کو چوڑا کرنے کا کام مکمل ہوچکا ہے، تاہم حتمی کارروائی پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹر لاہور میں زیر التوا ہے، جسے ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد جلد شروع کردیا جائے گا۔عدالت میں سیکشن 151 سی پی سی کے تحت دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کے لیے سول متفرق درخواست بھی جمع کرائی گئی، جس کے ساتھ منسلک دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا۔ ایس ایس پی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالتی احکامات سے متعلقہ ٹریفک حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر CMPQD نے کالون روڈ کے سامنے عارضی میڈین اوپننگ اور ٹریفک کی صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق کولون روڈ پر یومیہ ٹریفک کا حجم 12,342 جبکہ چھٹی کے اوقات میں 1,270 گاڑیاں فی گھنٹہ ہے، جبکہ انسکمب روڈ کے متعلقہ حصے پر یومیہ ٹریفک 6,416 اور چھٹی کے اوقات میں 631 گاڑیاں فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہیں۔ٹریفک ماہرین کی رپورٹ میں قرار دیا گیا کہ کالون روڈ تک غلط سمت سے ہونے والی آمدورفت سڑک استعمال کرنے والوں کے رویے اور غلط نقل و حرکت کا مسئلہ ہے، اس لیے کالون روڈ کے سامنے مستقل میڈین اوپننگ کی ضرورت نہیں۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ نئی اوپننگ سے زرغون روڈ پر بے قابو موڑ اور ٹریفک کی قطار کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے، جبکہ انسکمب روڈ پہلے ہی متبادل اور مقصد سے بنایا گیا راستہ ہے۔رپورٹ میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے سمتاتی سائن بورڈز، ٹریفک پولیس کے مؤثر نفاذ، ڈرائیور آگاہی مہم اور 30 روز بعد ٹریفک صورتحال کی دوبارہ نگرانی کی سفارش کی گئی۔عدالت کو بتایا گیا کہ 24 اگست 2026 سے کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے حکام کی جانب سے سمنگلی روڈ کی گریڈ بہتری کا کام روک دیا گیا تھا۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو بھی ہدایت کی کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ پہلے سے تعمیر شدہ علاقوں میں کام کرنے والے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے کسی بھی قسم کی کھدائی یا یوٹیلیٹی ورک شروع کرنے سے قبل پراجیکٹ ڈائریکٹر سے این او سی حاصل کریں گے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی اور فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے۔عدالت نے حکم کی نقل متعلقہ حکام کو اطلاع اور تعمیل کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئینی درخواست کی مزید سماعت 24 ستمبر 2026 تک ملتوی کردی۔








