عدالت نے امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈ کے اغوا میں ملوث طالبان کمانڈر کو 42 سال قید کی سزا سنا دی

امریکی ریاست مین ہیٹن کی وفاقی ضلعی عدالت نے منگل کے روز امریکی صحافی کے ڈیوڈ روہڈ کے اغوا ءمیں ملوث طالبان کمانڈر کو 42 سال قید کی سزا سنا دی۔

اسلام آباد/ مین ہیٹن ۔10جون (اے پی پی):امریکی ریاست مین ہیٹن کی وفاقی ضلعی عدالت نے منگل کے روز امریکی صحافی کے ڈیوڈ روہڈ کے اغوا ءمیں ملوث طالبان کمانڈر کو 42 سال قید کی سزا سنا دی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق طالبان رہنماءنے عدالت کے رو برو صحافی کو یرغمال بنانے اور دہشت گردی کی معاونت کے الزامات کا اعترافِ جرم کیا تھا۔طالبان کمانڈر حاجی نجیب اللہ نے گزشتہ سال اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ اس نے طالبان کے اُن ارکان کی مدد کی جو امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 2008 میں اس نے نیویارک ٹائمز کے اُس وقت کے رپورٹر ڈیوڈ روہڈ، ایک افغان صحافی اور ان کے ڈرائیور کے اغوا میں مدد کی تھی۔مین ہیٹن کی وفاقی ضلعی عدالت کی جج کیتھرین پولک فائیلا نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ نجیب اللہ کے اقدامات میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی حمایت اور انہیں ممکن بنانا شامل تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم نے یرغمال بنانے کی کارروائی ’’سنگ دلانہ سفاکی‘‘ اور ’’نفسیاتی تشدد‘‘ کے ساتھ انجام دی۔استغاثہ نے عدالت سے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عام شہریوں کو یرغمال بنانا انتہائی مذموم اور اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول جرم ہے۔پراسیکیوٹرز نے یہ بھی کہا کہ نجیب اللہ 2008 میں اپنے ماتحت جنگجوؤں کے اُس حملے کا بھی ذمہ دار ہے جس میں تین امریکی فوجی اور ایک افغان مترجم ہلاک ہوئے تھے، جبکہ بعض لاشوں کی بے حرمتی بھی کی گئی تھی۔استغاثہ نے اپنے مؤقف میں لکھا کہ ملزم ایک ایسے پُرتشدد باغی گروہ کا سربراہ تھا جو امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو قتل کرنے پر تُلا ہوا تھا۔دوسری جانب، نجیب اللہ کے وکلاء نے 18 سال قید کی سزا کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کا مؤکل اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ طالبان کی حمایت کے نتیجے میں 2008 کی ہلاکتیں ہوئیں، تاہم وہ اس حملے میں براہِ راست شریک یا اس کا ہدایت کار نہیں تھا اور نہ ہی اغوا کی کارروائی کا مرکزی نگران تھا۔منگل کو سزا سنائے جانے سے قبل نجیب اللہ نے عدالت سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ روہڈ سے معذرت کی۔ اس نے کہا کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بہت افسوسناک تھا اور مجھے اس میں اپنے کردار پر گہرا افسوس ہے۔ بعد ازاں اس نے اپنی ذاتی مشکلات اور مصائب کا بھی ذکر کیا۔ڈیوڈ روہڈ نے بھی عدالت میں بیان دیا اور 2008 کے حملے میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں اور افغان مترجم کے نام لیتے ہوئے کہا کہ ان کے اہلِ خانہ اور دوستوں نے شدید درد، نقصان اور غم برداشت کیا۔ انہوں نے یرغمال بنانے کو ظالمانہ اور بزدلانہ جرم قرار دیا۔ڈیوڈروہڈ ایک تجربہ کار صحافی تھے جو ایک کتاب کے لیے تحقیق کے دوران حاجی نجیب اللہ سے ملاقات اور گفتگو کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران انہیں افغان صحافی طاہر لودین اور اپنے ڈرائیور اسداللہ منگل کے ساتھ اغوا کر لیا گیا۔استغاثہ کے مطابق نجیب اللہ نے تینوں افراد پر جاسوسی کا الزام لگایا اور ان کے خاندانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ان سے تفتیش کی۔ اس کے ماتحت افراد نے یرغمالیوں کو طالبان کی پروپیگنڈا ویڈیوز بھی دکھائیں جن میں سر قلم کرنے کے مناظر شامل تھے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق اغوا کاروں نے کئی ماہ تک ڈیوڈروہڈ اور دیگر یرغمالیوں کو تاوان حاصل کرنے اور طالبان قیدیوں کی رہائی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ یرغمالیوں کو مدد کی اپیل پر مبنی فون کالز اور ویڈیوز بنانے پر مجبور کیا گیا، جن میں ایک ویڈیو میں روہڈ اپنی جان بخشنے کی درخواست کر رہے تھے جبکہ ان کے چہرے پر مشین گن تانی گئی تھی۔سات ماہ قید میں گزارنے کے بعد روہڈ اور طاہر لودین ایک طالبان کمپاؤنڈ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے رسی کے ایک ٹکڑے کی مدد سے رات کے وقت دیوار پھلانگی اور پیدل چلتے ہوئے پاکستانی فوجی اڈے تک پہنچ گئے۔ استغاثہ کے مطابق اسداللہ منگل تقریباً پانچ ہفتے بعد ایک جھڑپ کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوئے

مزید خبریں