عدلیہ’ انتظامیہ اور مقننہ کے درمیان مذاکرات وقت کا اہم تقاضا ہے’ پارلیمنٹ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے’ ملک میں ہر قسم کی فروعی اور لسانی تفرقہ بازی عالمی سیاست کا حصہ ہے جس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے اور فنڈنگ کی جارہی ہے’ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکا عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ عدلیہ' انتظامیہ اور مقننہ کے درمیان مذاکرات وقت کا اہم تقاضا ہے' پارلیمنٹ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے' ملک میں ہر قسم کی فروعی اور لسانی تفرقہ بازی عالمی سیاست کا حصہ ہے اور اس میں بیرونی ہاتھ اور فنڈنگ کی جارہی ہے' یہ ملک کے خلاف …

اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ عدلیہ’ انتظامیہ اور مقننہ کے درمیان مذاکرات وقت کا اہم تقاضا ہے’ پارلیمنٹ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے’ ملک میں ہر قسم کی فروعی اور لسانی تفرقہ بازی عالمی سیاست کا حصہ ہے اور اس میں بیرونی ہاتھ اور فنڈنگ کی جارہی ہے’ یہ ملک کے خلاف سازش ہے’ ہم سب کو مل کر اس سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔ منگل کو عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر پارلیمنٹرینز کمیشن برائے انسانی حقوق کے زیر اہتمام ”پارلیمانی جمہوریت ” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات دیکھنے والی یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت ہے یا نہیں اور کیا سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے منشور پر کبھی عمل بھی کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں شخصیت کی بنیاد پر پارٹیاں وجود میں آتی ہیں۔ جب تک پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں آئے گی اور ہم اپنے اپنے ورکروں کو عزت نہیں دیں گے اس وقت تک ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں آئے گی۔ سیاسی جماعتوں کو جمہوری روایات میں ڈھالنا ہوگا اور ہمیں یہ احساس کرنا چاہیے کہ جن لوگوں کے ووٹوں سے ہم منتخب ہو کر آتے ہیں ان کے حقوق اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی صاف شفاف اور منصفانہ الیکشن کرائے جائیں اور اصلاحات لائی جائیں۔ میں اپنی پارٹی کے اندر بھی اس حوالے سے بات کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم سب اپنے اپنے ورکروں کو عزت دیں گے اور پارٹیوں کے اندر حقیقی جمہوریت لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی دیگر جمہوریتوں کی طرح ہمیں دوسرے لوگوں کو بھی آگے آنے کا موقع دینا چاہیے۔ پارٹیوں کے اندر جمہوری سٹرکچر کو بہتر بنانا ہوگا۔ اسد قیصر نے کہا کہ عدلیہ’ انتظامیہ اور مقننہ تینوں اداروں کے درمیان 1973ء کے آئین کے اندر رہتے ہوئے بات چیت کا عمل ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر قسم کا فروعی اور لسانی انتشار عالمی سیاست کا حصہ ہے۔ اس میں بیرونی ہاتھ اور بیرونی فنڈنگ کی جارہی ہے۔ یہ ملک کے خلاف سازش ہے۔ ہم سب کو مل کر یہ سازش ناکام بنانی ہوگی۔ تاہم انہوں نے سیاسی انتشار کی بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم تسلی بخش بات یہ ہے کہ قومی معاملات پر قومی سیاسی قیادت متحد ہو جاتی ہے۔ قبل ازیں سابق چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں جمہوریت پر حملے ہوئے’ مارشل لاء لگے’ انسانی حقوق سلب ہوئے’ آئین معطل ہوا مگر اب ملک میں جمہوری ارتقاء شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم’ پارلیمانی جمہوریت اور وفاق پاکستان پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ صدارتی نظام کی باتیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حقیقت سے آنکھیں چرائیں اور تاریخ سے سبق نہیں سیکھا اسی وجہ سے ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اب آگے بڑھنا ہے۔ ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ پہلے بھی صدارتی نظام اور ون یونٹ کے کیا نتائج نکلے جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب 1962ء کے ماڈل کو آئیڈیل قرار دیا جارہا ہے۔ 1962ء کے ماڈل کے تحت 22 خاندان ابھر کر سامنے آئے اور اسی ماڈل کے تحت صدر قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے بل کو نامنظور کر سکتا تھا اب 1973ء کے آئین کو 1962ء کے آئین کے تابع لانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ صدارتی نظام لانے کے لئے پورے آئین کو تبدیل کرنا ہوگا اور اس کے لئے وسیع تر اتفاق رائے کیسے پیدا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے وفاق پاکستان کو نقصان پہنچے گا۔ ہمارے پاس ان معاملات کو بہتر بنانے کے لئے صرف ایک راستہ ہے کہ اداروں کے درمیان ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ بات چیت کا راستہ نکالنے کے لئے عدلیہ’ انتظامیہ اور مقننہ کے درمیان ڈائیلاگ کے لئے پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سابق سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ برطانوی جمہوریت 900 سال پرانی ہے جبکہ پاکستان کو وجود میں آئے صرف 72 سال ہوئے ہیں مگر پاکستان میں روز اول سے خواتین کو ووٹ کا حق دے دیا گیا اور برطانیہ نے ہمارے بعد خواتین کو ووٹ کا حق دیا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی جمہوریت اور نمائندہ پارلیمنٹ کے لئے نوجوان نسل کو آگے لانا ہوگا اسی سے جمہوریت مستحکم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارلیمنٹ دنیا کی واحد پارلیمنٹ ہے جہاں ایس ڈی جیز سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بطور قوم یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جمہوری حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔ اسی طرح دنیا کے دیگر کئی ممالک میں بھی نام نہاد جمہوریت ہے۔ اختلاف رائے ہونا اچھی بات ہے مگر پارلیمنٹ میں ہم ایک دوسرے کی عزت نہیں کریں گے تو باہر ہماری کون عزت کرے گا۔ یہ طرز عمل ہماری ناکامی ہوگی۔ ہمیں نوجوان نسل کے لئے خود کو عملی نمونہ بننا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر پارلیمنٹ کیفے ٹیریا میں سبسڈائز کھانوں کی بات حقائق کے برعکس ہے۔ اسی طرح صدارتی نظام کی بات بھی سوشل میڈیا پر کی جارہی ہے۔ اس کا مقصد جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بدنام کرنا ہے۔ ہمیں خود احتسابی کا طریقہ کار اپنانا ہوگا اسی سے جمہوریت مستحکم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء کے دھرنے میں بطور سپیکر مجھ پر میری پارٹی اور جے یو آئی (ف) کا استعفے منظور کرنے کے لئے دبائو تھا مگر میں نے وہی کچھ کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا۔ اگر میں استعفے قبول کرلیتا تو یہ جمہوریت کی خدمت نہ ہوتی۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم ایچ مانڈوی والا نے کہا کہ جمہوریت ہی ملک کے تمام مسائل کا حل ہے۔ قانون سازی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ اصل مسئلہ ان قوانین پر عملدرآمد کا ہے۔ جمہوریت کو مضبوط بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم بہتر کردار ادا نہ کر سکے تو سارا الزام جمہوریت پر آئے گا۔ سابق سپیکر اور وزیر برائے قومی غذائی تحفظ سید فخر امام نے کہا کہ قانون کی حکمرانی جمہوریت کا بنیادی جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کے 197 ممالک میں جمہوری نظام رائج ہے۔ میں 1985ء میں غیر جماعتی الیکشن میں منتخب ہو کر آیا اور سپیکر بنا۔انہوں نے کہا کہ قانون سازی میں میڈیا نے آئینی اور انسانی حقوق کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ ہماری معیشت کیوں زبوں حالی کا شکار ہے۔ پاکستان جمہوری طریقہ کار کے ذریعے وجود میں آیا مگر ہماری معیشت اتنی کمزور ہے کہ ہم آج بھی ہر وقت عالمی اداروں کی طرف سے امداد کے منتظر رہتے ہیں۔ یہ روش ہمیں ترک کرنا ہوگی کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح کے رہنما اصول ہمارے سامنے موجود ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہمیں ان اصولوں کی روشنی میں سب کو مل کر پاکستان کو خودانحصار ملک بنانا ہوگا۔ رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے کہا کہ جمہوریت ایک جاری عمل ہے۔ پاکستان میں جمہوریت متعدد مرتبہ ڈی ریل ہوتی رہی ہے۔ پارلیمنٹ قانون سازی کے لئے بنی ہے۔ جمہوریت سے معیشت مستحکم ہوتی ہے۔ حقیقی جمہوریت کے لئے عوام کے حقیقی نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ کا ہونا بے انتہا ضروری ہے۔ جب تک مڈل کلاس اور غریب طبقات کو آگے نہیں لائیں گے حقیقی جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ جمہوریت اور برداشت لازم و ملزوم ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت جمہوریت کے دو پہیے ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا اور ایک دوسرے کے کردار کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انتخابی قوانین میں ترمیم کے ذریعے یہ اصلاحات کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں یہ ترمیم ہونی چاہیے کہ جنرل نشتوں پر 25 فیصد خواتین کو ٹکٹ دینے کو لازم قرار دیا جائے۔ اسی طرح مزدوروں’ کسانوں’ دانشوروں کو بھی پارلیمنٹ میں لانے کے لئے عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔