عصری چیلنجزکے مطابق تعلیم کی فراہمی پر توجہ دی جائے، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے، مستحق طلباءکو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں ،عارف علوی

اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے، مستحق طلباءکو اعلیٰ تعلیم کے لئے احساس پروگرام کے تحت وظائف کی فراہمی اہم اقدام ہے، عصری چیلنجز کے مطابق تعلیم کی فراہمی پر توجہ دی جائے، مصنوعی ذہانت کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار …

اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے، مستحق طلباءکو اعلیٰ تعلیم کے لئے احساس پروگرام کے تحت وظائف کی فراہمی اہم اقدام ہے، عصری چیلنجز کے مطابق تعلیم کی فراہمی پر توجہ دی جائے، مصنوعی ذہانت کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ایوان صدر میں غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبا کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ طلبا کی کامیابی میں اساتذہ اور والدین کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارغ التحصیل ہونے والے طلبا کو کامیابی سے اپنا مقام بنانا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے مجموعی صورتحال کو تبدیل کردیا ہے۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی وقت کی ضرورت ہے۔ کورونا نے معاشی اور معاشرتی طرز زندگی کو تبدیل کردیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ عصری چیلنجز کے مطابق تعلیم کی فراہمی پر توجہ کی ضروت ہے۔ ہمیں اپنے طلبا کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تعلیم دینی چاہئیے۔ ای لرننگ کے نظام کی رسائی کم اخراجات کے ساتھ زیادہ ہوتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی ادارے فاصلاتی نظام تعلیم کو آسان بنانے کے لئے کام کریں۔ غلام اسحاق انسٹیٹیوٹ او دیگر یونیورسٹیوں کو اپنے سلیبس میں ای لرننگ کے مواد میں اضافہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں تعلیم کے لئے زراعت اور میڈیسن کے شعبہ میں بڑے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور انصاف کے اصولوں پر مبنی تعلیم معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی ریاست میں احساس اور صلہ رحمی بڑے اہم عناصر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اب دنیا میں اصول اخلاقیات کی بجائے محض مفادات کی بنیاد پر مرتب کئے جا رہے ہیں کیونکہ مال و دولت کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم ترقیاتی عمل میں اخلاقیات اور اصولوں کا دامن نہیںچھوڑنا چاہیے اور ذاتی قومی اور بین الاقوامی سطح پر اخلاق اور اخلاقی اقدار کو مضبوط بنانے کے لئے کام کرنا چاہیے۔ پاکستان میں فیسوں میں کمی، ہنر مندی کی تعلیم اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کے ذریعے علم کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔صدر مملکت نے خواتین کی تعلیم پر زور دیااور کہا کہ پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے والی خواتین کو ان کی صلاحیتوں کو صحیح معنوں میں بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم کمزور اور محروم افراد سمیت معاشرے کے تمام طبقات کی ضرورت کو پورا کریں تو پاکستان تبھی ترقی کرے گا۔ مستحق طلبا کو اعلیٰ تعلیم کے لئے مواقعوں کی فراہمی بہت ضروری ہے اس ضمن میں حکومت کی جانب سے احساس پروگرام کے تحت وظائف کی فراہمی اہم اقدام ہے۔ اس موقع پر صدر مملکت نے ڈاکٹریٹ آف فلاسفی، ماسٹر آف سائنس اور بیچلر آف آرٹس کے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے طلباءو طالبات میں میڈلز بھی تقسیم کئے۔ قبل ازیں سوسائٹی آف پروموشن آف انجینئرنگ سائنسز و ٹیکنالوجی کے صدر فرید رحمن، غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ریکٹر جہانگیر بشر اور پروریکٹر اکیڈمکس جمیل النبی نے بھی خطاب کیا۔