عصمت دری کے واقعات کی تحقیقات کے لئے خواتین آفیسرز کو تربیت دی جائے’ ایسے واقعات میں انصاف سے ہی کمی لائی جاسکتی ہے’ ریپ کے ٹیسٹ کے لئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی فرانزک کٹس تیار کرے گی وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ عصمت دری کے واقعات کی تحقیقات کے لئے خواتین آفیسرز کو تربیت دی جائے' ایسے واقعات میں انصاف سے ہی کمی لائی جاسکتی ہے' ریپ کے ٹیسٹ کے لئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی فرانزک کٹس تیار کرے گی جبکہ ہاشم نوتیزئی نے تجویز دی کہ ایسے واقعات کی چھان بین …

اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ عصمت دری کے واقعات کی تحقیقات کے لئے خواتین آفیسرز کو تربیت دی جائے’ ایسے واقعات میں انصاف سے ہی کمی لائی جاسکتی ہے’ ریپ کے ٹیسٹ کے لئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی فرانزک کٹس تیار کرے گی جبکہ ہاشم نوتیزئی نے تجویز دی کہ ایسے واقعات کی چھان بین کے لئے ایوان کی کمیٹی بنائی جائے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں لاہور سیالکوٹ موٹروے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے اندوہناک جرم سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن محمد ہاشم نوتیزئی نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے سخت سے سخت قوانین بنائے جائیں۔ ایسے واقعات کی چھان بین کے لئے اس ایوان کی کمیٹی بنائی جائے۔ وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اس واقعہ نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ ہر کوئی اس پر غصہ میں ہے۔ عوام ایسے مجرموں کو سرعام پھانسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ عوام کے غصے کا اظہار ہے۔ اس غصہ میں اس وقت مزید اضافہ ہو جاتا ہے جب ایسے کیس مزید بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے واقعات پر قرار واقعی سزائیں نہیں ہوتیں۔ ہم ایسے واقعات پر ایک ماہ غم مناتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ گزشتہ واقعات پر سزا ہوتی تو شاید ایسے واقعات نہ ہوتے۔ اس دلیل کی واقعات ساتھ نہیں دیتے ۔ ہر سال اوسطاً پانچ ہزار عصمت دری کے واقعات ہوتے ہیں اور پانچ فیصد کو سزا نہیں ملتی۔ ہزاروں کیس رپورٹ ہوتے ہی نہیں۔ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر واقعہ کے ملزم عابد پہلے بھی اس قسم کے واقعہ میں ملوث رہا۔ عصمت دری کی سزا سزائے موت ہے۔ لیکن یہ قوانین ایسے واقعات روک نہیں سکے۔ واقعات اور سانحات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ ایسے واقعات کا حل نظام انصاف میں اصلاحات ہیں۔ ملزم پکڑے نہ جائیں اور سزا نہ ہو تو باقی باتیں بے معنی ہیں۔ ریپ کیسز کی تفتیش کے مقدمات خواتین افسران کو تفویض کئے جائیں۔ ریپ کے ٹیسٹ کے لئے اپنی فرانزک کٹس بنائیں گے۔ کریمنل لوگوں کا ڈیٹا مرتب کیا جاسکتا ہے۔ عدالتیں اپنے ججز کو تربیت دیں کہ عصمت دری کے کیسز میں صلح نہیں ہو سکتی۔