اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کے حصول میں دہشت گردی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، دہشت گردی کے ساتھ ساتھ، موسمیاتی تبدیلی بھی علاقائی رابطہ کاری کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے، اجتماعی طور پر مشترکہ چیلنجز کا سامنا کرنا، معاشی خلیج کو عبور کرنا اور مشترکہ خوشحالی کے امکانات کو کھولنا پہلے سے …
علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کے حصول میں دہشت گردی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اقتصادی تعاون تنظیم کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار

مزید خبریں
اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کے حصول میں دہشت گردی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، دہشت گردی کے ساتھ ساتھ، موسمیاتی تبدیلی بھی علاقائی رابطہ کاری کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے، اجتماعی طور پر مشترکہ چیلنجز کا سامنا کرنا، معاشی خلیج کو عبور کرنا اور مشترکہ خوشحالی کے امکانات کو کھولنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے، ہمیں اقتصادی تعاون تنظیم کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان مقاصد کو پورا کیا جا سکے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقتصادی تعاون تنظیم کے کونسل آف وزراء (ایک سی او سی او ایم)کے 29 ویں اجلاس میں ورچوئل شرکت کے موقع پر اپنے بیان میں کیا ، انہوں نے جمہوریہ قازقستان کے وزیر خارجہ، اقتصادی تعاون تنظیم (ایک سی او) کے موجودہ چیئرمین کونسل آف وزراء وزیر خارجہ یرمک کوچربایف اور اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ، اقتصادی تعاون تنظیم کے گزشتہ چیئرمین کونسل آف وزرا وزیر خارجہ سید عباس عراقچی،سیکرٹری جنرل اقتصادی تعاون تنظیم، سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان کو کونسل آف وزراء کے 29 ویں کامیاب اجلاس کی میزبانی پر مبارکباد دی اوریرمک کوچربایف کو جمہوریہ قازقستان کی وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالنے پر مبارکباد دی ۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم قازقستان کی صدارت کے دوران اقتصادی تعاون تنظیم کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اجلاس عالمی اور علاقائی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں اور تکنیکی ترقی کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان ہو رہا ہے جو علاقائی تعاون کو متاثر کر رہی ہیں، آج کی اس غیر یقینی دنیا میں اجتماعی طور پر مشترکہ چیلنجز کا سامنا کرنا، معاشی خلیج کو عبور کرنا اور مشترکہ خوشحالی کے امکانات کو کھولنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اسی مناسبت سے ہمیں اقتصادی تعاون تنظیم کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے مقاصد کو پورا کر سکے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم کا خطہ وسیع جغرافیائی خطے اور تجارتی و معاشی نظاموں کے انضمام کے لیے قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کی وجہ سے زبردست مواقع کا حامل ہے، بطور بانی رکن پاکستان اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کو کثیر الجہتی مصروفیت کے ذریعے رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک مفید پلیٹ فارم سمجھتا ہے۔
ایکو وژن 2025 کے حصول کے لیے پاکستان مربوط اور موثر نقل و حمل کے راستوں کے ذریعے علاقائی رابطہ کاری کے مقاصد کو آگے بڑھانے کی اپنی کوششوں میں ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 29 ویں ای سی او سی او ایم کا مرکزی موضوع "علاقائی نقل و حمل کی رابطہ کاری اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانا” بروقت اقدام ہے اور ای سی او کے وژن کے مطابق ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے کثیر الجہت نقل و حمل کے راستوں کو اپنی ترقیاتی حکمت عملی کا محور بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے راستے ہماری قومی ترقی کا ایک اہم ستون ہے جو خطے کے اندر علاقائی انضمام کی بنیاد ہیں جس میں سڑک، ریل، بحری، ہوائی اور دیگر نیٹ ورکس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی نقل و حمل کی پالیسی کے ہم آہنگ ہوتے ہوئے ہم فریم ورکس کی ازسرنو تجدید کر رہے ہیں، کسٹم کے طریقہ کار کو ہم آہنگ بنا رہے ہیں اور بین الاقوامی نقل و حمل کے کنونشنز بشمول ٹی آئی آر سسٹم کو اپنا رہے ہیں تاکہ پاکستان اور دیگر ای سی او رکن ممالک کے درمیان سامان اور لوگوں کی نقل و حمل کو بلا روک ٹوک جاری رکھا جا سکے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنے نقل و حمل کے نظاموں کو دیگر ای سی او رکن ممالک کے نظاموں کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا ہے تاکہ علاقائی انضمام کو بلا روک ٹوک یقینی بنایا جا سکے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اسلام آباد-تہران-استنبول ریل راہداری کو مکمل طور پر فعال بنانے کے خواہش مند ہیں اور اس کے جلد احیاء کے لیے ایران اور ترکی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، ہم یوریشین ملٹی ماڈل سے بھی منسلک ہو چکے ہیں جس سے ہماری بندرگاہیں یوریشیائی ہارٹ لینڈ سے منسلک ہو رہے ہیں اور ہم ازبکستان سے افغانستان کے راستے پاکستان تک ریل راستوں کے قیام کے بھی منتظر ہیں جو وسط ایشیائی خطے کو انتہائی مطلوبہ ٹرانزٹ کے مواقع فراہم کریں گے اور ترقی اور علاقائی استحکام کو فروغ دیں گے۔
ناب وزیراعظم نے کہا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں، علاقائی نقل و حمل کے وزراء کی کانفرنس اکتوبر 2025ء میں اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ دو درجن سے زائد ممالک اور بڑی بین الاقوامی تنظیموں بشمول ای سی او سیکرٹریٹ کے وزراء اور سینئر اہلکار "علاقائی رابط کاری: خطے کے لیے مواقع” کے موضوع پر غور و خوض کے لیے جمع ہوئے۔ اس کانفرنس نے ہمیں حکمت عملیاں تشکیل دینے، ترجیحی راستوں کی نشاندہی کرنے اور سڑک، ریل، بحری اور ڈیجیٹل نقل و حمل کے نظاموں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے قابل بنایا۔ اس نے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور چین کو جوڑنے والے پل کے طور پر پاکستان کے کردار کو مضبوط کیا۔ رابطہ کاری ہمیں یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اپنی جغرافیائی حیثیت کو پورے خطے کے لیے ترقی کے انجن میں بدل سکیں۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے کہ 14 اگست 2024ء سے پاکستان نے 126 ممالک کے لیے کاروبار اور سیاحت کے مقاصد کے لیے "ویزا پریئر ٹو ارائیول” سسٹم متعارف کرواتے ہوئے ایک آزاد ویزا پالیسی نافذ کی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمارے علاقائی شراکت داروں کے تاجر، کارکن اور سیاح اس سہولت سے استفادہ کر رہے ہیں جو عوام کے عوام سے رابطے کے ہمارے عزم کا عکاسی ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ مذکورہ کوششوں کے باوجود ہم سب کو اس بات کا اعتراف کرنے کی ضرورت ہے کہ ای سی او علاقائی ممالک کے درمیان نقل و حمل اور ٹرانزٹ تجارت کی پائیداری کو بہتر بنانے کے لیے ابھی بھی قابل ذکر صلاحیت موجود ہے۔ اپنے خطے کی زبردست صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کے لیے ہمیں درج ذیل چار کلیدی شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ فریم ورک معاہدے (ٹی ٹی ایف اے) کے مکمل نفاذ، ہم آہنگ ملٹی ماڈل نقل و حمل کے نیٹ ورک کی ترقی،صلاحیت کی تعمیر اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے کسٹم اور سرحدی طریقہ کار کو آسان بنانا اور ہم آہنگ کرنا اور ہماری بین الاقوامی ماحولیاتی ذمہ داریوں کے مطابق پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف نقل و حمل کے نظام کا فروغ ناگزیر ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایک نئی سب میرین کیبل سسٹم کی تعیناتی کے ساتھ اپنی ڈیجیٹل رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے لئے مصروف عمل ہے جس کے تحت پاکستان کو کل 13.2 ٹی بی پی ایس بینڈوتھ مختص کی گئی ہے جو کلائوڈ سروسز، ڈیٹا سینٹرز، فن ٹیک، ای کامرس، سٹریمنگ اور وسیع تر ڈیجیٹل اکانومی کے لیے تعاون بڑھا رہی ہے۔ ہم ایک ڈیجیٹل راستے کی ترقی کے ذریعے دیگر ای سی او رکن ممالک کے ساتھ اس اقدام کے فوائد شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی رابطہ کاری کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے امن و سلامتی کا ماحول پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ علاقائی رابطہ کاری کے ای سی او وژن کے لیے رکن ممالک کی اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے خطے کو درپیش سنگین سلامتی کے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ ای سی او رکن ممالک کو خطے میں اقتصادی تعاون کی مضبوط بنیاد رکھنے کے لیے دہشت گردی کا اجتماعی طور پر مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس مشترکہ خطرے پر موثر طریقے سے قابو پائے بغیر بلا روک ٹوک علاقائی رابطہ کاری کے ہمارے خواب ایک چیلنج ہی بنے رہیں گے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کے حصول میں دہشت گردی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی بھی علاقائی رابطہ کاری کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں گرین انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر کے، ابتدائی انتباہی نظاموں کو بہتر بنا کر اور ایسی علاقائی موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھلنے کی حکمت عملیوں کو فروغ دے کر موسمیاتی لچک کو اپنے اقتصادی تعاون کے نظام میں شامل کرنا ہوگا جو ہماری مشترکہ مستقبل کے لئے مددگار ہوں۔ انہوں نے آخر میں لاہور کو سال 2027ء کے لیے ایک سی او ٹورزم کیپٹل قرار دینے میں پاکستان کی حمایت کے لیے تمام رکن ممالک کا ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ لاہور پاکستان کا ثقافتی دل، ان تمام مہمانوں کا دل کھول کر استقبال کرے گا جو ہمارے ہاں تشریف لائیں گے۔
انہوں نے تمام شرکا کو دورے کی بھرپور دعوت بھی دیتے ہوئے کہا کہ ہم اگلے سال ای سی او سی او ایم کے 30 ویں اجلاس کے لیے آپ سب کا پاکستان میں خیرمقدم کے منتظر ہیں، آئیے مل کر تمام چیلنجز پر قابو پانے اور اپنے پورے خطے اور اس سے آگے امن، ترقی اور خوشحالی کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں۔








