اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ علاقائی تجارت کے لیے 18 ممالک کے درمیان چینی کرنسی کے استعمال تجویز قابل عمل ہے اور اس سے تمام متعلقہ ممالک کو فائدہ ہو گا۔ اتوار کو یہاں مسلم خان بونیری کی قیادت میں صنعتکاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین یوآن کے کے …
علاقائی تجارت کے لیے 18 ممالک کے درمیان چینی کرنسی کے استعمال تجویز قابل عمل ہے ، صدر سارک چیمبر افتخار علی ملک
اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ علاقائی تجارت کے لیے 18 ممالک کے درمیان چینی کرنسی کے استعمال تجویز قابل عمل ہے اور اس سے تمام متعلقہ ممالک کو فائدہ ہو گا۔ اتوار کو یہاں مسلم خان بونیری کی قیادت میں صنعتکاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین یوآن کے کے عالمی کرنسی کے طور پر کردار کو فروغ دینے کیلئے اس کے بین الاقوامی استعمال کو فروغ دے رہا ہے۔ چین نے مختلف ممالک کے ساتھ دوطرفہ کرنسی کے تبادلے کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جس سے امریکی ڈالر اور دیگر کرنسیوں پر انحصار کرنے کے بجائے یوآن میں براہ راست تجارت اور سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی ہے۔
مزید برآں چین نے دنیا کے کئی شہروں میں آف شور یوآن کلیئرنگ سنٹرز قائم کیے ہیں تاکہ بین الاقوامی کاروباری ادارے یوآن میں لین دین کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تجارت کے معاملے میں چین پڑوسی ممالک اور خطوں کے ساتھ اقتصادی تعاون اور تجارتی معاہدوں کو فروغ دے رہا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کا مقصد چین اور ایشیا، یورپ و افریقی ممالک کے درمیان روابط اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس انیشیٹو کے ایک حصے کے طور پر یوآن میں تجارتی لین دین کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ بی آر آئی کے روٹ پر تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنایا جا سکے۔
افتخار علی ملک نے کہا کہ 18 ممالک کے درمیان علاقائی تجارت کے لیے یوآن کی قبولیت کا انحصار مختلف عوامل پر ہوگا جن میں ان ممالک کے اقتصادی تعلقات، تجارتی حجم اور پالیسی فیصلے شامل ہیں۔ ان ممالک کے ساتھ دو طرفہ معاہدے، کرنسی کے تبادلے کے انتظامات، یا اپنے تجارتی لین دین میں یوآن کو قبول اور استعمال کرنے پر آمادگی بھی ضروری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یوآن کا بین الاقوامی سطح پر استعمال اور قبولیت ایک بتدریج عمل ہے اور اس کے لیے بنیادی ڈھانچے کی مزید ترقی، پالیسی ایڈجسٹمنٹ اور کرنسی میں مارکیٹ کے اعتماد کی ضرورت ہو گی۔









