علامہ اقبال کا پیغام پوری انسانیت کیلئے ہے ،ہمیں ان کے افکار و تعلیمات سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے، اورنگزیب خان کھچی

اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ علامہ محمد اقبال کے افکار اور فلسفہ آج کے دور میں بھی انتہائی اہم اور قابل رہنمائی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم اقبال کے موقع پر نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ (این ایل پی ڈی) کے زیر اہتمام منعقدہ قومی کانفرنس ’’فکر اقبال: دور حاضر میں ضرورت و اہمیت‘‘ …

اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ علامہ محمد اقبال کے افکار اور فلسفہ آج کے دور میں بھی انتہائی اہم اور قابل رہنمائی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم اقبال کے موقع پر نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ (این ایل پی ڈی) کے زیر اہتمام منعقدہ قومی کانفرنس ’’فکر اقبال: دور حاضر میں ضرورت و اہمیت‘‘ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ آج کی نوجوان نسل بڑی حد تک علامہ اقبال کے فلسفے، وژن اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی جدوجہد سے ناواقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کا پیغام صرف ہمارے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے اور ہمیں ان کے افکار و تعلیمات سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔

اورنگزیب خان کھچی نے مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ جیسے اداروں کے استحکام اور فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں اور انہی کی کاوشوں کے باعث یہ ادارے آج بھی اپنا موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے ڈائریکٹر جنرل این ایل پی ڈی سے درخواست کی کہ ادبی اداروں اور جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ اقبال کے وژن کی روشنی میں زبان، ثقافت اور ورثے کے تحفظ کے لیے رہنمائی اور تجاویز حاصل کی جا سکیں۔ وفاقی وزیر نے اس ضمن میں اپنی وزارت کی مکمل معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ پنجاب حکومت کو ایک خط ارسال کیا گیا ہے جس میں سکولوں کے بچوں کو تاریخی مقامات، ادبی مراکز، عجائب گھروں اور ثقافتی مقامات کے مطالعاتی دوروں کا اہتمام کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ نوجوانوں میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ قومی زبان، ثقافت اور ورثے کا تحفظ ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کانفرنس میں شرکت کی دعوت اور صدارت کا موقع فراہم کرنے پر ڈائریکٹر جنرل این ایل پی ڈی کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر نے استقبالیہ خطاب کیا۔ انہوں نے معزز مہمانوں اور شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس قومی کانفرنس کے انعقاد کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کو بیدار کرنے اور الگ وطن کی جدوجہد کے لیے تیار کرنے میں علامہ اقبال کے کلیدی کردار کو اجاگر کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقبال کے افکار پوری امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو جذبہ، خودی، آزادی اور امید کا پیغام دیتے ہیں اور آج بھی ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سلیم مظہر نے یوم اقبال کے حوالے سے 10 دسمبر کو منعقدہ مقابلے میں پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دی اور ججز و اساتذہ کی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے عسکری بینک لمیٹڈ اور وزارت قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے ڈائریکٹر جنرل این ایل پی ڈی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر ایران اور پاکستان میں بالخصوص ثقافتی شعبے میں ایک معروف اور قابل احترام شخصیت ہیں جن کی ذات ثقافتی ترقی کے لیے باعث خیر ہے۔

انہوں نے پاکستانی عوام کی ثقافتی خدمات کو بھی سراہا۔ایرانی سفیر نے کہا کہ علامہ اقبال، قائداعظم محمد علی جناح، شیخ سعدی اور دیگر عظیم شخصیات ہمارے لیے رول ماڈل اور رہنمائی کا ذریعہ ہیں اور جو معاشرہ اپنے رہنمائوں کو فراموش کر دے اس کا مستقبل روشن نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کو ہمیشہ ایک عظیم شاعر، فلسفی، مجاہد آزادی اور انقلابی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر ’’قلم اقبال‘‘ کے عنوان سے 10 دسمبر کو منعقدہ مقابلے میں پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والے آٹھ طلبہ میں نقد انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ مقابلے میں شریک تمام طلبہ کو بھی اسناد دی گئیں۔