عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی کادورہ پاکستان،دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کااعادہ
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی کادورہ پاکستان،دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کااعادہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):سلطنتِ عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی کے پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کو اجاگر کیاگیاہے۔بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ کے دفترِ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر سلطنتِ عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے 13 سے 14 اکتوبر کے دوران پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔دورے کے دوران عمانی وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کیے، وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کی اور وزارتِ خارجہ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے ہمراہ پاکستان۔عمان مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے آٹھویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے دوران دونوں جانب سے دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس سلسلے میں تجارت و سرمایہ کاری، بحری و لاجسٹکس رابطوں، زراعت، صنعت، توانائی، افرادی قوت کی نقل و حرکت، انسانی وسائل کی ترقی، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ذرائع ابلاغ اور موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون پر خصوصی توجہ دی گئی۔دونوں رہنماؤں نے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے، افرادی قوت کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے کاروباری وفود کے باہمی دوروں کی حوصلہ افزائی کی اہمیت پر زور دیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے عمان کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت کواجاگر کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ان قریبی روابط کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے۔
انہوں نے تمام طے شدہ فیصلوں پر تیزی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا اور اس مقصد کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کے ذریعے باقاعدہ روابط اور مسلسل پیش رفت کا جائزہ لینے کی اہمیت اجاگر کی۔عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے گرمجوشی اور مہمان نوازی پر اظہارِ تشکر کیا، علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرپا شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے عمان کی ترقی اور خوشحالی میں پاکستانی برادری کی قابلِ قدر خدمات کا بھی اعتراف کیا۔مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے پانچ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ ان میں سفارتی، خصوصی، سرکاری اور سروس پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی ویزا استثنیٰ، ریکارڈ و آرکائیوز، ذرائع ابلاغ میں تعاون، مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خبروں کے تبادلے سے متعلق معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کی کارروائی کو باضابطہ شکل دینے والے پروٹوکول پر بھی دستخط کیے گئے۔
دستاویزات کے تبادلے کی تقریب وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوئی، جس کا مشاہدہ وزیراعظم پاکستان نے کیا۔ دونوں ممالک نے مشترکہ وزارتی کمیشن کا نواں اجلاس آئندہ سال مسقط میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں جانب سے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کے امور زیرِ بحث آئے۔ عمانی وزیر خارجہ نے علاقائی صورتِ حال سے متعلق اپنے ملک کے مؤقف کی وضاحت کی اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتِ حال کے تناظر میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کی جانے والی کوششیں بھی شامل ہیں۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے فلسطین، بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کو اجاگر کیا۔ انہوں نے عمانی وزیر خارجہ کو سندھ طاس معاہدے کے بارے میں پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدے کو غیر مؤثر قرار دینے کا فیصلہ بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر، قانونی طور پر پابند اور مکمل طور پر نافذالعمل ہے۔عمان کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ پاکستان اور عمان کے درمیان دیرینہ دوستی اور برادرانہ تعلقات کی مضبوطی کا اعادہ ہے۔ اس دورے نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کو بھی اجاگر کیا۔








